راجوری//حکام نے پونچھ قبرستان میں ایک بوسیدہ نعش کی قبر کشائی کی ہے جو شائد وادی سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان کی ہوسکتی ہے جس کی گمشدگی کے بارے میں رپورٹ بھی درج کی گئی ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق انتیس مئی کو چکاں داباغ کے نزدیک دریا سے ایک بوسیدہ نعش برآمد ہوئی جس کو پولیس نے قانونی لوازمات پورے کرنے کے بعد دفن کردیاگیا۔ پولیس نے بتایاکہ نعش کو بہتر گھنٹوں تک ضلع ہسپتال رکھاگیاتاہم کسی نے بھی اس کا دعویٰ نہیں کیاجبکہ اس حوالے سے سوشل میڈیا میں بھی اطلاع دی گئی جس کے بعد اسے اوقاف اسلامیہ کے حوالے کردیاگیا۔اس سلسلے میں پولیس نے دفعہ 174کے تحت کیس درج کرکے تحقیقات شروع کی جس دوران یہ بات سامنے آئی کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والا ایک نوجوان پچھلے کچھ عرصہ سے پونچھ سے لاپتہ ہے جس کی گمشدگی کی رپورٹ پچیس مئی کو پولیس اسٹیشن پونچھ میں درج کروائی گئی۔یہ درج شکایت پونچھ کے ایک مقامی نوجوان کی طرف سے درج کروائی گئی جس کے مطابق اس کا دوست عبیداللہ ولد عبدالحمید ساکن سرینگر اس کے گھر آیاتھا جو پراسرار طور پرلاپتہ ہوگیا۔ابتدائی طور پر نوجوان کے والد کو سرینگر سے پونچھ بلایاگیا تاہم اس نے کہاکہ یہ اس کے بیٹے کی نعش نہیں۔تاہم پولیس کو برابر یہ شبہ رہا کہ شائد یہ نعش اسی لاپتہ نوجوان کی ہوجس پر اس نوجوان کی والدہ کو بلایاگیاجس نے اس سے تعلق رکھنے والے اشیاکی شناخت کی جس سے اس قیاس کو مزید تقویت ملی۔وہیں پولیس نے جمعہ کے روز ضلع مجسٹریٹ کی اجازت سے ایگزیکٹو مجسٹریٹ کی موجودگی میں کیمرے کے درمیان قبرکشائی کی اور نعش کووادی سے تعلق رکھنے والے ورثاکے حوالے کردیا۔ایڈیشنل ایس پی پونچھ انوار الحق نے بتایاکہ نعش اور متعلقہ خاندان کے ڈی این اے نمونے حاصل کرکے شناخت کیلئے لیبارٹری بھیجے گئے ہیں۔انہوں نے کہاکہ نوجوان کی والدہ نے کچھ چیزیں پہچان لیں جس کے بعد ضلع مجسٹریٹ کی اجازت سے قبر کشائی کی گئی۔انہوں نے بتایاکہ پولیس کو کچھ ایسے شواہد بھی ملے ہیں جن سے ان شکوک کو تقویت ملتی ہے کہ یہ نعش وادی سے تعلق رکھنے والے اسی نوجوان کی ہوگی جو لاپتہ ہوا۔دریں اثنایہ معلوم ہواہے کہ لاپتہ نوجوان بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی میں کام کرتارہاہے تاہم وہ لاپتہ ہونے کے وقت یونیورسٹی کا حصہ نہیں تھا۔