جموں//ریاست کے سیاسی مسائل کو حل کئے جانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے نیشنل کانفرنس کے صوبائی صدر دیویندر سنگھ رانا نے کہا کہ ریاست کے تینوں خطوں کو علاقائی خود مختاری دے کر ہی لوگوں میں پیدا ہو رہی بے چینی کو ختم کیا جا سکتا ہے ۔حلقہ انتخاب نگروٹہ میں پارٹی کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے رانا نے کہا کہ آئینِ ہند کے تحت ریاست کو اٹانومی اور جموں، کشمیر و لداخ کو ریجنل اٹانومی ہی واحد متبادل ہے ۔انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس ریاست میں دائمی امن کے قیام کے لئے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے لیکن مرکز کو بھی کھلے ذہن سے آگے بڑھنا چاہئے۔ انہو ں نے کہا کہ ریاستی اور علاقائی اٹانومی نہ صرف علاحدگی پسندوں بلکہ ریاست کی تقسیم کی وکالت کرنے والوں کے لئے بھی کرارا جواب ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہی ایک طریقہ ہے جس سے ریاست کے تینوں خطوں کی سیاسی، معاشی ، ترقیاتی اور نفسیاتی امنگوں کو پورا کیا جا سکتا ہے ۔ انہوں نے جموں اور کشمیر کے لوگوں میں جغرافیائی و فرقہ وارانہ بنیادوں پر تقسیم کرنے کی سازشوں کو تشویش کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ کوششیں ریاست کی سالمیت کے لئے خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں۔ رانا نے کہا کہ ریاستی اسمبلی کی طرف سے پاس کردہ اٹانومی ریزولیوشن مرکز کے پاس پڑا ہوا ہے جس پر کوئی پیش رفت نہ ہونے کی وجہ سے ریجنل اٹانومی کے منصوبہ کو عملی جامہ نہیں پہنایا جا سکا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس دستاویز میں صوبائی اور ضلع سطح پر نظام کو با اختیار بنانے کا اہتمام رکھا گیا ہے اس طرح لداخ خود مختار ہل ڈیولپمنٹ کونسل کی طرز پر اقتدار زمینی سطح پر منتقل کر دیا جائے گا۔ریجنل اٹانومی اور ڈسٹرکٹ کونسلوں کے قیام سے لوگوں میں امتیاز کا احساس ختم ہو جائے گا، لوگوں کو فیصلہ سازی میں شریک کر کے ترقیاتی منظر نامے میں تبدیلی لائی جا سکے گی۔ موجودہ مخلوط سرکار کو ہر محاذ پر ناکام قرار دیتے ہوئے این سی لیڈر نے کہا کہ لوگوں کو بنیادی ضروریات زندگی بھی دستیاب نہیں ہیں ، یہاں تک بجلی اور پانی کا بھی بحران پیدا ہو گیا ہے ۔