جموں//ایم جی نریگا کے تحت کام کرنے والے ملازمین نے ایڈمنسٹریٹو ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے جاری ایک حکم نامے پر سخت برہمی کا اظہارکرتے ہوئے زبردست احتجاج کرنے اور عدالت کارخ اختیا رکرنے کا انتباہ دیاہے۔نریگا یونین کی طرف سے اخبارات کے نام جاری ایک بیان کے مطابق محکمہ کی انچارج سیکریٹری کی طرف سے ایک حکم نامہ جاری کیاگیاہے جس میں بتایاگیاکہ نریگا ملازمین کی ملازمت میں ہر سال کے بعد توسیع ان کی کارکردگی کی بنیاد پر ہوگی جو ان کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کرنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہاکہ اس حکم نامے نے چند برس قبل جاری ہوئے اْس حکم نامے کی ہیئت کو بھی تبدیل کردیاہے جس میں کہا گیا تھا کہ توسیع کا عمل خود بخود انجام پائے گا۔نریگا یونین کاکہناہے کہ وہ پچھلے دس دس برسوں سے محکمہ میں کام کررہے ہیں اور ان کی وجہ سے ریاست کا نام نریگا کے میدان میں پورے ملک میں روشن ہے لیکن کوئی جاب پالیسی مرتب کرکے ان کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے بجائے ایڈمنسٹریٹو محکمہ کی طرف سے ان کو اس عارضی ملازمت سے ہی فارغ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ان کاکہناہے کہ اس حکمنامے کے مطابق یہ بلاک ڈیولپمنٹ آفیسران پر منحصر ہوگاکہ کس ملازم کو توسیع ملے گی اور کس کو نہیں۔انہوں نے الزام عائد کیاکہ یہ انہیں خاموش کرنے کے مقصد سے حراساں کرنے کی ایک کوشش ہے تاکہ ہمیں اپنے مطالبات سے دستبردار ہونے پر مجبور کیاجائیکیونکہ حکام نے جنوری میں جموں میں کی گئی ہڑتال کے دوران یہ یقین دلایاتھاکہ اگر وہ زمینی سطح پر کام میں مزید بہتری دکھائیں گے تو ان کے تمام مطالبات پورے کئے جائیں گے جس کے بعد انہوں نے محنت اور لگن سے کام کرتے ہوئے انہوں نے نمایاں کارکردگی پیش کی تاہم مطالبات پورے کرنے کے بعداب ان سے کارکردگی رپورٹ مانگی جارہی ہے جوافسوسناک بات ہے۔نریگا یونین کاکہناہے کہ انہیں کام چھوڑ کر احتجاج کرنے کیلئے مجبور کیاجارہاہے اور اگر اس حکمنامے کومنسوخ نہیں کیاگیا تو وہ نہ صرف ریاست گیر احتجاج کریں گے بلکہ عدالت کا رخ بھی کریں گے۔انہوں نے کہاکہ اس حکمنامہ پر پانچ ہزار نریگا ملازمین خاموش نہیں بیٹھیں گے اور نہ ہی وہ اتنے برسوں تک محنت سے کام کرنے کے بعد اپنے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ ہونے دیں گے۔انہوں نے محکمہ کے وزیر سے اپیل کی کہ وہ اس سلسلے میں ذاتی طور پر مداخلت کریں اور حکمنامہ واپس کیاجائے نہیں تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔نریگا ایسو سی ایشن جموں کے ترجمان اعلیٰ طارق زارا نے کہاکہ یہ مستقبل کے ساتھ کھلواڑ ہے جس پر وہ خاموش نہیں بیٹھیں گے اور احتجاج کا راستہ اختیا رکیاجائے گا۔