جموں//نیشنل پنتھرس پارٹی کے سرپرست اعلی اور اسٹیٹ لیگل ایڈ کمیٹی ایکزیکیوٹیو پروفیسربھیم سنگھ نے پارٹی کے سینئر لیڈروں کی ٹیم کے ساتھ سانبہ ضلع، کٹھوعہ (ہیرانگر) کے کئی سرحدی گاووں کا دورہ کیا تاکہ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران پاکستانی گولہ باری سے مقامی لوگوں کو ہونے والی پریشانیوں کو فوری طورپر حل کیا جاسکے۔یہ ان کی ٹیم کے دورہ کا تیسرا دن ہے ۔ اس سے پہلے وہ اور ان کی ٹیم بنگلارڈ، کنگوالا، سچیت گڑھ، کلیان، سدوہ، لونڈی، رائے پور، شیر پور اور دیگر گاووں کا دورہ کرچکی ہے جہاں ہزاروں لوگوں کو بھاری گولہ باری کے سبب اپنے گھروں کو چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔پروفیسر بھیم سنگھ نے کہاکہ وہ متاثرہ علاقوں کی موجودہ صورتحال کے تعلق سے اپنے دورہ کی رپورٹ جمع کریں گے اور پاکستانی فوج کی فائرنگ اور گولہ باری سے ہلاک ہونے والوں کے کنبوں کے لواحقین کو دس دس لاکھ روپے معاوضہ دینے کا مطالبہ کریں گے۔انہوں نے ریاستی حکومت کے لوگوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہنے کے پورے معاملہ کی تفتیش کرائے جانے کا بھی مطالبہ کیا۔ پروفیسر بھیم سنگھ نے ریاستی حکومت پر 2002میں کل جماعتی میٹنگ کے اعلانیہ، جس پر مسٹر غلام بنی آزاد، مسٹر مفتی محمد سعید، مسٹر ایم وائی تریگامی اور پروفیسر بھیم سنگھ کے دستخط ہیں، سے انحراف کا الزام لگایا ۔انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت نے مشترکہ اعلانیہ کو نافذ کرنے سے انکار کرکے لوگوں کو دھوکہ دیا ہے۔پنتھرس پارٹی کی ٹیم میں محترمہ انیتا ٹھاکر، یشپال کنڈل، راجندرسنگھ منجو، شیو چرن سنگھ، راجیشور سنگھ سامبیال، یشپال شرن، نیتو شرما، اپوسنگھ اور دیگر سینئر لیڈر شامل ہیں۔