مینڈھر//مینڈھر کے چھجلہ و گوہلدعلاقوں سے تعلق رکھنے والے دودھی گوجر قبیلوں کے لوگوں نے پولیس کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ لوگ ہمیشہ کشمیر اپنی ڈھوکوں میں جاتے ہیں جس کے لئے انہیں متعلقہ تحصیل آفیسران سے ایک پرمٹ بھی بنانا ہوتا ہے جس کے تحت وہ اپنامال مویشی لے کر ہمیشہ ڈھوک جاتے ہیں تاہم اس پرمٹ کے باوجود پولیس کی طرف سے انہیں تنگ طلب کیاجارہاہے۔انہوں نے سب ڈویڑن سرنکوٹ سے وابستہ بہرام گلا چوکی پر تعینات آفیسران پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ وہ لوگوں کو تنگ کر رہے ہیں اور جاتے وقت لوگوں سے زبردستی پیسے لوٹتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ پیسے لوٹنے کے ساتھ ساتھ مار پٹائی بھی کی جا رہی ہیاور رات بھر وہاں پر تنگ کیا جا تا ہے۔عابدہ بیگم دختر مندو سکنہ گوہلد نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ وہ آٹھ جون کو اپنا مال مویشی لے کر کشمیر جا رہے تھے جب بہرام گلا کے مقام پر انہیں روکا گیا اور پولیس نے ہم سے کاغذات پوچھتے ہی کہا کہ چوکی پر چلو اور وہاں پر اپنے کاغذات درج کراؤ جس کے بعد کئی گھنٹوں تک جب پولیس چوکی پر جانے والے لوگ واپس نہیں آئے تو وہ بھی چوکی پر چلے گئے جہاں ان کی مار پٹائی کی جا رہی تھی اورانہیں بھی پولیس نے پکڑ کر مار اپیٹاجبکہ اس کے لڑکے کو بھی خوب مارا۔انہوں نے کہاکہ اس کے بعد انہوں نے شور شرابا کیا تو رات کے وقت کافی تعداد میں وہاں پر لوگ جمع ہو گئے جس کے بعد پولیس نے مندو اورعالم دین کو چھوڑا۔اس نے مزید الزام عائد کیا کہ اس کے لڑکے سے ایک ہزار روپے اور اس کے بھائی سے چودہ ہزار روپے پولیس نے چھین لئے۔اس نے بتایاکہ اس واقعہ کے بعد وہ پیر گلی کی طرف نہیں جائیں گے بلکہ واپس مینڈھر کی طرف جائیں گے کیونکہ پولیس کی طرف سے انہیں تنگ کیاجارہاہے۔اس خاتون کاکہناہے کہ وہ فریاد لیکر ایس ایس پی دفتر پونچھ بھی گئی لیکن وہاں پر اسے ایس ایس پی صاحب نہیں ملے۔ اس کا کہنا تھا کہ وہ واپس آ کر سرنکوٹ پولیس سٹیشن گئی لیکن اسیوہاں پر ڈی ایس پی نہیں ملا اوروہ انصاف کی متلاشی ہے۔ٹرائبل یونین کے راجوری پونچھ کے صدر عبد العزیز نے بات کرتے ہوئے کہا کہ بہرام گلا پر خانہ بدوش لوگوں کو ناجائز طور پر تنگ کیا جا رہا ہے اور ان سے پیسے وصول کئے جاتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ کشمیر ابھی ہندوستان کا حصہ ہے اورلوگ کاغذات دکھا کر آرام سے اپنی ڈھوکوں میں جا سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کشمیر ابھی پاکستان نہیں بنا ہے کہ انہیں سرکار کی طرف سے الاٹ شدہ ڈھوکوں میں نہیں جانے دیا جا رہا اور ان کیساتھ زیادتی کی جا رہی ہے۔ان کاکہناہے کہ ان ہر سال موسمی حالات کی وجہ سے بڑے پیمانے پر نقصان ہوتاہے لیکن حکومت کی طرف سے کوئی امداد نہیں ملتی اور اب پولیس نے تنگ طلب کرناشروع کردیاہے جو حد درجہ کی ناانصافی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ مغل شاہراہ پر شیڈ تعمیر کرنے کا وعدہ بھی پورا نہیں ہوا۔ انہوں نے ضلع انتظامیہ سے اپیل کی کہ بہرام گلا چوکی آفیسر کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جا ئے جو بلاوجہ خانہ بدوشوں کوتنگ طلب کرتے ہیں۔ اس سلسلہ میں جب ایس ایچ او سرنکوٹ سے بات ہوئی تو ان کا کہنا تھا کہ وہ چھٹی پر تھے لہٰذا انہیں واقعہ کا معلوم نہیں البتہ وہ انکوائری کروائیں گے۔انہوں نے بتایاکہ اس سلسلے میں ان کی بات ایڈیشنل ایس پی سے ہوئی ہے جنہوں نے تحقیقات کی یقین دہانی دلاتے ہوئے متعلقہ لوگوں کو اپنے پاس بلایاہے تاکہ کارروائی کی جاسکے۔