جموں// عید الفطر کے سلسلے میں خطہ جموں بالخصوص سرمائی دارالحکومت سرجموں کے تمام بازاروں میں جمعرات کو گاہکوں کی ایک غیرمعمولی بھیڑ امڈ آئی جن کو صبح سے ہی ،ٹوپیاں،سلوارقمیض،دیگرملبوسات کے ساتھ ساتھ بیکری دکانوں پر مختلف بیکری و مٹھائی مصنوعات، مٹن کی دکانوں پر گوشت اور دودھ کی دکانوں پر دودھ کے مصنوعات بشمول پنیر کی خریداری میں مصروف دیکھا گیا۔ اس کے علاوہ کرایانہ ، پھل، سبزی اور ریڈی میڈ گارمنٹس کی دکانیں پر بھی لوگوں کو بڑی تعداد میں خریداری میں مصروف دیکھا گیا۔ بیشتر بیکری و مٹھائی، مٹن، چکن اور دودھ دہی کی دکانوں پر لوگ قطاروں میں کھڑے ہوکر اپنی باری کا انتظار کرتے ہوئے نظر آئے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مقامی لوگوں کی ایک اچھی خاصی تعداد مقامی بیکری پر ملک کی دوسری ریاستوں بالخصوص جنوبی بھارت کے شہر حیدرآباد سے درآمد کی جانے والی بیکری مصنوعات کو ترجیح دے رہے ہیں۔ جموں کے بازاروںمیں عیدالفطر سے قبل عورتوں کو پاکستان سے درآمد کئے جانے والے کاٹن کے رنگ برنگے کپڑوں کی خریداری میں مصروف دیکھا گیا۔ اس دوران گاہکوں نے الزام لگایا کہ بازاروں میں گاہکوں کے رش کو دیکھتے ہوئے منافع خوروں کی من مانیاں عروج پر پہنچ چکی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مٹن، چکن، پھل اور بیکری فروش گاہکوں سے اپنی مرضی کی قیمتیں وصول رہے ہیں۔گاہکوں نے الزام لگایا کہ عیدالفطر کے پیش نظر بیکری فروشوں نے بیکری مصنوعات کی قیمتوں میں بھاری اضافہ کردیا ہے۔ گاہکوں کی شکایت ہے کہ بازاروں میں اشیاء کی قیمتوں کی چیکنگ میں انتظامیہ کی غفلت ہی اصل میں دکانداروں کی من مانی کی وجہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دکاندار انتظامیہ کی جانب سے مقرر کردہ ریٹوں کو بالائے طارق رکھ رہے ہیں۔ رپورٹوں کے مطابق گذشتہ چند روز کے دوران جموں میں مختلف بینکوں کی اے ٹی ایم مشینوں سے لاکھوں روپے کی نقدی نکالی گئی۔