جموں//گوجربکروال طبقہ کے لوگوں نے ریاستی حکومت سے قبائلی طبقوں کیلئے ان کی خانہ بدوشی طرززندگی کومدنظررکھتے ہوئے منفردتعلیمی سکیمیں شروع کرنے کامطالبہ کیاہے ان خیالات کااظہار یہاں ٹرائبل ریسرچ اینڈٹرائبل فائونڈیشن کی جانب سے ’’الیٹریسی ۔گوجرس ۔بکروالس ‘‘موضو ع سے متعلق منعقدہ ایک پروگرام کے دوران گوجراسکالر ڈاکٹرجاویدراہی نے کیا۔جاویدراہی نے صدارتی خطاب میں مردم شماری 2011کے اعدادوشمارپرتشویش کااظہارکیاجس میں بتایاگیاہے کہ ہردس گوجروں میں سے 7 افرادناخواندہ ہیں۔ انہوں نے کہاکہ یہ ایک قابل تشویش بات ہے۔ انہوں نے کہاکہ گوجربکروال طبقہ کی خواتین میں خواندگی کی شرح نہایت افسوس ناک ہے۔انہوں نے کہاکہ رجسٹرارجنرل آف انڈیاکے پاس درج اعدادوشمارکے مطابق 82.2گوجربکروال خواندگی ناخواندہ ہیں۔انہوں نے کہاکہ صرف منفردتعلیمی سکیمیں ہی گوجربکروال طبقہ میں خواندگی کی شرح بہتربنانے میں معاون ثابت ہوسکتی ہیں۔تقریب کے دوران دیگرمقررین نے بھی گوجربکروال طبقہ کی خواندگی شرح پرتشویش ظاہرکی اوران کی معاشی حالت پرتبادلہ خیال کیا۔انہوں نے گوجربکروال طبقہ میں غربت ،کم عمری کی شادی،خانہ بدوشوں کے ملبوسات اورسرحدی علاقوں میں رہنے والے گوجربکروالوں اوربچوں کوساتھ لے کرمزدوری کرنے کے مسائل پربھی اظہارخیال کیا۔انہوں نے فورسڈ سکول خانہ بدوش گوجربکروا ل بچوں کیلئے کھولنے کی تجویز پیش کی۔ انہوں نے کہاکہ خانہ بدوش طبقہ کے لوگ ہجرت کی وجہ سے بچوں کوسکولوں میں بھیج نہیں پاتے ہیں۔ مقررین میں چوہدری محمودچوہان ، کے ڈی چوہدری، رفیق کسانہ، امیرالدین، خادم قادری ودیگران شامل تھے۔