بسوہلی میں ضلع انتظامیہ کا شکایت ازالہ کیمپ منعقد
بجلی پانی کی قلت دور کرنے ، رنجیت ساگر ڈیم میں سٹیمر چلانے کی ہدایت
عظمیٰ نیوز
کٹھوعہ //اے ڈی سی بسوہلی سنجے گپتا کی صدارت میں بسوہلی میں ایک شکایت ازالہ کیمپ کا انعقاد کیا گیا جس میں تحصیلداران، بلاک ڈیولپمنٹ افسران ، ڈی ایف او، ایس ڈی پی او، ای او، ٹی ایس او، سول سوسائٹی کے ممبران اور متعدد دیگر نمائندگان موجود تھے۔ وہاں موجود لوگوں نے اپنے اپنے مسائل کے بارے میں افسران کو آگاہ کیا جس میں بجلی پانی کی قلت، خالی اسامیوں کو پر کرنا، بیت الخلائوں کی تعمیر، بی پی ایل لسٹوں کی نظر ثانی اور بن کھنڈی ماتا مندر میں شجر کاری مہم چلایا جانا شامل ہے ۔ اے ڈی سی نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ وہ ان تمام مسائل کے حل کے لئے اقدامات کریں ۔ محکموں میں خالی اسامیوں کے بارے میں اعلیٰ افسران کو مطلع کیا جائے، مون سون کے دوران شجر کاری مہم چلائی جائے جب کہ پی ایچ ای پائپوں اور بجلی ترسیلوں کی مرمت کے لئے فوری طور پر اقدامات اٹھائے جائیں ۔ سرکاری املاک پر ناجائز تجاوزات کا سنجیدہ نوٹس لیتے ہوئے ایڈیشنل ڈی سی نے منافع خوروں کی نکیل کسنے کی ضرورت پر زور دیا ۔ انہوں نے تحصیلدار ، ٹی ایس او اور ایگزیکٹو افسر پر مشتمل ایک ٹیم تشکیل دی جو دکانوں اور تجارتی مراکز کی مسلسل چیکنگ کرتی رہے گی تا کہ لوگوں کو معیاری اشیائے ضروریہ فراہم کی جا سکیں ۔ انہوں نے بلاک ڈیولپمنٹ افسران کو ہدایت دی کہ وہ ان علاقوں کا تازہ سروے کریں جہاں نجی بیت الخلاء تعمیر کئے جانے کی ضرورت ہے ، اس کے ساتھ ہی انہوں نے اٹل سیتو، بس اڈہ اور رام لیلا گرائونڈ میں ٹائلٹ کمپلیکس مکمل کرنے کی بھی ہدایت دی۔ محکمہ جنگلات پر زور دیا گیا کہ رنجیت ساگر ڈیم میں سٹیمر سروس فوری طور پر شروع کی جائے جب کہ پی ڈبلیو ڈی اور میونسپل کمیٹی کو سڑکوں کے کنارے بورڈ آویزاں کرنے کی ہدایت دی۔
ریاستی اسمبلی کو فوری طور تحلیل کیا جائے : پینتھرز پارٹی
اسمبلی حلقوں کی از سر نو حد بندی کیلئے آرڈیننس جاری کرنے کی مانگ
جموں//نیشنل پینتھرس پارٹی کے سرپرست اعلی پروفیسر بھیم سنگھ نے جموں کشمیر کے گورنر این این ووہرا سے درخواست کی کہ وہ جموں – کشمیر اسمبلی کو فوری طورپر تحلیل کرکے تمام سیاسی لوگوں انتخابی عمل میں شامل ہونے کو یقینی بنائیں اور اسمبلی کے انتخابات 2019 میں لوک سبھا انتخابات کے ساتھ کرائیں۔پینتھرس سربراہ نے گورنر سے جلد ریاست میں حد بندی کمیشن بھی قائم کرنے کی درخواست کی کیونکہ تین دہائیوں سے اسمبلی حلقوں کی حد بندی نہیں ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گورنر کو اس کا اختیار حاصل ہے کہ وہ قانون کے مطابق حدی بندی کے لئے آرڈیننس جاری کریں جس میں ہر 10 سال کے بعد حد بندی کرنے کا التزام ہو۔ ریاستی اسمبلی کے ذریعہ 2026تک کا ترمیم کیا گیا حدی قانون مکمل طورپر غیر آئینی اور غیر قانونی ہے جو جموں و کشمیر میں بنیادی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ انہوں نے پنتھرس پارٹی کے ساتھ اس آئینی تحریک میں شامل ہونے کی حریت کانفرنس سمیت تمام سیاسی پارٹیوں سے درخواست کی تاکہ چھ ماہ کے اندر حد بندی کے بنیاد پر نئے سرے سے انتخابات کرائے جا سکیں۔ انہوں نے حریت کانفرنس کے لیڈروں سے، جن میں سے کئی لیڈر اسمبلی انتخابات میں حصہ لے چکے ہیں، درخواست کی کہ وہ سیاسی عمل میں شامل ہوں، تاکہ وادی کشمیر سمیت ریاست کے تمام علاقوں کے لوگوں کو ریاستی اسمبلی میںقانونی نمائندگی مل سکے۔ انہوں نے جموں – کشمیر میں موقع پرست، اقتدار کے بھوکے اور بدعنوان عناصر پر الزام لگایا کہ وہ ریاست میں بنیادی انسانی مسائل پر کشمیر کے نوجوانوں کو گمراہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے تمام پولیس ایس پی او اور عارضی ملازمین کو مستقل کرنے کی بھی مانگ کی جو گزشتہ پانچ برسوں سے پانچ سے چھ ہزار روپے ماہانہ تنخواہ پر کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے اعلان کی کہ پنتھرس پارٹی اسے یقینی بنانے کے لئے سپریم کورٹ تک جائے گی جس سے اساتذہ، ایس پی او سمیت حکومت کے دیگر تمام عارضی ملازمین کو برابر کام کے عوض برابر تنخواہ کے اصول کے مطابق ادائیگی کی جائے۔
ایس آرٹی کے رضاکارانہ سبکدوش ملازمین کا احتجاج
بقایہ جات کی ادائیگی کے وعدوں پر عملدرآمد کا مطالبہ
عظمیٰ نیوز
جموں//محکمہ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن کے رضاکارانہ طور پر سبکدوش ہونے والے ملازمین نے آج زور دار مظاہرہ کیا ۔ ان کا مطالبہ تھا کہ ان کی طرف سے رضاکارانہ طور پر لی گئی ریٹائر منٹ کے موقعہ پر کئے گئے وعدوں کو پورا کرتے ہوئے ان کے بقایہ جات کی ادائیگی کے لئے اقدامات اٹھائے جائیں ۔والنٹیر ریٹائرڈ ایس آر ٹی سی ایمپلائز ایسو سی ایشن کے زیر اہتمام کئے گئے مظاہرہ میں مقررین نے کہا کہ ان کے ساتھ ہر بار انتظامیہ کی طرف سے وعدہ کیا جاتا رہا کہ ان کے بقایہ جات کی ادائیگی کے لئے قدم اٹھائے جائیں گے لیکن ابھی تک ایسا نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ کولا کی کئی قسطیں واجب الادا ہیں جب کہ ریٹائرمنٹ کے فوائد کی ادائیگی بھی نہیں کی گئی ہے ۔ سبکدوش ملازمین نے کہا کہ انہوں نے اپنی پوری زندگی کارپوریشن کی فلاح و بہبود کے لئے وقف کر دی لیکن اس کے باوجود ان کے مسائل کے حل کے لئے کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا ہے ۔
نگروٹہ کے دیہات میں پینے کے پانی کی شدید قلت
علاقہ کو راشٹریہ گرامین واٹر سپلائی اسکیم کے دائرہ میں لانے کی مانگ
عظمیٰ نیوز
جموں//نگروٹہ تحصیل کی اطراف و اکناف میں پینے کے پانی کی شدید قلت کے حوالے سے بحرانی صورت حال پرعلاقہ کے عوام کو بھاری مصائب کا سامنا ہے ۔ یہاں موصولہ ایک پریس ریلیز کے مطابق محکمہ صحت عامہ کی طرف سے مختلف علاقوں میں پینے کا پانی فراہم کرنے کے لئے تعمیر کئے گئے ڈگ ویلوں میںشدت کی اس گرمی اور خشک سالی کی وجہ سے پانی کی سطح نہ کے برابر ہوگئی ہے اور علاقہ کے عوام پینے کے صاف پانی کی بوند بوند کے لئے ترس رہے ہیںجس کی وجہ سے محکمہ صحت عامہ اس بحران سے نپٹنے میں صاف طور پر ناکا م نظر آرہا ہے جبکہ دوسری طرف محکمہ صحت عامہ گراوٗنڈ واٹر ڈویژن جموں کے ماتحت نگروٹہ تحصیل کے مختلف علاقوںمیں نسب کئے گئے ہینڈ پمپوں میں تکنیکی خرابیاں ہونے کی وجہ سے علاقہ میں پینے کے صاف پانی کی شدید قلت کے پیش نظر ہاہاکار مچی ہوئی ہے ۔ نگروٹہ تحصیل کے بیشتر علاقوں میں پینے کے پانی کے کنوئیں بھی خشک ہوگئے ہیںعلاقہ میں پینے کے پانی شدید قلت کے پیش نظرمحکمہ صحت عامہ نگروٹہ تحصیل کے مختلف علاقوں میں بذریعہ ٹینکر پینے کا پانی فراہم کرنے میں پوری طرح سے ناکا م ثابت ہورہا ہے کیونکہ محکمہ صحت عامہ کے طرف سے ٹینکروں کی کمی کو لیکر علاقہ کے لوگوں کو کئی کئی دنوں تک پانی فراہم نہیں ہورہاہے جس کی نسبت علاقہ کے عوام بھاری مشکلات سے دوچار ہیں ۔لوگوں نے بتایا کہ وارڈ نمبر 4میں پینے کے پانی کی شدید قلت کے مدنظر لوگوںنے نصف درجن چھوٹے ہینڈ پمپ زیر زمین پانی حاصل کرنے کی غرض سے ذاتی خرچہ پر لگائے تھے لیکن بارشیںنہ ہونے کے سبب زیر زمین پانی کی سطح میں کمی ہونے کی وجہ سے تمام ہینڈ پمپ خشک ہوگئے ہیں ۔ لوگوں نے ریاستی گورنر و محکمہ صحت عامہ کے اعلیٰ حکام سے علاقہ میںخراب پڑے ہینڈ پمپوں کو فوری طور مرمت کرنے اور علاقہ میںپانی فراہمی کویقینی بنانے کا زور دار مطالبہ کیا ہے اورعلاقہ کو خصوصی طور پر راشٹریہ گرامین واٹر سپلائی اسکیم کے دائرہ میں لانے کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے ۔