ریاسی //ضلع کے پیر پنچال پہاڑیوں کے مشکل ترین راستوں سے ہوتے ہوئے 700سے زائد یاتریوں نے کونثر ناگ کی یاترا کی۔ جس کے ساتھ ہی یاتراکامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی۔یاترا شروع ہونے کے موقعہ پر ہی سوچھ بھارت مشن کا مقصد اپنا یا گیا ۔یاترا دو راستوں سے منعقد کی گئی ۔ اصلی روٹ سے یاترا براستہ ساری اور گوری ون سے منعقد ہوئی جبکہ دوسری براستہ باگھو داس اور سید ہٹی سے منعقد کی گئی۔میں روٹ کے یاتریوں نے ساری میں رات کو قیام کیا ۔ یاتتا کو ضلع ترقیاتی کمشنر ریاسی پرسننا راما سوامی جی نے 6جولائی کو ہری جھنڈی دکھا کر روانہ کیا ۔ایس ڈی ایم مہور یاسین چودھری(آئی اے ایس) یاترا کے انچارج بنائے گئے تھے اور یاترا کے ساتھ جھیل تک گئے تھے۔پہلی مرتبہ ضلع انتظامیہ نے یاترا کے اہم پڑائو ساری میں پانی کی سپلائی فراہم کی۔واٹر سپلائی کے علاوہ ٹائلٹ کمپلیکس بھی تعمیر کئے گئے تھے ا ور محکمہ دیہی ترقیات نے سا ری سے گوری ون تک یاترا کے لئے پگڈنڈی تعمیر کی تھی۔مقامی لوگوں نے یاترا کو پورا تعاون دیا ،فوج نے ساری میں اضافی ایکموڈیشن کے لئے یاتریوں کے لئے پانچ ٹینٹ مہیا کئے تھے۔چھڑی مبارک 8جولائی2018کو بعد دوپہر پہنچ گئی اور پوجا اور آرتی کرنے کے بعد واپسی اُسی روز شروع ہوئی ۔ایس ڈی پی او مہور مجیب الرحمان بٹ نے کہا کہ یاترا کے دوران کسی کے زخمی یا موت کی کوئی اطلاع نہیں ملی ہے۔