را م بن //محکمہ زراعت کی جانب سے ضلع کے گاندھری بلاک میں زرعی کسان میلہ کا انعقاد کیا گیا ، جس میں 100سے زائد کسانوں نے شرکت کی۔شرکا کو 2022 تک کسانوں کی آمدنی دوگنا کرنے کے لئے سرکار کی جانب سے مختلف فلیگ شپ سکیموں و دیگر اہم پروجیکٹوں کی جانکاری دی گئی۔اس موقعہ پر چیف اگریکلچر افسر رام بن کے کے گپتا نے مختلف فلیگ شپ سکیموں پر مباحثہ کیا اور کسانوں کو یقین دلایا کہ یہ تمام سکیمیں انکی دہلیز پرہی ستیاب ہونگی۔انہوں نے کہا کہ ہر ایک کسان کو کسان کریڈٹ کارڈ اور سوئل ہیلتھ کارڈ سکیم سے مستفید کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ہر کوئی کسان اپنی زمین کا ٹیسٹ ضلع سوئل ٹیسٹنگ لیبارٹری سے مفت کرسکتا ہے، جس سے یقینی طور کسانوں کو فائدہ ہوگا۔اس دوران کسانوں نے مختلف مدعے جیسے کہ کھیتی کی مشینوں کی دستیابی، مختلف بینکوں سے قرضہ کی دستیابی، معیاری بیج اور کھاد وغیرہ مدعے اُٹھائے اور انکی بروقت دستیابی کا مطالبہ کیا۔سی اے او نے کسانوں کو بغور تحریر کیا اور یقین دلایا کہ ان مطالبات کو فوری طور حل کیا جائے گا۔دریں اثنا، سب۔ڈویژنل اگریکلچر افسر رام بن مدن گوپال سنگھ نے فلیگ شپ سکیموں جیسے کہ پی ایم کے ایس وائی، سوئل ہیلتھ کارڈ اور پی ایم ایف بی وائی پر روشنی ڈالی اور کسانوں پر مکی، شالی، اور گیہوں کی فصل کو انشورنس سکیم کے تحت لانے پر زور دیا۔انہوں نے کہا کہ بارش کی کمی، خُشک سالی، زیادہ بارشیں، آندھی طوفان، ژالہ باری، پسیاں گر آنے ،زیر آب ،سیلاب، بادل پھٹنا، قدرتی آتشزنی، اور دیگر آفات سماوی انشورنس کے تحت آتے ہیں۔اور اس میں مکی اور گیہوں کی فصل کو بالترتیب80000 روپے فی ہیکٹر ،100000/ روپے فی ہیکٹر کا انشورنس ہوتا ہے جس میں کسانوں کو مکی کے لئے 2فیصدی پریمیم اور گیہوں کے لئے 1.5فی صدر پریمیم ادا کرنا ہوتا ہے۔پروگرام میںاے ای او کے کے کول نے آرگنک کھیتی اورمشروم کاشت پر تفصیلی جانکاری فراہم کی۔اے ای او را م بن اُمیش گپتا ،اے ای او چندر کوٹ انیل پیر اور اے ای اے جدیش سنگھ بالی او رسریندر سنگھ اس موقعہ پر ریسورس پرسن تھے۔