ریاسی//جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس ضلع ریاسی میں یوم شہدا منانے کے سلسلے میں ایک تقریب زیر صدارت طارق بٹ سکرٹری منعقد ہوئی۔ اس تقریب میں نیشنل کانفرنس کے عہدیداروں کے علاوہ کافی تعداد میں کارکنان نے شمولیت کی ۔اس موقعہ پر راج کمار شرما بلاک صدر ریاسی،چرن داس ڈوگرہ ،رتن لعل بھگت، دیوراج سرپنچ، حاجی غلام نبی ملک، حاجی محمد این، ڈاکٹر کرم چند سرپنچ نے13جولائی1931 کے شہیدوں کی زندگی پر روشنی ڈالی اور خراج عقیدت پیش کیا۔ اس موقعہ پر طارق بٹ نے کہا کہ 13 جولائی 1931 کے شہیدوں نے اپنی جان کے نذرانے پیش کر کے شخصی نظام کے خاتمے کی بنیاد ڈالی۔ قابل غوربات یہ ہے کہ خانقہ معلی میں شخصی نظام کے خلاف ایک بہت بھاری جلسہ شیر شیخ محمد عبداللہ کی قیادت میں منعقد ہوا تھا اور جیسے ہی جلسہ ختم ہوا تو ایک نوجوان جس کا نام عبدالکریم خان تھا جو صوبہ سرحد کا رہنے والا تھا ایک انگریز خاتون کے ساتھ کشمیر آیا تھا سٹیج پر چڑھ گیا اور مائیک پر تقریر کر کے کہنے لگا کہ اگر آپ کو شخصی نظام سے آزادی چاہیے تو شیخ محمد عبداللہ کے ہاتھ مضبوط کرو یہ بات سرکار کو گوارہ نہ گذری اور عبدالکریم خان کو گرفتار کر لیا گیا پہلی بار شخصی نظام کے اندر17دن کشمیر بند رہا اور جس دن عبدالکریم خان کا فیصلہ عدالت میں ہونا تھا توکافی تعداد میں لوگ سینٹرل جیل کے باہر کھڑے تھے کہ اچانک سرکار نے اندھا دھند گولیاں چلائیں اور26لوگوں کو شہید کر دیا آخر کار ان شہیدوں کا خون رنگ لایا اور شخصی نظام کا خاطمہ ہو گیا۔ شیر کشمیر نے ریاست کی بھاگ دوڑ سمبھالی تو شہیدوں کی روح کو ٹھنڈک پہنچانے کے لئے شیر کشمیر نے ریاست کے6377جاگیرداروں کا خاتمہ کر کے40لاکھ لوگوں کو زمینوں کا مالک بنا دیا ریاست کے اندر جمہوریت بحال کر کے شخصی نظام کو جڑ سے ختم کر دیا۔ آج ہم سب 1931کے شہیدوں کو سلام کرتے ہیں اور انہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔طارق بٹ نے کہا کہ نیشنل کانفرنس ایک تحریک ہے اسے اور مضبوط کر کے نیشنل کانفرنس کی قیادت کو مضبوط کیا جائے۔