ریاسی //گُذشتہ روز ریاسی میں سیاڑھ بابا آبشار کے پاس نہانے کے دوران چٹان کھسکنے کی وجہ سے زخمی ہوئے33میں سے دو کی حلات ابھی بھی ہسپتال میں تشویش ناک بتائی جا رہی ہے۔ اس سانحہ میں سات لوگوں کی موت موقعہ پر ہی ہوئی تھی جبکہ 33زخمی ہوئے تھے۔زخمیوں کو شری ماتا ویشنو دیوی نرائین ہسپتال معا لجہ کے لئے بھرتی کیا گیا جن میں سے12 زخمیوں کو جی ایم سی جموں منتقل کیا گیا ۔پولیس ترجمان کے مطابق اس واقعہ میں زخمی ہوئے دو اشخاض ابھی بھی نرائین ہسپتال کے آئی سی یو میں زیر علاج ہیں،جبکہ معمولی زخمی5 لوگوں کو طبی مدد فراہمم کرنے کے بعد ہسپتال سے فارغ دی گئی ہے۔جی ایم سی جموں منتقل کئے گئے دیگر 12 زخمیوں کو بھی معالجہ کرنے کے بعد ہسپتال سے چھُٹی دی گئی ہے۔دریں اثناء گورنر این این ووہرا کی ہدایات پر ایس ایم وی ڈی این ایس ایچ ککریال فوری علاج و معالجہ کے لئے پہنچایا گیا اور وہاں انہیں علاج و معالجہ کی سہولیات بہم کرائی گئیں۔زخمیوں میں سے2 کو مردہ قرار دیا گیا جبکہ باقی ماندہ33 لوگوں کا علاج ہسپتال میں چل رہا ہے۔33 میں سے شدید طور زخمی6 افراد کو انٹینسو کرئٹکل کئیر یونٹ میں رکھا گیا ہے جن میں سے کل رات4 کی ہسپتال کی نیورو سرجری ٹیم نے جراحی عمل میں لائی۔پانچ مریضوں جن کی ہڈیوں میں فریکچر ہوئے ہیں، کی جراحیاں آج عمل میں لائی جائیں گی۔باقی تمام مریض مستحکم بتائے جارہے ہیں اور انہیں جلد ہسپتال سے چھٹی دے دی جائے گی۔واضح رہے کہ گورنر نے حادثہ کی خبر ملے ہی شری ماتا ویشنو دیوی شرائین بورڈ کے سی سی او دھیرج گپتا کو ہدایت دی کہ وہ ککریال میں شرائین بورڈ کے سُپر سپشلٹی ہسپتال میں زخمیوں کے لئے علاج و معالجہ کے فوری انتظامات کریں۔گورنر کی ہدایات کے مطابق زخمیوں کے علاج کا سارا خرچ شرائین بورڈ برداشت کرے گا۔دریں اثنا مریضوں کے افراد خانہ کو بھی ہسپتال احاطے میں شرائین بورڈ کی طرف سے مفت کھانا، اقامتی سہولیات اور دیگر مدد فراہم کی جارہی ہے۔