بھدرواہ / /ا یک روزہ سالانہ ترشول بھینٹ یاترا ،جو ڈوڈہ سے بدھ کی صُبح کو روانہ ہوئی تھی،شام کو ماتا چنڈی مندر چنوٹ پہنچ گئی۔بھدرواہ پہنچنے پر یاتا کا استقبال مقامی انتظامیہ نے بشمول اے ڈی سی پون کمار پریہار، اے ایس پی راجندر سنگھ، ایس ڈی پی او توصیف احمد ، تحصیلدار مسعود احمد کے علاوہ سول سوسائٹی کے ممبران اور یاتریوں نے خیر مقدم کیا۔یاترا میں ضلع ڈوڈہ اور جموں خطہ کے10,000 سے زائد یاتری ماتا چنڈی کے بھجن گا کر شرکت کر رہے ہیں۔ترشول بھینٹ تقریب اور دیگرمذہبی رسومات پُر کرنے کے بعد یاترا شام کو واپس ڈوڈہ روانہ ہوئی۔مقامی انتظامیہ نے یاتریوں کی سیکورٹی، پینے کے پانی، بجلی،فسٹ ایڈ،ایرجنسی خدمات وغیرہ کے معقول انتظامات کئے تھے۔ روایتی ترشول بھینٹ یاترا ایک سالانہ یاترا ہے جو ہر سال یکم جولائی کو منعقد ہوتی ہے لیکن چنڈی ماتا مندر چنوٹ کے استھاپنا دوس کے سلسلہ میں اسے گُذشتہ تین برسوں سے اسے معطل رکھا گیا تھا ۔منیجمنٹ تمام یاتریوں کی رہائش کی کوشش کر رہی ہے۔جموں کی ایک مشہورگلوکارہ سونالی ڈوگرہ نے کہا کہ مُجھے چنڈی ماتا کی دعائیں حاصل کرنے سے بہت خوشی ہوتی ہے۔اُ نہوں نے کہا کہ میں ایک باقاعدہ یاتری ہوں اور یا تو استھاپنا دوس کے موقعہ پر یا بھینٹ یاترا کے موقعہ پر ماتا کے دربار میں حاضری دیتی ہوں۔اُس نے مزید کہا کہ خوش قسمتی سے گُذشتہ دو برسوں سے یہ دونوں تقریبات ایک ہی دن پر منعقد ہوتی ہیں ،جسکی وجہ سے میں ان میں شرکت کرتی ہوں۔