’ پانی کی سطح میں اضافہ ہوگا‘
این ایچ پی سی کی دریائے چناب کے نزدیک نہ جانے کی اپیل
اے آئی بٹ
کشتوڑ//این ا یچ پی سی حُکام نے ڈول ہستی پائور اسٹیشن کے ریزروائر سے ملبہ نکالنے کے لئے لوگوں کو مورخہ19جولائی 2018 کو دریائے چناب کے نزدیک جانے سے گُریز کرنے کی صلاح دی ہے ۔ ایک بیان میں حُکام نے ڈوڈہ اور کشتواڑ اضلاع کے عوام اور خصوصاً موضع ڈول ،بینزوار ،چھر ہار،بھندرکوٹ،ہستی، کاندنی، پریم نگر اور پُل ڈوڈہ کے عوام سے کہا ہے کہ اس مقررہ مدت کے دوران پائور اسٹیشن کے ریزروائر سے ملبہ ہٹانے کے لئے مورخہ19 جولائی کو بوقت 0:00 بجے سے18:00 بجے تک ڈیم کے گیٹ کھولے جائیں گے،نتیجہ کے طور پر دریائے چناب میں پانی کی سطح میں 2سے 3 میٹر کااضافہ ہوگا ۔این ایچ پی سی نے اس مدت کے دوران لوگوں کو ا پنی اورا پنے وہیکلز اور پالتو جانوروں کی نقل و حرکت محدود کرنے کی صلاح دی ہے۔حُکام نے عام لوگوں کو مزید صلاح دی ہے کہ وہ اس دوران دریائے کے کناروں پر اپنی نقل و حرکت کے دوران ا حتیاط برتیں۔کوئی بھی شخض ،جو ان ہدایات کی خلاف ورزی کرے گا ،وہ ایسا اپنی رسک پرکرے گی جسکی تمام تر نتائج کا ذمہ وار وہ خود ہوگا۔
پنچایتی راج میں ترمیم اور انتخابات
گول میں زمینی سطح پر سیاسی گہما گہمی شروع ، ووٹران دلبدلی میں مشغول
زاہد بشیر
گول//ریاستی گورنر این این ووہرا کی جانب سے ریاست جموںوکشمیر میں پنچایت راج ایکٹ میں ترمیم اور جلد انتخاب کے بعد زمینی سطح پر سیاسی پارٹیوں کے لیڈران نے بھی میٹنگوں اور جلسوں کا سلسلہ شروع کر دیا اور ووٹران نے بھی پارٹیوں میں شمولیت کا دور گرم کر دیا ۔ حلقہ انتخاب گول ارناس میں اس طرح کی سیاسی گہما گہمی شروع ہو گئی ہے ۔ نیشنل کانفرنس نے کئی روز سے گول سب ڈویژن میں کئی جگہوں پر جلسوں اور میٹنگوں کا انعقاد کیا اور اس دوران دوسری پارٹیوں سے خیر باد کہہ کر نیشنل کانفرنس میں شمولیت کے دعوے بھی کئے گئے ۔کانگریس کے لیڈر اور ایم ایل اے گول ارناس اعجاز احمد خان کی صدارت میں پارٹی کی میٹنگ منعقد ہوئی جس میں کئی دوسری پارٹیوں سے ووٹران نے خیر باد کہہ کر کانگریس پارٹی میں شمولیت کا دعویٰ کیا ہے ۔اس طرح کی سیاسی گہما گہمی ہر اُس وقت دکھائی دیتی ہے جب جب اسمبلی یا پنچایتی الیکشن نزدیک آتے ہیں ۔ یہاں پر دوسری پارٹیوں کے لیڈران بھی ابھی پر تول رہے ہیں کہ آیا وہ کن لوگوں کو مالا پہنائیں گے اور ان کوپارٹی میں شمولیت کروائیں گے ۔ اب یہاں پر صرف وہ دو پارٹیاں بچتی ہیں جن کی سرکار حال ہی میں ایک کی جانب سے ہاتھ کھینچنے سے گری ہے اور پی ڈی ڈی پی ، بی جے پی کے لیڈران پارٹیوں کی جانب سے میٹنگیں منعقد کرانے کے لئے اندرونی طور پر سرگرم ہیں اور یہ وقت کی نزاکت دیکھ رہے ہیں ۔ گول میں دوسری پارٹیاں پنتھرس پارٹی ، عام آدمی پارٹیوں کی جانب سے بھی اندرونی طور پر یہاں پر اپنے نمائندے کھڑے کرنے کی تیاریاں ہو رہی ہیں اور یہ مانا جا رہا ہے کہ یہ نئی اور چھوٹی پارٹیاں گول میں پنچایتی چنائو میں بھی اپنے نمائندوں کو اُتاریں گے ۔ آنے والے پنچایتی انتخابات بارے اگر چہ کئی معزز شہریوں نے رائے زنی کرنے سے صاف انکار کر دیا ہے تا ہم کئی لوگوں نے اسے بے سود قرار دیتے ہوئے کہا کہ پچھلے الیکشنوںمیں جن نمائندوںکو چنا ہے انہوں نے کیا کیا ہے ۔ زمینی سطح پر سرپنچوں اور پنچوں کی جانب سے اپنے ہی لوگوں کو زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچانے اور صحیح تعمیر نہ کرنے اور اپنے منصبوں پر بیٹھ کر انصاف نہ کرنے اورجو ان کی ذمہ داریاں تھیں اس سے بھی بہت سارے لوگ ناراض ہیں ۔ آئندہ آنے والے الیکشن میں اب لوگ سوچ سمجھ کر ہی اپنے نمائندے کو چُنے گے جو صحیح معنوں میں عوامی خدمات کے لئے پیش پیش رہے گا ۔
۔15مویشی بازیاب، 3سمگلر گرفتار
رفیع چودھری+ایم ایم پرویز
رام بن+ڈوڈہ //پولیس نے رام بن اور ڈوڈہ میں مویشیوں کی سمگلنگ کی کوششوں کو ناکام بناتے ہوئے15 مویشیوں کو بازیاب کرنے اور3 مبینہ ملزمان گرفتار کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔پولیس ذرائع کے مطابق رام بن پولیس نے مویشیوں کی سمگلنگ کی ایک مصدقہ اطلاع ملنے پر للور دھننا دھار پر ایک ناکہ لگایا اور دو مویشی سمگلروں جاوید احمد ولد عبدل رحمان شیخ ساکنہ لاہری،کاستی گڑھ اور غلام حُسین ولد غلام قادر ساکنہ پوٹی کاستی گڑھ کو للور دھننا کے قریب روکا اور ان کے قبضہ سے10 مویشی بازیاب کئے۔پولیس نے اس سلسلہ میں ایک معاملہ زیر ایف آئی آر 11زیر دفعہ 188 آر پی سی پولیس اسٹیشن دیسہ میںدرج کرکے مزید تحقیقات شروع کر دی ہے۔مویشیوں کو بازیاب کرنے کی کارروائی پولیس اسٹیشن دیسہ کی ایک ٹیم نے زیر قیادت انسپکٹر اندر پال سنگھ تحت نگرانی ڈپٹی ایس پی ہیڈ کوارٹرز ڈوڈہ افتخار احمد نے زیر ہدایت ایس ایس پی ڈوڈہ محمد شبیر انجام دی۔ ادھر رام بن میں پولیس نے ایک مشتبہ مویشی سمگلر کو گرفتار کیا جو غیر قانونی طور سے 5 مویشیوں کو وادی کی طرف لے جا رہا تھا ۔ تفصیلات کے مطابق پولیس نے ایک ٹاٹا موبائیل کو ٹی چوک شفا پانی کے قریب روکنے کااشارہ کیا ، لیکن ڈرائیور نے جان بوجھ کر اشارے کو نظر انداز کرکے ناکہ توڑ کر بھاگنے کی کوشش کی ۔پولیس نے اسکا تعاقب کیا اور قومی شاہراہ پر ٹھیٹھارکے قریب اسے گرفتار کر لیا۔ گاڑی زیر نمبر JK02BR-3046 کی تلاشی کے دوران 5 مویشیوں کو باز یاب کیا گیا ۔ مبینہ ملزم کی پہچان شاہ محمد ولد رحمت علی ساکنہ کانہ چھرگال ،جموں کے بطور کی گئی ہے۔ پولیس نے اس سلسلہ میں ایک معاملہ زیر ایف آئی آر نمبر 118 of 2018 درج کرکے مزید تحقیقات شروع کی ہے۔پولیس پارٹی کی قیادت ایس ایچ او انسپکٹر اعجاز وانی کر رہے تھے۔
ناسازگار موسم سے بٹوت کے کسان مسائل سے دوچار
میوہ باغ مالکان کوسخت پریشانوں کا سامنا، حکومت و انتظامیہ سے توجہ دینے کی اپیل
ارشد کاظمی
بٹوت//رواں برس سال کی ابتداء سے ہی چلے آرہے غیرروایتی ناموافق موسمی حالات کی وجہ سے تحصیل بٹوت کے کسانو ں اور میوہ باغ مالکان کو سخت مشکلات ومسائل سے دوچار کر دیا ہے ۔اس سلسلے میں تحصیل بٹوت کے کسانوں اور میوہ باغ مالکان نے درپیش مشکلات ومسائل پر کشمیر عظمیٰ سے بات کرتے ہوے بتایا کہ گزشتہ دس ماہ سے زرعی لحاظ سے سخت دشوار گزار حالات کاسامناکرنے پر مجبور چلے آرہے ہیں۔ لوگوں کے بقول پہلے گذشتہ سال کے آخری تین ماہ اور پھررواں برس کے ابتدائی دوماہ میںرہی مسلسل خشک سالی نے فصلوںپربڑے پیمانے پر منفی اثرات مرتب کئے اور پھرخدا خدا کر کے بارشوں کا سلسلہ شروع تو ہوگیا مگر اب مسلسل بارشوں کی وجہ سے بھی کسان اپنے کھیتوں میں مکئی جیسی اہم فصلوں کی وقت پر کاشت نہیں کر پائے ۔ موسمی فصلوں اور سبزیوں کی کاشت قدرتی طور ناساز گار موسمی حالات کے چلتے کسانوں کواچھے نتائج ملنے سے محروم رہے ۔حالات کے چلتے تحصیل بٹوت کے کسان بڑے تشویش ناک حالات سے دو چار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم کسانوں نے اپنی زرعی زمینوں پرسرکار کی جانب سے کسانوں کی فلاح وبہبود کے لیے متعارف سکیمو ں کے تحت بنکوں سے قرض لے رکھے ہیں جن کی حسب ضابطہ قسط آدائیگی ہمارے لئے دشوار سے دشوار تر ہوتی جارہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ بلخصوص کسان کریڈیک کارڈ کی سکیم کے تحت بنکوں سے قر ض کی سہولت حاصل کرنے والے کسان اورمیوہ باغ مالکان کو سخت نوعیت کی مشکلات کا سامنا ہے لہذہ ان حالات میں کسان طبقے کی ریاست کے گورنر سے پُرزور مطالبہ واپیل ہے کہ ان کی مدد کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرنے کی جانب توجہ دے اوران کو درپیش مشکلات سے کسی حد تک نجات دلائے۔
پلماڑ میں’ تبادلہ خیال‘ کا دو روزہ پروگرام اختتام پذیر
کشتواڑ//بیورو آف اوٹریچ اینڈ کیمونکیشن ،وزارت ِاطلاعات و نشریات ،بھارت سرکار ،جے اینڈ کے ریجن کی جانب سے دو روزہ بیداری مہم گورنمنٹ ہائر سیکنڈری اسکول بھاتا، پلماڑمیںاختتام پذیر ہوئی۔اس دوران متعدد تبادلہ خیال کی نشستیں بشمول سیمنار ،ماہرین کے لیکچر، سوال و جواب کی نشست ،سوچھتا کی حلف برداری،انعامات کی تقسیم کاری وغیرہ منعقد کی گئیں۔ محکمہ دیہی ترقیات کے ریسورس پرسنوں اور محکمہ تعلیم کے دانشوروں نے سوچھ بھارت ابھیان کے مختلف مراحل و دفعہ جات کی اہمیت بیان کی۔300 طلاب اور اساتذہ پر مشتمل ایک شاندار ریلی کا بھی اہتمام کیا گیا جسے بلاک ڈیولپمنٹ افسر پلماڑ یوگیشور دت نے ہری جھنڈی دکھا کر روانہ کیا،جو کہ اس موقعہ پر مہمان خصوصی بھی تھے ۔ریلی گورنمنٹ ہائر سیکنڈری سکول سے روانہ ہوئی اور بازار سے ہوتے ہوئے ادارے میں ہی اختتام پذیر ہوئی۔ریلی میں طلاب نے بینر اُٹھائے تھے جن پر علاقہ میں سوچھ بھارت ابھیان کے متعلق مزید جانکاری دی گئی ۔اس سے قبل انچارج فیلڈ اوٹ ریچ بیورو اودھمپور گورنام سنگھ نے ایسی مہم منعقد کرنے کی اہمیت بیان کی۔سکول کی پرنسپل سنیتا کماری شرما،جنھوں نے تقریب کی صدارت کی، نے شرکا ء کو سوچھتا حلف دلائی۔اس موقعہ پر اپنے خطاب میں انہوں نے بیورو آف اوٹ ریچ اینڈ کیمونکیشن کے رول کی سراہنا کی اور کہا کہ ایسے پروگراموں سے بیداری پیدا کرنے میں مدد ملتی ہے۔تقریب میں شرکت کرنے والوں میںروشن لعل پریہار، لیکھ راج شرما ،کنج لعل رینہ، گوری نند رینہ بھی شامل تھے۔
بائیو میٹرک نظام کا نفاذ
ڈوڈہ کے صفائی کرمچاریوں کا نظم ضبط پر اعتراض، معاملے پر نظر ثانی کرنے کی اپیل
ڈوڈہ//ریاست جموں و کشمیر میں ملازمین کی حاضری کو دفاتر میں یقینی بنانے کے لئے بائیو میٹرک نظام کے نفاذ کے بعد ڈوڈہ کے صفائی کرمچاریوں نے اس نظام کی عمل آوری اور نظم ضبط پر اعتراض درج کیا ہے ۔پریس کے نام ایک بیان میں صفائی کرمچاری یونین ڈوڈہ نے بتایا کہ وہ موجودہ بائیو میٹرک حاضری کی وجہ سے مشکلات سے دوچار ہیں ، اسی لئے اس نظام کو علاقہ میں ڈیوٹی دینے والے ملازمین کے لئے اس کے قانون میں ترمیم کی جائے۔ صفائی کرمچاریوں کا کہنا ہے کہ اْن پر پورے قصّبہ کی صاف صفائی کی ذمہ داری عائد ہے لیکن حالیہ ریاستی حکومت کی جانب سے بائیو میٹرک نظام متعارف کروائے جانے کی وجہ سے صفائی کرمچاری ہر روز دفتر جاکر حاضری نہیں دے سکتے ہیں چونکہ اْس کہ وجہ سے اْن کو کافی دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔بائیو میٹرک حاضری کی نفاذ کے بعد ہر کرمچاری کو دفتر میں جاکر مشین پر حاضری درج کرنے کے احکامات صادر کئے گئے ہیں لیکن کرمچاریوں کا پیشہ صفائی کرنا ہے اور صفائی کرمچاری صبح سے ہی فیلڈ میں ہی کام کرتے ہیں ۔اس لئے وقت مقررہ پر دفتر پہنچ کر بائیو میٹرک پر حاضری لگانے کے بعد صفائی کرنا ممکن نہ ہے ستم ظریفی یہ ہے کہ قصّبہ کی صفائی اور گند و غلاظت کی وجہ سے کہی صفائی کرمچاری مہلک بیماریوں کی وجہ سے جموں میں زیر علاج ہیں اس صورت میں اْن کا کیا ہو گا جو عارضی طور صفائی کا کام کر رہے ہیں ایسی صورت میں اْن کے بچّے فاقہ کشی کا شکار ہیں۔ اگر یہی بائیو میٹرک کا نظام صفائی کرمچاریوں پر بھی عائد ہوا تو انہیں ہر ماہ بیماری کا علاج کروانے کے لئے چھٹی لینی پڑے گی۔ انہوں نے ریاستی گورنر سے اپیل کی ہے کہ صفائی کرمچاریوں کے اس حساس معاملے پر نظر ثانی کرکے قانون میں ترمیم کی جائے چونکہ بیشتر صفائی عملہ عارضی ملازمین پر مشتمل ہے جن کے لئے اس نظام میں کام کرنا انتہائی مشکلات مسائل سے بھرا ہوا ہے۔یونین کے صدر نے ریاستی گورنر سے عارضی صفائی کرمچاریوں کو مستقل کرنے کی بھی مانگ کی ہے تاکہ وہ کم اجرت کی وجہ سے پریشان نہ ہوں اور دیگر ملازمین کی طرح زندگی گزار سکیں اور بچّوں کو تعلیم کے نور سے آراستہ کر سکیں۔
بٹوت میں محکمہ جنگلات کی شجر کاری مہم
طاہر ندیم خان
بھدرواہ //ون مہوتسو کے طور پر ایچ ڈی ایف سی بینک بھدرواہ نے محکمہ جنگلات کے اشتراک سے بدھ کے روز فارسٹ ڈویژن بٹوت میں یک روزہ شجر کاری مہم کا انعقاد کیا گیا ۔ڈی ایف او بٹوت سفیر حُسین شاہ نے ایچ ڈی ایف سی بینک سرکل ہیڈ ارون چننا ،کلسٹر ہیڈ رتن جیت سنگھ، برانچ منیجر بھدرواہ مسرت علی، رینج افسر بٹوت سریندر سنگھ چب، بلاک افسر محمد مشتاق لون اور محمد عرفان کے ہمراہ دیودار اور چنار کے درخت لگائے۔اس مہم کے تحت ایچ ڈی ایف سی بینک نے اپنے سی ایس آر کے تحت محکمہ جنگلات سٹی فارسٹ علاقہ بٹوت کے اشتراک سے تقریباً200 درخت لگائے گئے۔اس موقعہ پر اپنے خطاب میں ایچ ڈی ایف سی بینک کے سرکل ہیڈ ارون چننا نے کہا کہ شجر کاری کا مقصد لوگوں کو قدرت کے تئیں اپنے فرائض اور درخت لگانے کیلئے باخبر بنا نا تھا ۔انہوں نے شرکاء کو اپنے میں درخت لگانے کا شوق پیدا کرنے کی تلقین کی۔ڈی ایف او بٹوت نے اس موقعہ پر شجر کاری کی اہمیت بیان کی۔
کشتواڑ میں گاڑیوں اور جنریٹر کی مرمت کے کورس کا اہتمام
کشتواڑ//فوج کی جانب سے کشتواڑ کے دور دراز علاقوں میں مورخہ 16جولائی سے10ستمبر 2018تک گاڑیوں اور جنریٹر کی مرمت کا کورس منعقد کیاجا رہا ہے۔کورس کا اہتمام مقامی لوگوں کے لئے روزگار، خود روزگار اور با اختیاری کے مواقعے پیدا کرنا ہے۔گاڑی اور جنریٹر کی مرمت کے شعبہ میں متعدد کئیر ئیر مواقعے ہیں، کورس کے دوران فائدہ بخش جانکاری سے شرکا ء کو اپنے مستقبل کیلئے معنی خیز ملازمت حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔دو مہینوں کے اس کورس میں نوجوانوں کا کافی جوش دیکھا گیا، جس میں 30نوجوانوں نے اپنا نام درج کیا ہے۔کورس کا اہتمام سوفٹیک کے اشتراک سے کیا گیا اورمتعلقہ شعبہ میں بہترین کار کردگی کا مظاہرہ کرنے کے لئے امیدواروں کو معقول جانکاری،تکنیکی ہنر فراہم کی جائے گی۔تربیت و پیشہ وارانہ انسٹرکٹروں کی جانب سے فراہم کی جائے گی۔کورس کے بعد SOFTEK کی جانب سے اسناد بھی تقسیم کی جائیںگی۔شرکا ء اور انکے اہل خانہ نے فوج کی جانب سے اس دور دراز علاقہ کے نوجوانوں کو بااختیار بنانے کے لئے اور انہیں روز گار کے کافی مواقعہ فراہم کرنے کے لئے کورس منعقد کرنے کی سراہنا کی ۔
چیرجی میں منشیات مخالف
توسیعی لیکچر کا اہتمام
کشتواڑ//فوج کی جانب سے نوجوانوںمیں منشیات کے مُضر اثرات کی جانکاری دینے اور اس پر قابو پانے کے لئے ضع کی چیر جی علاقہ میں ایک توسیعی لیکچر کا اہتمام کیا گیا ۔لیکچرکے دوان مقامی لوگوں اور طلاب کو منشیات کے مختلف مراحل کی جاناکری دی گئی جس میں منشیات کے اقسام اور اس کے صحت پر مضُر اثرات ، اسکی علامتوں اور علاج بشمول باز آبادکاری بھی شامل تھا۔لیکچرکے دوران طلاب کو بتایا گیا کہ کس طرح سے منشیات فروش انکی زندگی کے ساتھ کھلواڑ کر کے انہیں ایک تباہ کُن صورت میں دھکیلتے ہیں۔مقامی لوگوں نے شہری آبادی میں بیداری پیدا کرنے کے لئے فوج کی اس کوشش کی سراہنا کی ۔