راجوری//ڈپٹی کمشنر راجوری محمد اعجازاسد نے معیاری تعلیم کی فراہمی پر زور دیتے ہوئے گرلز ہوسٹلوں کی تعمیر کیلئے ڈیڈ لائن مقرر کی ہے ۔ڈپٹی کمشنر نے 3.40کروڑ روپے کی لاگت سے ماہرہ نگروٹہ میں بن رہے ٹرائبل ہوسٹل اور رمساکے تحت پلانگڑھ میں زیر تعمیر 2.82کروڑ روپے کی لاگت والے گرلز ہوسٹلوں کا معائنہ کیا اور ان کی تکمیل کیلئے بالترتیب اکتیس مارچ 2019اور30نومبر 2018کا ہدف مقرر کیا۔سو بستروں والے ان ہوسٹلوں کی تعمیر سے ضلع میں لڑکیوں کی تعلیم میں بہتری آئے گی ۔اس دوران رہائشی سکول کیلئے زمین کی دستیابی کا مسئلہ بھی زیر بحث آیا ۔ڈپٹی کمشنر نے گورنمنٹ ہائراسکینڈری سکول ساج کے دورے کے دوران متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ وہ دس لاکھ روپے سے بن رہے امتحان ہال کی تعمیر جلد سے جلد مکمل کریں ۔اس موقعہ پرانہوں نے طلباء کے ساتھ تبادلہ خیال بھی کیا اور تدریسی عملے پر زور دیاکہ وہ اختراعی تدابیر اپناتے ہوئے طلباء کو بہتر سے بہتر طریقہ سے تعلیم دیں تاکہ کل کو یہ بچے قومی اور بین الاقوامی سطح کے مقابلہ جاتی امتحانات کیلئے تیار ہوسکیں ۔موصوف نے ساج اپر کو جانے والی لنک سڑک کا معائنہ بھی کیا جہاں مقامی لوگوں نے اس کی اپ گریڈیشن کی مانگ کی ۔ ڈپٹی کمشنر کو بتایاگیاکہ یہ سڑک ضلع سیکٹرکے تحت تعمیر ہورہی ہے جس کیلئے ضرورت کے مطابق فنڈز دستیاب نہیں جس کو دیکھتے ہوئے یہ فیصلہ ہواکہ سڑک کی تکمیل کیلئے حکومت سے اضافی رقومات کی درخواست کی جائے گی ۔مقامی لوگوں نے شکایت کی کہ پلانگڑھ ۔پٹی روڈ کی زد میں آنے والی اراضی کے مالکان کو معاوضہ نہیں دیاگیا۔اپنے دورے میں ڈپٹی کمشنر نے خواتین کیلئے چلائے جارہے یونیورسل ون سٹاپ سنٹر کا معائنہ بھی کیا جہاں نوڈل افسر نے موصوف کو بتایاکہ گھریلوتشدد ،کام کی جگہوں میں حراسانی اور جنسی حراسی کے سینتالیس معاملات میں سے سینتیس کو باہمی رضامندی سے حل کیاگیاہے ۔ڈپٹی کمشنر نے اس بات پر زور دیاکہ دور دراز علاقوں میں اس سنٹر اوراس کے ذریعہ دی جارہی خدمات کے بارے میں جانکاری عام کی جائے ۔قبل ازیں ڈپٹی کمشنر نے ضلع ہسپتال راجوری میں ضروری ادویات اور سہولیات کی دستیابی کا جائزہ لیا اورساتھ ہی ہسپتال کے کام کاج کا معائنہ بھی کیا ۔انہوں نے میڈیکل سپرانٹنڈنٹ کو ہدایت دی کہ ڈائیلسیز یونٹ کو جلد سے جلد قابل کار بنایاجائے ۔اس کے علاوہ ہسپتال کی چار دیواری ،تیمارداروں کیلئے سرائے، متبادل سڑک کی تعمیر، سٹاف کوارٹروں کی ڈی پی آر ،لائبریری اور کلاس روم اور ہسپتال کو اپ گریڈ کرکے اسے پانچ سو بستروں والا بنانے جیسے معاملات کا جائزہ بھی لیاگیا۔