گول//ڈاکٹروں کی پرائیویٹ پریکٹس جو پہلے ریاست کے کئی حصوں میں عام تھی لیکن یہ ناسُوراب پھیلتے پھیلتے دوردراز علاقوں تک بھی پہنچ گیا جہاں پر یہ ڈاکٹر ہسپتالوں کے بجائے نجی کلنکوں میں رہنا ہی زیادہ پسند کرتے ہیں۔ مقامی لوگوں نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہ جب ہسپتال میں جاتے ہیں وہاں پر ان کی زبان کافی تیز ہوتی ہے اور لوگوں کو مجبوراً نجی کلنک کا رُخ کرنا پڑتا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ ہسپتال میں جوں ہی ڈاکٹر کی نظر مریض پرپڑتی ہے تو وہ پہلے ہی یکے بعد دیگرے ٹیسٹ پرچی پر لکھ دیتا ہے اور یہ ٹیسٹ کروانے کے لئے کہتا ہے اور کہی لوگوں کو نجی کلنک کا رُخ کرنے کو کہتا ہے ۔ صبح گیارہ بجے ہسپتال میں آتا ہے اور بارہ بجے کھانا کھانے کے لئے جاتا ہے اور دو بجے واپس آتا ہے اور تین بجے چھٹی جاتا ہے اور چار و پانچ بجے کے بعد نجی کلنک پر ہوتا ہے ۔ لوگوں نے کہا کہ اگر چہ ہسپتال میں بہت ساری دوائی ہوتی ہیں ، ٹیسٹ ہوتے ہیں لیکن اس کے با وجود باہر سے ٹیسٹ کروانے اور دوائی لینے کو کہا جاتا ہے جو غریب عوام کے لئے کافی مشکل ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس سے قبل بھی یہاں پر ایک ڈاکٹر بارہ سال ڈیوٹی دے کر گیا اور بہت سارے دوسرے ڈاکٹر بھی آئے لیکن انہوں نے نجی کلنک کا رُخ نہیں کیا اور اپنے فرائض ایمانداری سے انجام دئے لیکن اب یہ پیشہ کئی معالجین کیلئے تجارت بن چکا ہے ۔ان ڈاکٹروں نے پہلے 150روپے فیس رکھی تھی لیکن چند ہی ہفتوں بعدہی فیس 200روپے کر دی گئی، دوائی کے لئے ایک مخصوص دکان بھی رکھی ہے وہیں کلنک میں موجود ٹیسٹ جو زیادہ تر ہسپتال سے ہوتے ہیں لیکن کمیشن پر اسی کلنک پر کرائے جاتے ہیں اور اس طرح سے مہنگے داموں سے یہاں کے غریب عوام کو مجبوراً یہ ٹیسٹ کروانے پڑتے ہیں وہیں کلنک میں ایک انجکشن لگوانے کے لئے ایک سو روپے لیتے ہیں اور انجکشن بازار سے لینا پڑتا ہے ۔ لوگوں نے اس طرح سے ڈاکٹروں کے رویے اور لوگوں کو لوٹنے اور نجی کلنکوں پر زیادہ توجہ دینے پر کارروائی کی مانگ کی اور نجی کلنکوں پر ٹیسٹوں کی قیمت سرکار دے اور انتظامیہ یہاںکی طرف توجہ دے تا کہ غریب لوگوں کی جیبوں کو کاٹنا بند ہو جائے ۔اس سلسلے میں جب چیف میڈیکل آفیسر رام بن سے بات کی تو انہوں نے کہا کہ چند روز قبل اسی سلسلے میں لوگوںنے بھی شکایت کی تھی اور اس بارے بلاک میڈیکل آفیسر کو بھی مطلع کیا تھا انہوں نے کہا کہ میں اس کے خلاف کارروائی کروں گا کیونکہ ڈاکٹروں کو کام ہے کہ وہ لوگوں کی خدمت کریں اور اگر وہ ایسا نہیں کرتے تھے کارروائی کی جائے گی۔