بانہال // جموں سرینگر شاہراہ پر واقع قصبہ بانہال میں گوجر طبقے سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے گوجر لیڈر طالب حسین کی سانبہ پولیس حراست میں مبینہ مارپیٹ سے زخمی ہونے کے واقع کے خلاف احتجاجی مظاہرے کئے اور دھرنا دیا۔ احتجاجی مظاہرین طالب حسین کے پولیس حراست میں زخمی ہونے کے واقع کی غیر جانبدارانہ اور منصفانہ تحقیقات کا مطالبہ کر رہے تھے۔ بانہال کے کئی علاقوں سے تعلق رکھنے والے گوجر نوجوان منگل کی دوپہربعد سابقہ عیدگاہ پارک میں جمع ہوئے اور انہوں نے طالب حسین کے حق میں اور بھارتی جنتا پارٹی ، آر ایس ایس اور پولیس کے خلاف زبردست نعرے بازی کی وہ طلاب حسین کو انصاف فراہم کرو کے نعرے بھی بلند کر رہے تھے۔ اس کے بعد بانہال پارک سے ایک احتجاجی ریلی شاہراہ پر نکالی گئی جو شاہراہ پر کئی گشت لگانے کے بعد تحصیل دفتر بانہال کے احاطے میں دھرنے پر بیٹھ گئی۔ مظاہرین بھارتیہ جنتا پارٹی اور اس کی ذیلی جماعتوں اور لیڈروں کے خلاف نعرے لگا رہے۔ اس احتجاجی ریلی کی قیادت مقامی نوجوان لیڈر کر رہے تھے جن میں چودھری جماعت علی ، چودھری دانش اقبال ، چودھری منظور ڈار اور مزمل کھانڈے قابل ذکر تھے۔ اس موقع بات کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ ایک منظم سازش کے تحت بھارتیہ جنتا پارٹی اور اس کی ذیلی جماعتیں طالب حسین کے خلاف منظم سازشیں چلاتے آرہے ہیں اور قانون مکمل طور سے ان ہی عناصر کے ہاتھوں میں کھیل رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک جھوٹے ریپ کیس کے ذریعے پہلے طالب حسین کو گرفتار کیا گیا اور اب پولیس سٹیشن سانبہ کے زیر حراست اسے مبینہ طور سے مارا پیٹا گیا ہے جس کی وجہ سے طالب حسین کے سر میں گہرے زخم آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ رسانہ ضلع کٹھوعہ میں معصوم بچی آصفہ بانو کی عصمت دری اور قتل کے معاملے میں حق اور انصاف کی آواز بلند کرنے کے بعد سے ہی طالب حسین چند فرقہ پرست جماعتوں کے نشانے پر ہے اور ماضی میں بھی اس پر حملے اور بہت سارا جھوٹا پروپگنڈہ کیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ گوجر قوم کسی بھی ناصافی اور حق تلفی کے خلاف ڈ ٹ کر مقابلہ کرے گی اور حقائق کو سامنے لاکر ہی دم لیا جائے گا۔ اس موقع پر نوجوان گوجر لیڈر چودھری جماعت علی نے بتایا کہ وہ سانبہ پولیس تھانے میں پیش آئے واقع کی نسبت سے گورنراور ڈائریکٹر جرنل آف پولیس سے مودبانہ گذارش کرتے ہیں کہ وہ سانبہ پولیس کی طرف سے طالب حسین کے اقدام خود کشی کے مبینہ دعوے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرانے حکم صادر کریں اور پولیس محکمہ میں اْن پولیس اہلکاروں کی بھی نشاندہی کی جائے جو مبینہ طور پر فرقہ پرستوں کے کہنے پر قانون کو بالائے طاق رکھ کر متعصبانہ واقعات میں ملوث ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس معاملے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات اور طالب حسین کیلئے انصاف کا مطالبہ کر رہے ہیں تاکہ لوگوں کو قانون اور قانونی اداروں سے بھروسہ مکمل طور سے ختم نہ ہوجائے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی ظلم اور زیادتی کے خلاف پوری قوم متحد ہے اور کسی بھی سازش کو ناکام کرنے کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔ واضح رہے کہ کل پولیس نے بتایا تھا کہ مبینہ ریپ کیس میں زیر حراست طالب حسین نے خود کشی کی مبینہ کوشش کے دوران سانبہ تھانے کی دیواروں سے اپنے سر کو دے مارا ہے اور اس سلسلے میں پولیس نے اقدام خودکشی کا ایک کیس طالب حسین کے خلاف درج کیا ہے۔