بانہال // عیدالضحیٰ سے ایک دن پہلے عرفہ کے موقعہ پر بانہال قصبہ اور ضلع رام بن کے دیگر بازاروں میں لوگوں کا بھاری رش تھا اور ہزاروں کی تعداد میں لوگ عید الاضحی کیلئے خریداری کر رہے تھے۔ سابقہ روایات کے عین مطابق اس عید پر بھی بعض خود غرض دکانداروں اور تاجروں نے لوگوں کو دو دو ہاتھوں سے لوٹنے کا سلسلہ جاری رکھا اور پچھلے دنوں کے مقابلے عید کے موقع پر کئی اشیاءکی قیمتیں من مرضی سے بڑھائی گئی ہیں ۔ منگل کی صبح سے ہی بانہال ، رام بن ، کھڑی ، رامسو ، مکرکوٹ اور اکڑال وغیرہ کے بازاروں میں غیر معمولی رش تھا جبکہ شاہراہ پر واقع قصبہ بانہال میں لوگوں کے بھاری رش کی وجہ سے ٹریفک کی نقل و حمل قصبہ بانہال کے بیچوں بیچ سے سست رہی اور وقفے وقفے سے ٹریفک جام لگتا رہا ۔ ٹریفک جام کو ہٹانے اور بھاری ٹریفک کی نقل و حمل معمول کے مطابق چلانے کیلئے بانہال پولیس اور ٹریفک کے افسر اور اہلکار بذات خود معمول کے ٹریفک کو بحال کرنے میں لگے ہوئے تھے۔ عید کی خریداری کیلئے جہاں گھر کے بڑے عید کیلئے اشیاءضروریہ کی خرید میں مصروف تھے وہیں بچے اور خواتین کی بھاری بھیڑ بھی عید کی خریداری کیلئے قصبہ بانہال میں امڈ آئی اور بھاری رش کا سلسلہ منگل کی شام تک تھم گیا تھا۔ کئی لوگوں نے شکایت کی کہ عید کے موقعہ پر بہت ساری چیزوں خصوصاً سبزی اور پھلوں کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی تھیں اور چیکنگ کے نام پر اس عید پر سرکار کی طرف سے کوئی بھی سکارڈ یا چیکنگ پارٹی تشکیل نہیں دی گئی تھیں ۔ غلام رسول نائیک نامی ایک شہری نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ تین روز پہلے جن چیزوں کی قیمتیں کم تھیں عید کے موقع پر انہیں بڑھایا گیا ہے اور بانہال مارکیٹ میں کئی مقامات پر چیزوں کی قیمتوں میں بہت تفاوت تھی۔ انہوں نے کہا کہ دو روز پہلے ٹماٹر تیس روپئے کلو بیچا جاتا تھا وہیں عرفہ کے روز ٹماٹر پچاس روپئے کلو فروخت کیا جارہا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ اسی طرح فراش بین ، کدو ، سیب ، ناشپاتی کی قیمتیں گزشتہ دنوں کی قیمتوں کے مقابلے بڑھائی گئی ہیں ۔ انہوں نے ریاستی سرکار اور انتظامیہ کی طرف سے گراں فروشوں کی نکیل کسنے میں ناکامی پر افسوس کا اظہار کیا ہے ۔