جموں// کٹھوعہ کیس کے اہم گواہ ایڈوکیٹ طالب چودھری کو اڈھائی ماہ تک جیل میں رہنے کے بعد جمعہ کے روز عدالت نے ضمانت منظور کی ہے جس پر گوجر بکروال طبقے کے تمام لوگوں جن میں سیاسی و غیر سیاسی افراد اور تنظیموں نے زبردست خوشی کا اظہار کیا ہے تاہم جیل حکام نے طالب کو یہ کہہ کر رہائی سے انکار کیا ہے کہ جیل میں سیکورٹی موجود نہیں ہے جس پر طبقے نے برہمی کااظہاربھی کیاہے۔۔ذرائع کے مطابق کٹھوعہ کیس کے اہم گواہ چودھر ی ایڈوکیٹ طالب حسین کو تقریباً اڈھائی ماہ تک جیل میں رہنے کے بعد جمعہ سانبہ عدالت کی جانب سے ضمانت دی گئی ہے جس پر گوجر بکروال طبقے کے تمام لوگوں جن میں سیاسی و غیر سیاسی افراد اور تنظیموں نے زبردست خوشی کا اظہار کیا ہے۔تاہم ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ ہیرا نگر جیل حکام نے طالب حسین کو یہ کہہ کر رہا نہیں کیا ہے کہ جیل میں آج سیکورٹی موجود نہیں ہے جس کی وجہ سے انہیں آج رہا نہیں کیا جا سکتا ہے۔ادھر ان کی رہائی کو نا ممکن بنانے پر گوجر بکروال کانفرنس کے جنرل سیکرٹری محمد یاسین پسوال ،طلباء ونگ کے علاوہ متعدد جماعتوں نے انہیں رہا نہ کرنے پر طرح طرح کے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے انہیں فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے واضح رہے طالب حسین کو 29جولائی2018کورسانا کیس میں پیش پیش رہنے کے بعد ان پران کے اپنے رشتہ داروں کی جانب سے درج کئے گئے ایک کیس کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا تھا۔جہاں انکی گرفتاری پر طرح طرح کے سوالات کھڑا ہوئے تھے۔جبکہ اس دوران طالب کے خلاف پولیس حراست میں خود کشی کرنے کی کوشش پر بھی ایک کیس درج کیا گیا تھا۔انکی ضمانت ملنے پر ٹنل کے آر پاپار گوجر بکروال طبقے میںزبردست خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔جبکہ طبقے کا ماننا ہے کہ ان پر لگائے گئے تمام الزامات بے بنیاد تھے۔ طبقہ کے متعددلوگوں نے طالب حسین کوضمانت ملنے پروکلاء ایڈوکیٹ انورچوہدری، ایڈوکیٹ اکرم کے علاوہ مشتاق انقلابی، گفتارچوہدری،صادق چوہدری وغیرہ کی کاوشوں کوسراہاہے۔