جموں//جموں شہرمیں توی پربنے معروف پُل شیرکشمیرپُل جسے عرف عا م میں گوجرنگروالاپُل کے طورپرجاناجاتاہے پرگزشتہ کئی مہینوں سے کھڈے بنے ہوئے ہیںجن کی مرمت کیلئے متعلقہ انتظامیہ کوئی توجہ نہیں دے رہی ہے ۔اہم پُل کی سڑک کی خستہ حالی کے تئیں ضلع انتظامیہ کی عدم توجہی کئی سوالا ت کھڑے کرتی ہے ۔ گوجر نگر پل پربنے کھڈوں کے بارے میں شہرکے متعددلوگوں نے کشمیرعظمیٰ کوبتایاکہ پُل پراتنے کھڈے ہیں کہ ان کی گنتی کرنامشکل ہے ۔انہوں نے کہاکہ بڑی گاڑیوں کوان کھڈوں سے زیادہ دقت نہیں ہوتی ہے کیونکہ ان کے ٹائربھی بڑے ہوتے ہیں لیکن دوپہیہ گاڑی ڈرائیوروں کوپُل سے گزرتے وقت شدیدکوفت سے دوچارہوناپڑتاہے چونکہ اس پُل کوگوجرنگر،سرکیولرروڈ،ڈی سی آفس،بس سٹینڈ ،نروال ،باہوفورٹ ،جموں یونیورسٹی کوراستے جاتے ہیں اس لیے لوگوں کوٹریفک جام سے بچنے کیلئے اکثراس پل کاسہارہ لیناپڑتاہے ۔یہاں تک کہ اس سڑک سے طلباء اپنی نجی گاڑیوں سے صبح یونیورسٹی کے لئے بھی جاتے اور پھر واپس آتے ہیںجس کے باعث انہیں ان پریشانیوں سے گذرنا پڑتا ہے۔اس بارے میں ایک طالب علم نے بتایاکہ وہ گزشتہ چھ ماہ سے اس پل سے جموں یونیورسٹی جارہاہے ۔انہوں نے کہاکہ پچھلے چھ ماہ سے پل پربنے کھڈوں کی مرمت کیلئے انتظامیہ نے کوئی قدم نہیں اٹھایاجوکہ افسوس کی بات ہے ۔انہوں نے کئی بار تیز رفتار ی سے آنے والی گاڑی موٹر سائیکل ،سکوٹر و سکوٹی ان گڈھوں میں اچانک گرتی ہیں وہ پھسل جاتی ہیں جس کے باعث کئی لوگ زخمی ہو جاتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ شہرکے وسط کے پُل پربنے کھڈے انتظامیہ کی نظروں سے اوجھل ہیں جوکہ کافی تشویشناک بات ہے۔انہوں نے کہاکہ ان کھڈوں کی وجہ سے دوپہیہ گاڑیوں کے ڈرائیوروں کواکثرسڑک حادثات کاخطرہ لاحق رہتاہے۔لوگوں نے ضلع انتظامیہ سے پرزورمطالبہ کیاہے کہ گجرنگرپُل پربنے کھڈوں کی مرمت کیلئے فوری طورپراقدامات اٹھائے جائیں تاکہ لوگوں کوپریشانی سے نجات مل سکے۔