جموں//اگرچہ ریاستی حکومت آئے روزصوبہ جموں کے ہسپتالوں میںطبی نظام میں بہتری لانے کے دعوے کرتے تھکتے نہیں لیکن ان دعوئوں کی پول اُس وقت کھل جاتی ہے جب کوئی جموں شہرجسے ریاست کاسرمائی دارالخلافہ کے طورپرجاناجاتاہے کے ہسپتالوں میں کسی مریض یاتیماردارکوجانے کی نوبت آتی ہے۔حالانکہ لوگوں کوکافی توقعات تھیں کہ گورنرراج نافذہونے کے بعدجموں میڈیکل کالج اورایس ایم جی ایس ہسپتال شالیمارکے نظام میں بہتری آئے گی اورصوبہ بھرسے یہاں آنے والے مریضوں اورتیمارداروں کی پریشانیوں کاسدباب ہوگالیکن گورنرراج کے نفاذکے کئی مہینے کے باوجودبھی جموں کے ہسپتالوں کے نظام میں کوئی تبدیلی نہ ہونے سے عوام کے پاس سوائے اپنی قسمت کوکوسنے کے کوئی چارہ نہیں اوران کی امیدیں دھری کی دھری رہ گئی ہیں۔جموں میڈیکل کالج اورایس ایم جی ایس ہسپتال صوبہ جموں کے سب سے بڑے ہسپتالوں میں شمارہوتے ہیں لیکن یہاں پرطبی سہولیات اورڈاکٹروں ونیم طبی عملے کی غفلت کی وجہ سے عام لوگوں بالخصوص مریضوں کی زندگی خطرے میں رہتی ہے اورعوام الناس دربدرٹھوکریں کھانے پرمجبورہیں اوران کی کوئی سنوائی نہیں ہورہی ہے۔اس کی مثال دوروزپہلے اُس وقت سامنے آئی جب نروال کریانی تالاب کاشبیراحمدنامی ایک شخص صبح آٹھ بجے اپنے چارماہ کے بچے کولے کرجے ایم سی پہنچتاہے ،وہاں سے اسے کہاجاتاہے کہ آپ شالیمارجائیں،وہ شالیمارایس ایم جی ایس ہسپتال چلاجاتاہے وہاں پرایمرجنسی کی پرچی کٹوانے کے بعدجب ڈاکٹروں کے پاس جاتاہے توڈاکٹربچے کی طبی جانچ کرنے سے انکارکردیتے ہیں ۔اس وقت چھوٹابچہ جسے کسی زہریلے کیڑے نے کاٹاتھا ،دردسے زورزورسے رورہاہوتاہے لیکن ڈاکٹراس پرترس کھانے کے بجائے تیماردارسے کہتے ہیں کہ آپ اسے اوپی ڈی میں دکھائیں ،صبح ساڑھے نوبجے سے ساڑھے گیارہ بجے تک اوپی ڈی میں بیٹھے رہنے کے باوجودوہاں ڈاکٹرنہیں آتاہے اوراس شخص نے بچے کی حالت کوغیرجانتے ہوئے باہرکسی پرائیویٹ کلینک میں دکھانے کوترجیح دی ۔شبیراحمدنامی شخص نے نمائندہ کوبتایاکہ ہسپتال میں ڈاکٹرغفلت شعاری کامظاہرہ کرتے ہیں جس سے ہروقت مریضوں کی جان کوخطرہ رہتاہے۔انہوں نے کہاکہ ڈاکٹروں وطبی عملے کی پرائیویٹ کلینکوں کے ساتھ ساج باج ہوتی ہے جس کی وجہ سے وہ مریضوں کی طرف خاطرخواہ توجہ نہیں دیتے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ جموں کے سرکاری ہسپتالوں میں طبی سہولیات برائے نام ہیں اوریہ بڑی عمارتیں عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے سواکچھ نہیں ہے۔ ضرورت اس امرکی ہے کہ جموں میڈیکل کالج اورایس ایم جی ایس ہسپتال شالیمارکے بیمارنظام کوبہتربناکرلوگوں کوطبی سہولیات کوحقیقی معنوں میں فراہم کیاجائے اوراگرایسانہیں کیاگیاتونہ جانے کتنے مریضوں کی جانیں ہسپتال انتظامیہ کی غفلت کے سبب جاسکتی ہیں۔ہسپتال میں زیرعلاج مختلف لوگوں نے گورنرانتظامیہ سے پرزورمانگ کی ہے کہ ہسپتال کے طبی نظام کوچست درست کیاجائے تاکہ مریضوں کوبہترطبی سہولیات میسرہوسکیں۔