جموں // کثیر اللسانی ادبی تنظیم ادبی کُنج جے اینڈ کے جموں کے زیر اہتمام گذشتہ روز ایک خصوُصی تقریب نُما نِِشست کا اِنعقاد ہوُا۔ جِس کی صدارت کے فرا ئض اُردوُ زبان کے ناموَر شاعر سردار مالک سنگھ وفا ؔ نے انجام د ئے ۔ نِشست کی نِظامت کے فرائض اُردوُ اور گوجری گوجری کے جانے مانے شاعر سرور چوہان حبیٖبؔ نے انجام دِئے۔ جبکہ ہِندی و ڈوگری زبان کے شاعر و جرنلسٹ رام پال پالیؔ مہمانِ خصوُصی تھے۔ اِس نِشست میں علی گڑھ مُسلم یونیورسِٹی کے بانی و مُلک کی مایہ ناز مُسلم شخصیّت سرسیّد احمد خان کے 121ویں یوُمِ پیدائیش کے موقعہ پر سرسیّد احمد خان کی حیات اوراُن کا نظریہ‘ کے موضوع پرایک مُباحثے کا اہتمام ہوُا۔ جِس خصوُصی نِشست میں تنظیم کے چئیرمین آرشؔ دلموترہ ، صدرِ تنظیم شام طالبؔ اور دیگر مقررّین نے سرسیّد احمد خان کی تعلیمی، سماجی، ادبی اور بے مِثال قومی خدمات پر سیر حاصل روشنی ڈالی۔ اُنیسویں صدی کے عظیم مُسلم ریفارمراور ماہرِ تعلیم سرسیّد احمد خان کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے مقررّین نے کہا کہ سرسیّد احمد خان نے اپنی قوم کو تعلیم اور دانشورانہ ترقی کا نیا راستہ دِکھایا۔ وہ چاہتے تھے کہ تعلیم سے قوم میں بدلاؤ لایا جائے۔ یہاںمقررّین نے سرسیّد احمد خان کی فلاسفی اپنانے پر بھی زور دِیا۔اِس موقعہ پر تخلیقی نثری دور میںپیش چند مضامین اِس طرح تھے ۔ ‘رہنُمائے قوم‘ از آرش ؔدلموترہ۔(2)سرسیّد احمد خان کے معروف مضمون ’تعصّب‘ کا تجزیاتی مضمون ’سرسیّد کی اِصلاحی تحریک‘ از شام طالب۔ اِس کے علاوہ اپنی ذاتی زندگی سے منسلک ایک حادثاتی واقعہ کی ایک افسانوی تحریر ’بلنڈر‘ مالک سنگھ وفاؔنے پیش کِیا ۔ آج کے شعری دوَر میں نوراترہ تہوار کے حوالے سے تنظیم کے اپنے شاعر چمن سگوچ نے اپنی سُریلی آواز میں’ ماتا کی بھینٹ ‘ پیش کی۔ اِس شعری نِشست کے دیگر شعراکے اِسم گرامی اِس طرح ہیں۔ آرشؔ دلموترہ ، مالک سنگھ وفاؔ ، رام پال پالیؔ، چودھری سرور چوہان حبیّبؔ، بِشن داس خاکؔ، راج کمل، عبدال جبّارؔ بٹ، کے آر سلگوترہ، راجیو کُمار ، جتیندر بسِن، سنجیو کُمار ، مہاراج کرشن اور شام طالبؔ ۔ نِشست کا اِختتام تنظیم کے چئیرمین آرشؔ دلموترہ کی طرف سے پیش کردہ شُکریہ کی تحریک سے ہوُا۔ جِس میں آپ نے نِشست کے اوقات میں تبدیلی بارے آئیندہ شام 4بجے سے 6بجے تک ہونے کی یاد دہانی کرائی۔