سرینگر //مرکزی وزرات تمدن کی جوائینٹ سیکرٹری نیروپما کوترو نے ریاست کے آرٹ ، کلچر اور ہیری ٹیج کو محفوظ رکھنے میں مقامی لوگوں کو شامل کرنے پر زور دیا تا کہ ہمارے نوجوان ریاست کی حقیقی وراثت سے جُڑے رہیں ۔ جوائینٹ سیکرٹری نے ان باتوں کا اظہار ریاست میں آرٹ ، کلچر اور ہیری ٹیج کی سرگرمیوں پر جاری پیش رفت کا جائیزہ لینے کے سلسلے میں منعقدہ ماہرین کی ایک میٹنگ کی صدارت کرتے ہوئے کیا ۔ کمشنر سیکرٹری تمدن محمد سلیم شیشگر نے جوائینٹ سیکرٹری کو حکومت کی طرف سے تمدن اور ہیری ٹیج کو محفوظ رکھنے اور ترقی دینے کے اقدامات سے آگاہ کیا ۔ انہوں نے کہا کہ اس میٹنگ کا مقصد ریاست کے آرٹ اور ہیری ٹیج خزانے کی بہتر دیکھ ریکھ سے متعلق ماہرین کی رائے اور خیالات جاننے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں ریاست میں کئی اقدامات بروئے کار لائے جا رہے ہیں ۔ ماہرین نے اس موقعہ پر کلچر اور ہیری ٹیج کو محفوظ رکھنے کیلئے اپنے تجربات ، خیالات و تجاویز پیش کیں ۔ کوترو نے ماہرین کے خیالات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ریاست میں ہیری ٹیج کو محفوظ رکھنے کیلئے تمام ماہرین کی رائے حاصل کرنا انتہائی ضروری ہے ۔ انہوں نے اس سلسلے میں تمام طرح کے تعاون کی یقین دہانی کی ۔ انہوں نے کہا کہ اس مقصد کیلئے نوجوان نسل اور مقامی لوگوں کی شمولیت انتہائی درکار ہے تا کہ ریاست کے آرٹ اور کلچر کو ترقی دی جا سکے ۔ اس موقعہ پر خطاب کرتے ہوئے ڈائریکٹر آرکائیوز ، آرکیالوجی اور میوزیمز منیر السلام نے کہا کہ اُن کا محکمہ ریاست کے کلچر اور ہیری ٹیج کو محفوظ رکھنے اور ترقی دینے کیلئے کئی اقدامات کر رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں بھوسلے ، گریز ، کشتواڑ اور لداخ میں کئی پروگرام چلائے جا رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ان پروگراموں کے بعد محکمہ ریاست کے دیگر مقامات کی نشاندہی کر کے ہیری ٹیج کی حفاظت کرنے کے اقدامات کرے گا ۔ سیکرٹری ساہتیہ اکیڈمی نئی دہلی ڈاکٹر کے سری نواسہ راؤ ، سیکرٹری جے اینڈ کے اکیڈمی آف آرٹ ، کلچر اینڈ لینگویجز ڈاکٹر عزیز حاجنی ، معروف شاعر فاروق نازکی ، معروف بلتی ، پُرگی لیکھک کے اسفندیار خان ، ہیری ٹیج ماہر سلیم بیگ ، معروف ڈوگری لیکھک ڈاکٹر للت منگوترہ ، مصنف پروفیسر فاروق فیاض ، مشہور پینٹر مسعود حسین و دیگر معزز افراد نے میٹنگ میں شرکت کی ۔