جموں //ریاستی گور نر ستیہ پال ملک نے اپنے حالیہ بیان میں انتخابات کا اشارہ دیتے ہوئے ریاستی اسمبلی کو تحلیل کر نے کے سلسلہ میں اپنے موقف کا اظہار نہیں کیا جبکہ گزشتہ چار ماہ سے ریاستی اسمبلی کو بغیر کسی وجہ کے تحلیل نہیں کیا جا رہاہے ۔ان خیالات کا اظہار نیشنل پنتھرز پارٹی کے ریاستی چیر مین سابقہ ریاستی وزیر ہرش دیو سنگھ نے یہاں منعقدہ ایک پریس کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقعہ پر بولتے ہوئے انہو ں نے مذکورہ معاملے پر آرٹی آئی عرضی دائر کی تھی جس کا معقول جواب نہ دیتے ہوئے گور نر انتظامیہ نے موقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کو ئی بھی سیاسی پارٹی ریاست میں حکومت سازی کیلئے سنجیدہ نہیں ہے ۔تاہم قانون کے تحت ریاستی گور نر کو یہ اختیارات حاصل ہیں کہ اگر کوئی بھی سیاسی پارٹی حکومت سازی میں دلچسپی ظاہر نہیں کرتی تو وہ اسمبلی کو تحلیل کر سکتے ہیں ۔ہرش دیو سنگھ نے کانگریس اور پی ڈی پی کی سابقہ ریاستی حکومت کی مثال دیتے ہوئے کہاکہ 2008میں دونوں سیاسی پارٹیوں کے درمیان اختلافات پیدا ہو نے کے بعد گورنر انتظامیہ نے نئی حکومت کی تشکیل کیلئے صرف تین دنوں کا وقت دیا تھا تاہم کانگریس مقرر مدت میں اپنی اکثریت ظاہر کرنے میں ناکام رہی تھی جس کے چلتے گور نر انتظامیہ نے اسمبلی تحلیل کر دی تھی ۔انہوں نے مزیدکہاکہ آر ٹی آئی میں جواب دیا گیا ہے کہ 2018جولائی میں پی ڈی پی اور بھاجپا کی حکومت گرنے کے بعد گور نر انتظامیہ کو اس بات کا انداز ہے کہ کوئی بھی سیاسی پارٹی اب حکومت سازی میں دلچسپی ظاہر نہیں کرتی تاہم اس کے باوجود بھی اسمبلی کو تحلیل نہیں کیا جا رہا ہے ۔انہوں نے مزیدکہاکہ اگر 2008میں اسمبلی کو تین دنوں میں تحلیل کیا جاسکتا ہے تو اس بار چار ماہ کی عرصہ کیوں دیا گیا ہے ۔انہوں نے مانگ کرتے ہوئے کہاکہ اسمبلی کو جلداز جلد تحلیل کیا جائے ۔اس موقعہ پر پریس کانفرس میں پارٹی کے صوبہ جموں سے صدر راجیو مہاجن ودیگر لیڈران اور کارکن بھی موجود تھے ۔