جموں//سی پی آئی ایم کے سینئر رہنما محمد یوسف تاریگامی نے کشمیریوں پر ملک کے مختلف حصوں میں حملوں کو شرمناک قرار دیتے ہوئے ریاستی گورنر سے اپیل کی کہ وہ صورتحال کو معمول پر لانے کیلئے کل جماعتی اجلاس بلائیں ۔جموں میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے تاریگامی نے کہاکہ پلوامہ خود کش حملے کے بعد کچھ شرپسند عناصر کی طرف سے پیدا کئے گئے ماحول میں ملک بھر میں کشمیری طلباء، تاجروں اور ملازمین کو نشانہ بنایاجارہاہے جو شرمناک ہے ۔ انہوں نے کہاکہ پلوامہ حملے کو صورتحال کو فرقہ وارانہ بنانے کیلئے استعمال نہیں کیاجاناچاہئے ۔تاریگامی نے کہاکہ پچھلی تین دہائیوں کے دوران نامساعد حالات کے باوجود جموں کے لوگوںنے فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور بھائی چارے کو بنائے رکھا اورآج بھی اکثریتی عوام اور سیول سوسائٹی کا رول قابل ستائش رہاہے تاہم کچھ فرقہ پرست عناصر حقیر سیاسی مفادات کیلئے صورتحال کافائدہ اٹھاناچاہتے ہیں اور وہ اس غم وغصہ کو اپنے مقاصد کے حصول کیلئے استعمال کرناچاہ رہے ہیں۔ان کاکہناتھاکہ حکام کو پہلے روز ہی جموں کے حساس علاقوں میں سیکورٹی فورسز کو تعینات رکھناچاہئے تھا کیونکہ پلوامہ حملے کے بعد صورتحال کشیدہ ہونے کے خدشات پیدا ہوئے تھے ۔تاریگامی نے کہاکہ جموں او رکشمیر ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہیں اور ایک دوسرے پر انحصار رکھتے ہیں اور تقسیم دونوں خطوں کے عوام کے مفاد میں نہیںاو رفرقہ پرستوں کو تفریق کی کوششوں کو کامیاب بنانے دینا دونوں کیلئے نقصاندہ ہے۔تاریگامی نے مزید کہاکہ یہ اہم وقت ہے کہ دونوں خطوں کے عوام صورتحال کو سمجھیں اور متحد ہوکر فرقہ پرست طاقتوں کو شکست دیں۔ ان کاکہناتھاکہ ایسے مرحلے پر لوگوں کا اتحاد ہی فرقہ پرستوں کی ناکامی ہوگی ۔انہوں نے حکومت پر زور دیاکہ وہ تفریق پسند قوتوں کے خلاف سخت کارروائی کرے جو ریاست میں امن و بھائی چارے کو نقصان پہنچانے کیلئے کوشاں ہیں، قانون توڑنے والا صرف اور صرف قانون توڑنے والاہے اوراس کے خلاف نظریات اور سیاسی جماعتوں سے وابستگی سے بالاتر ہوکر کارروائی ہونی چاہئے۔ تاریگامی نے کہاکہ ایسی فرقہ پرست طاقتیں جو بیرون ریاست کشمیریوںکو نشانہ بنارہی ہیں ، کے خلاف بھی سختی سے نمٹاجاناچاہئے ۔انہوںنے کہاکہ کشمیریوں خاص طور پر نوجوان نسل کو پشت بہ دیوار کرکے آخر کیا پیغام دیاجارہاہے اور یہ بہت ہی بدقسمتی کی بات ہے کہ وزیر اعظم نے ملک بھر میں کشمیری طبقہ پر ہورہے حملوں پر خاموشی اختیار کررکھی ہے ۔انہوںنے کہاکہ وزیر اعظم کو کم از کم ان حملوں کی مذمت کرنی چاہئے ۔تاریگامی کاکہناتھاکہ مرکزی حکومت کی طرف سے ایڈوائزری جاری ہونے کے باوجود زمینی سطح پر کشمیری طبقہ کے تحفظ کیلئے کچھ نہیں کیاگیا اورچنندہ قانونی کارروائیوں پر سوال کھڑے ہورہے ہیں۔تاریگامی نے کہاکہ ایک ریاست کے گورنر نے نسل پرستانہ بیان دیتے ہوئے کشمیریوں کی ہر چیز سے بائیکاٹ کاکہاہے جس کو برطرف کیاجاناچاہئے اوراس کے خلاف بغاوت کا مقدمہ درج ہوناچاہئے۔انہوںنے کہاکہ وہ سیول سوسائٹی کے رول کی سراہنا کرتے ہیں جس نے ہر ممکن کوشش کرکے کشمیری طبقہ بشمول ملک بھر میں زیر تعلیم طلاب کی مدد کی اور ریاست کے لوگ یہ امید کرتے ہیں کہ حکومت اور حزب اختلاف کی قیادت و سیول سوسائٹی و دانشور طبقہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو برقرار رکھنے اور وادی کے باہر کشمیریوں کی جائیداد کے تحفظ کیلئے اپنا رول ادا کرے گا۔سی پی آئی ایم رہنما نے مانگ کی کہ مرکز اور ریاستی حکومتیں کشمیریوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کیلئے تمام تر اقدامات کریں اور نفرت انگیز مہم و تشدد اختیا رکرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ انہوںنے کہاکہ ایسے عناصر کو کامیاب نہیں ہونے دیناچاہئے جو ملک اور کشمیر کے عوام کو ایک دوسرے سے دور کررہے ہیں۔تاریگامی نے کہاکہ وہ جموں کے لوگوں اور سیول سوسائٹی گروپوں کے رول کی سراہناکرتے ہیں جنہوں نے فرقہ پرستوں کے دبائو میں نہ آتے ہوئے ان کے مخالف موقف اپنایا ۔انہوںنے تجویز پیش کی کہ ریاستی گورنر فوری طور پر سیاسی لیڈران اور معززین کی میٹنگ بلاکر موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کریں۔اس موقعہ پر سی پی آئی ایم لیڈران غلام نبی ملک اور اوم پرکاش بھی موجود تھے۔