اودھمپور+سندربنی //بھارتیہ جنتاپارٹی کے قومی صدر امت شاہ نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ کو ان کے وزیر اعظم و صدر کے عہدوں کی بحالی کے بیانات پر شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے این سی لیڈر یہ سوچ رہاہے کہ وہ ایسا کرے گا اور بی جے پی لیڈر خاموشی سے دیکھی گی ۔انہوںنے کہاکہ بھاجپا نے ریاست میں حکومت افسپا کے معاملے پر چھوڑ دی اور پارٹی جموں میں مقیم ایک ایک روہنگیا کو نکال باہر کرے گی جنہیں ان کے بقول یہاں کا جغرافیائی تناسب تبدیل کرنے کیلئے بسایاگیاہے ۔انہوںنے کہاکہ اگر پاکستان ایک گولی چلائے گاتو اس کا جواب بم سے دیاجائے گا۔اودھمپوراورسندربنی میں انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے انہوںنے کہا’’عمر کو ہر چیز وراثت میں مل گئی ہے اور وہ سوچ رہے ہیں کہ پوری ریاست جموں و کشمیر انہی کی ہے ‘‘۔ان کاکہناتھا’’حال ہی میں عمر نے کہاہے کہ اگر بی جے پی نے آئین کے دفعہ35اے کوختم کیاتو ان کی جماعت جموں وکشمیر کیلئے وزیر اعظم اور صدر ریاست کے عہدے کی بحالی کی طرف بڑھے گی ، میں نہیں سمجھتاکہ وہ ایسا کرسکتے ہیں،لیکن اگر وہ ایسا سوچتے ہیں توپھر ایسا کیوں سوچ رہے ہیں کہ بی جے پی اس پر خاموشی سے بیٹھی رہے گی ۔میں عمر کو یہ بتادیناچاہتاہوں کہ مرکز میں نریندر مودی حکومت ہے کانگریس نہیں،اگر ہم اپوزیشن میں بھی رہے تو ہماری پارٹی ایسا نہیں ہونے دے گی ، ہم اس کیلئے اپنی جانیں قربان کردیں گے ،جموں و کشمیر ملک کا اٹوٹ انگ ہے ‘‘۔انہوںنے پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی اور کانگریس کے صدر راہل گاندھی کو بھی تنقید کانشانہ بنایا اور کہا’’صرف راہل ہی نہیں بلکہ میں محبوبہ مفتی اور این سی صدر اوران کے سرپرست راہل گاندھی پر یہ واضح کردیناچاہتاہوں کہ جب تک ملک میں بی جے پی ہے تب تک جموں وکشمیر کیلئے الگ وزیر اعظم کا خواب خواب ہی رہے گا‘‘۔انہوںنے کانگریس پر چنائو سے قبل نیشنل کانفرنس سے اتحاد پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہاکہ اودھمپور کی اس دلیر دھرتی سے وہ راہل گاندھی کو یہ کہناچاہیں گے کہ کیوں ان کی جماعت این سی اوراس کے لیڈران کی ہمدردہے جو کھلے عام پاکستان کے حق میں نعرے بلند کرتے ہیں ۔
افسپا ہٹانے کا معاملہ
کانگریس کے منشور میں افسپا کو ہٹانے کے اعلان پر انہوںنے کہا’’ایک طرف جب پی ڈی پی نے ہمارے اوپر افسپا ہٹانے کیلئے دبائو بنایاتو ہم نے محبوبہ مفتی سے حمایت واپس لے لی اور دوسری طرف کانگریس خود ہی افسپا ہٹانے کا وعدہ کررہی ہے جو شرمناک ہے ‘‘۔انہوںنے کہاکہ وہ کانگریس کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ دن کے خواب دیکھنا چھوڑ دے ،یہ نریندر مودی کی حکومت ہے جو افسپا کو کبھی ہٹانے نہیں دے گی۔ان کاکہناتھا’’ہم چٹان کی طرح فوج کے ساتھ کھڑے ہیں اور سیکورٹی فورسز کو کمزور کرنے کی کوششوںکو کامیاب نہیں ہونے دیں گے ‘‘۔انہوںنے کہاکہ کانگریس نے یہ وعدہ کیاہے کہ وہ بغاوت کے قانون کو ختم کرے گی لیکن بھاجپا چاہے حکومت میں رہے یا اپوزیشن میں ، کیا ایسا ہونے دے گی ۔انہوںنے کہاکہ ملک دشمنوں اور ان کی حمایتوں سے سختی سے نمٹاجائے گا۔انہوںنے کہاکہ وہ ملک کو کبھی ٹوٹنے نہیں دیں گے ۔
پریس کی آزادی
انہوںنے کہاکہ کانگریس نے پریس کی آزادی کی بات کی ہے لیکن اسی جماعت نے 1975میں ایمرجنسی نافذ کی جبکہ پریس کی آزادی بی جے پی حکومت کی اولین ترجیح ہے ۔
بالاکوٹ سٹرائیک
انہوںنے کہاکہ کانگریس نے ملک اور ریاست پر راج کیا مگر کبھی ملی ٹینسی اور سرحدی صورتحال سے نمٹنے کیلئے کوئی پالیسی نہیں بنائی ۔ان کاکہناتھا’’یوپی اے حکومت میں پاکستانی فوجیوں نے ہمارے سپاہیوں کے سر کاٹے لیکن انہیں کوئی سبق نہیں سکھایاگیا لیکن اس کے برعکس جب ہمارے غیر مسلح فوجی اوڑی میں مارے گئے تو ہم نے جواب میں سرجیکل سٹرائیک کی اور پھر جب پلوامہ میں 40سے زائد فوجی مرے تو ہم نے دشمن کو سبق سکھاتے ہوئے بالاکوٹ پر بم گرائے ،ہمارے سپاہیوں کی ہلاکت پر ملک بھر میں سخت غم و غصہ تھا ،س کا بدلہ لینے کیلئے ہم نے سرحدوں پر افرادی قوت اور مشینری بڑھادی اور جب دشمن ہمارے اس اقدام سے پریشان ہواتوہم نے اپنے دشمن کو حیران کرنے کیلئے ایئر سٹرائیک کی ‘‘۔انہوںنے کہاکہ اس ایئر سٹرائیک سے ملک میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور پٹاخے سرکائے گئے و مٹھائیوںتقسیم ہوئیں لیکن پاکستان اور راہل ، این سی اور پی ڈی پی لیڈران کو سرحد کے دوسری طرف ہلاکتوں کا دکھ ہوا۔
گولی کا بدلہ بم
انہوںنے کہاکہ اگر پاکستان ایک گولی مارے گاتو ہم اسے بم سے جواب دیں گے ۔انہوںنے کہاکہ ہم نے پاکستان میں بے گناہ شہری ہلاک نہیں کئے بلکہ ان دہشت گردوں کو مار گرایاجن پر ہمارے فوجیوں کا خون تھا۔امت شاہ نے کہاکہ ملی ٹینٹوں کے تئیں پیار کی پالیسی کانگریس کی ہے نہ کہ شیامہ پرساد مکھرجی کی بی جے پی کی ۔انہوںنے راہل گاندھی کوکو مخاطب کرتے ہوئے کہا’’آپ اپنی حکومت میں جو چاہیں وہ کریں لیکن ہماری حکومت میں ہر ایک ملی ٹینٹ جو ہمارے فوجیوں پرایک گولی برسائے گا ، کو رد عمل میں بم ملے گا‘‘۔
روہنگیا بدری
بھاجپا قومی صدر نے کہاکہ جموں میں روہنگیاکو جغرافیائی تناسب تبدیل کرنے کیلئے بسایاگیااور ان کی جماعت ہر ایک روہنگیا کو نکال باہر کرے گی ۔انہوںنے کہاکہ بی جے پی روہنگیاکی دراندازی پر اپنا کام کرے گی ۔ان کاکہناتھا’’میں آپ کو یقین دلاتاہوں کہ اقتدا رمیں آنے کے بعد مودی حکومت روہنگیا دراندازی پر این آر سی لائے گی اور ہر ایک روہنگیا کو دھکیل دیاجائے گا‘‘۔انہوںنے کہا’’روہنگیاکی دراندازی جموں میں جغرافیائی تناسب تبدیل کرنے کی کوشش ہے جو بی جے پی نہیں ہونے دے گی ‘‘۔
سرحدی عوام
سندربنی میں ریلی سے خطاب کرتے ہوئے امت شاہ نے کہاکہ بی جے پی حکومت نے سرحدی علاقوں کی عوام کی حفاظت کیلئے 17ہزار بنکروں کو منظوری دی ہے جبکہ کانگریس نے ان لوگوں کی چیخ وپکار پر خاموشی اختیار کئے رکھی ۔اس موقعہ پر پارٹی کے ریاستی صدر رویندر رینہ ، دونوں امیدوار ڈاکٹر جتیندر سنگھ اور جگل کشور شرماو دیگرسینئر لیڈران بھی موجو دتھے۔