میر ی عادت تھی کہ جو کچھ میں لکھتا تھا پھر اسے نہ ہی بہتر بنانے کی کوشش کرتا اور نہ ہی اس کی کوئی کاپی اپنے پاس رکھ لیتا تھا ۔ ادبی معاملے میں یوں تو ہر صنف میں طبع آزمائی کی ہے مگر اس معاملے میں ہمیشہ استاد کے بغیر رہا۔ جو کچھ دماغ میں آیا لکھ لیا۔ پھر کبھی کوئی کہانی ریڈیو سٹیشن میں پڑھی اور کوئی ڈرامہ ٹیلی ویژن یا ریڈیو میں دیا، مگر کسی ا سکرپٹ کی کاپی اپنے پاس نہیں رکھی۔ چنانچہ آج مجھے معلوم ہی نہیں کہ کیا لکھا تھا۔ دراصل اپنے متعلق میرا یہ خیال تھا کہ مجھے کونسا شیکسپئر بننا ہے جو اپنی تخلیقات سنبھال کے رکھوں۔ ان دنوں میری سوچ اپنے متعلق یہ تھی کہ اگر ریڈیو اور ٹیلی ویژن سے میرے نام کے حوالے سے کچھ پیش ہوتا ہے تو وہی بڑی بات ہے، کیونکہ اس سے میری ذات کو خوشی ملتی۔ میں اسی خوشی کو اپنے لکھنے کا معاوضہ اور انعام سمجھتا اور اس سے ہی اپنی محنت کا پھل مانتا ۔ میں نے جو کچھ لکھا تو وہی لکھا جسے محسوس کیا اور جو خیال دل میں آیا اسے کاغذ پر اُتارا۔ کبھی بے ساختہ طور کوئی احساس اور جذبہ دل میں آیا جس نے لکھنے پر مجبور کردیا تو اُسے الفاظ کی گرفت میں لانے کی کوشش کی۔ لکھنے سے میں نے کبھی زبردستی نہیں کی۔ یہی وجہ ہے کہ میں نے جو کچھ لکھا اس کی اپنی ایک الگ لسانی ساخت ہے، اوریجینلٹی اور الگ شناخت ہے۔ چنانچہ جب میں نے انگریزی میں زیادہ استعداد اور دسترس نہ ہونے کے باوجود اپنی کچھ کہانیوں کا انگریزی میں ترجمہ کرکے "Raging Stream"کے عنوان سے کتاب شائع کی تو امریکہ کی ایک خاتون نقاد، جو شارٹ سٹوریز کی ایک ویب سائٹ کی مالک بھی ہے، نے اس کتاب کا 'پیش لفظ لکھا۔ اس میں اس نے یہ بات بھی لکھی کہ ’’مجھے دنیا کے تمام خطوں کے چھوٹے بڑے تخلیق کاروں کی کہانیاں پڑھنے کا شرف حاصل ہے اور میں یہ بات یقین سے کہتی ہوں کہ مجھے ایسی اوریجینلٹی کہیں نہیں ملی جو نذیر جہانگیر کی کہانیوں میں ملتی ہے۔‘‘
یہاں اس بات کا ذکر بھی دلچسپی سے خالی نہ ہوگا کہ ذرہ بے مقدار کی ایک تصنیف ’’چودھویں کا چاند‘‘ کے لئے مرحوم حامدی کاشمیری نے تجزیاتی نوٹ لکھا جس میں وہ ناکارہ خلائق کے مزاحیہ نوشتوں اور لکھنے کے اسلوب پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ’’نذیر جہانگیر طنزومزاح کو اوڑھتے نہیں، وہ اس کی یافت اپنی شخصیت کی گہرائیوں میں کرتے ہیں اور وہ اس کے اظہار میں زندگی کے سوز وساز سے گزرتے ہیں اور اور قاری ان کے ساتھ ہولیتا ہے۔‘‘ چونکہ یہ مضمون میری یادوں کے حوالے سے ہے اس لئے اس میں طرح طرح کی کہانیاں اور رنگینیوں کا آنا ضروری ہے اور اس میں موضوع بدلتے رہیں گے۔
گزشتہ صدی کی آٹھویں دہائی میں جب محترم طاہر محی الدین صاحب اور’’ آفتاب‘‘ کے ایڈیٹر خواجہ ثنااللہ بٹ صاحب کے درمیان کچھ رنجش پیدا ہوئی تو طاہر صاحب نے’ آفتاب‘‘ سے استعفیٰ دے دیا۔ جن دنوں وہ’’ آفتاب‘‘ میں تھے ،ان کا’’ 'خبروں کے آئینے میں‘‘ عنوان کے تحت روزانہ کالم شائع ہوتا تھا۔ وہ کالم عوام میں بہت مقبولیت حاصل کرچکا تھا ،اس لئے طاہر صاحب کے جانے کے بعد بھی خواجہ صاحب اس کالم کو جاری رکھنا چاہتے تھے۔ چنانچہ انہوں نے مجھے یہ کالم لکھنے کے لئے کہا۔ اول تو میں نے معذوری ظاہر کی مگر پھر ان کے اصرار پر لکھنا شروع کیا۔ دراصل میں اپنے آپ کو اس قابل نہیں پاتا تھا کہ یہ کالم لکھ سکوں۔ ان دنوں وہاں میرے عزیز دوست محترم ڈاکٹر منصور احمد منصورؔ بھی کام کرتے تھے۔ اس طرح طاہر صاحب کے بعد’’ 'خبروں کے آئینے میں‘‘ کا کالم کسی دن میں اور کسی دن منصورؔ صاحب لکھنے لگے۔ میرے’’ آفتاب‘‘ سے منسلک ہونے کے کچھ ہی وقت پہلے خواجہ صاحب سے کچھ اختلاف کے باعث یوسف جمیل صاحب ’’آفتاب ‘‘میں طویل عرصے تک اپنی خدمات انجام دینے کے بعد یہ ادارہ چھوڑ چکے تھے۔
خواجہ صاحب پاکستان کے فوجی صدر ضیاالحق کے مداح تھے۔ ایک دن منصور ؔصاحب نے اشاعت کی غرض سے اپنا ایک مضمون خواجہ صاحب کو دے دیا۔ اس مضمون کا عنوان تھا ’’آمریت کے لبوں پر اذان تھرک رہی ہے‘‘ یوں تو وہ مضمون ضیاالحق کی حمایت میں تھا مگر سرخی دیکھ کر خواجہ صاحب یہ سمجھے کہ یہ مضمون ضیاالحق کے خلاف ہے، چنانچہ ناراض ہوگئے۔ منصور ؔصاحب کی تحریریں خواجہ صاحب کو پسند تھیں۔پریس سے وابستگی ہونے کے سبب بہت سی ایسی باتیں مجھے معلوم ہوجاتی تھیں جو عام لوگون سے پوشیدہ اور اوجھل رہتی تھیں۔ خیربات کرتے کرتے کبھی کبھی انسان ترنگ میں آتا ہے۔ پھر بات سے بات بنتی ہے اور ایک موضوع سے دوسرا موضوع چھڑجاتا ہے۔جب بیسویں صدی کی ساتویں عشرے میں شیخ صاحب کو سرکار دینے پر بیگ پارتھا سارتھی بات چیت چل رہی تھی تو مجھے یہ معلوم ہوا تھا کہ ’’آفتاب‘‘ کے ایڈیٹر مرحوم خواجہ ثنااللہ بٹ صاحب شیخ صاحب سے دہلی میں تین بار ملے تھے۔ واقف کار حلقوں سے مجھے معلوم ہوا تھا کہ بٹ صاحب نے شیخ صاحب سے کہا تھا کہ آپ کی وزارت اعلیٰ کی کرسی سنبھالنے سے آپ کی ساکھ بہت حد تک متاثر ہوسکتی ہے ۔ یہ سن کر شیخ صاحب نے تیوریاں چڑھائیں اور بٹ صاحب کی بات کا اُن پر الٹا اثر ہوا تھا اور ان پر کچھ غصے کی کیفیت بھی طاری ہوئی تھی۔ بٹ صاحب کا بیان تھا کہ پھر شیخ صاحب کی آنکھیں بھر آئیں اور انہوں نے مجھ سے کہا:’’بٹ صاحب، کیا میں لوگوں کو دھوکہ دے سکتا ہوں؟ میں نے کرسی کو پہلے بھی لات ماردی ہے تو کیا اب محض وزارت اعلیٰ کا منصب اختیار کرکے اپنی عزت کا سودا کروں؟ مجھے سرکار میں آنے دو، میں مجیب الرحمان بن کے دکھا دوں گا۔‘‘ بٹ صاحب کا کہنا تھا کہ شیخ صاحب سے یہ باتیں سن کر میری آنکھوں میں بھی آنسو آگئے۔ شیخ صاحب یہ ماننے کو تیار نہ تھے کہ حکومت ہند نے انہیں کرسی سے ہٹالیا تھا بلکہ وہ کہتے تھے کہ میں نے ہی کرسی کو لات ماردی تھی۔ذاتی طور مجھے لگتا ہے کہ شاید شیخ صاحب کا واقعی ایسا ارادہ رہا ہو مگر بعد میں انہیں ایسا محسوس ہوا ہو کہ ایسا کرنا ان کے لئے ممکن ہی نہیں۔ اُس وقت اب ان کی عمر بھی کچھ ایسی نہ تھی جس میں انسان خارجی دباؤ کچھ زیادہ برداشت کرسکتا ہو۔ اس وقت وہ عمر کی اس حد پر پہنچ چکے تھے جہاں قویٰ کمزور ہوچکے ہوتے ہیں۔ انہی دنوں جب 1977ء کے الیکشن کے بعد شیخ صاحب دوبارہ اقتدار میں آئے تو انہوں نے اس عزم کا ارادہ کیا تھا کہ وہ انتظامیہ کو کورپشن سے پاک کریں گے۔ چنانچہ پریس میں یہ خبر آئی کہ حکومت نے ایسے بیس بیروکریٹوں کی فہرست تیار کرلی ہے جو بہت زیادہ بدنام کرپٹ افسران ہیں اور ابتدائی مرحلے میں انہیں جبری طور ریٹائر کیا جائے گا، مگر پھر اس مبینہ فیصلے کو بھی کبھی عملی جامہ نہیں پہنایا جاسکا۔ وجہ یہی نظر آرہی ہے کہ اس فیصلے کو واپس لینے کے لئے بھی شیخ صاحب پر دباو پڑا ہوگا۔
میرے ان محسوسات میں کہاں تک صداقت ہے ،وہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کیونکہ ان باتوں کی تصدیق یاتردیدکے لئے نہ ہی بٹ صاحب زندہ ہیں اور نہ ہی شیخ صاحب۔ تاہم جب شیخ صاحب نے وزارت اعلیٰ کی کرسی پر ہی گزارہ کرلیا اور وہ یقین دہانی جو انہوں نے بٹ صاحب کو دی تھی ،پوری نہ ہوئی تو وہ شیخ صاحب سے بدظن ہوگئے تھے، اگرچہ اس کا اظہار وہ اخبار میں نہیں کرتے تھے بلکہ اس ناراضگی کا نجی محفلوں میں برملا اظہار کرتے تھے۔ یاد رہے شیخ صاحب سے سب لوگ ڈرتے تھے ؎
یاد ماضی عذاب ہے یارب
چھین لے کوئی حافظہ میرا
یادیں شیریں ہوں یا تلخ، ایک طرح سے تو عذاب ہی ہوتی ہیں۔ جب شاعر پرانی یادوں میں کھوجاتا ہے تو کہتا ہے ؎
بوڑھے برگد کے نیچے ہم دھوپ میں اِملی کھاتے تھے
اُس دُبلے پتلے دھوبی کی لڑکی کا جوبن یاد آیا
شام سویرے دادا جی مرغی کو دانہ دیتے تھے
باورچے خانے میں بجتا دادی کا کنگن یاد آیا
دولہے کے گھوڑے کے آگے سب ناچتے گاتے چلتے تھے
اور دلہن کو لگنے والا ہلدی چندن یاد آیا
اب یادوں کے سوا میرے پاس رہا ہی کیا ہے۔ میں اس دور کا مسافر ہوں کہ بقول امیر مینائیؔ ؎
وہ بیدردی سے سر کاٹیں اور میں کہوں ان سے
حضور آہستہ آہستہ، جناب آہستہ آہستہ
بہرحال یادیں میرے پاس بھی ہیں، کچھ کہنے کے لائق ہیں کچھ اپنے ساتھ ہی دفن ہوجائیں گی اور میری قبر سے گزرنے والے شخص کو یہ احساس بھی نہیں ہوگا کہ اس منوں وزن کی مٹی کے نیچے ایک ایسا بھی مشت خاک ہے جو اپنے سینے میں یادوں کا ایک بڑا خزانہ لئے پڑا ہے، جن سے اگر زمانہ واقف ہوا تو پہاڑ ہل جائیں گے اور زمین لرز اٹھے گی، جس نے جب جڑنے کی کوشش کی تو جڑا نہیں، جس نے جب چلنا چاہا تو چلا نہیں اور جب رُکنا چاہا تو رکا نہیں! اس دنیا میں تنہا رہ کر بھی وہ یادوں کو سمیٹتا رہا، وہ یادیں جنہوں نے اُسے روشنیاں بھی دیں اور جو روشنیاں زمانے اور اُس کے درمیان آڑ بھی بنیں ؎
طے کروں گا یہ اندھیرا میں اکیلا کیسے
میرے ہمراہ چلے گا میرا سایہ کیسے
یاد کے قصر ہیں، امید کی قندیلیں ہیں
میں نے آباد کئے ہیں درد کے صحرا کیسے
اس لئے صرف خدا سے ہے تخاطب میرا
میرے جذبات کو سمجھے گا فرشتہ کیسے
کشمیر کے مایہ ناز افسانہ نگار اختر محی الدین صاحب بڑے ملنسار قسم کے آدمی تھے، اگرچہ انہیں غصہ بھی جلد چڑھتا تھا تاہم ہنس مکھ بھی تھے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد اکثر کافی ہاؤس آتے جاتے رہتے تھے اور زیادہ تر نوجوان ادیبوں کے پاس ہی بیٹھنا پسند کرتے تھے۔ ان کے پاس معلومات کا کافی ذخیرہ تھا جسے وہ کھلے دل سے نوجوان ادیبوں کے ساتھ شئیر کرتے تھے۔ انہی دنوں م ٖح ظفر صاحب، اقبال فہیم صاحب اور احقر نے مل کر کشمیری ادبی میگزین ’’واد‘‘ نکالنا شروع کیا۔ وہ ادبی حلقوں میں بہت مقبول ہوا مگر اس کے سبب بہت سے 'تنازعات (controversies) نے بھی جنم لیا، اس لئے بعض لوگوں نے ’’واد‘‘ کو’ ’پھاٹوَن واد‘‘ کا نام دیا۔ پوری طرح یاد نہیں اصل واقعہ کیا تھا کہ ایک شمارے میں اخترؔ صاحب نے نہ جانے شفیع شوقؔ صاحب کے متعلق کیا بات لکھ دی کہ شوقؔ صاحب آپے سے ہی باہر ہوگئے۔ اب بھلا وہ اخترؔ صاحب کی بات کا جواب کیسے دیتے کیونکہ ’’واد‘‘ کا اگلا شمارہ ابھی تین ماہ بعد آنے ولا تھا۔ چنانچہ انہوں نے اپنے جواب کو سائیکلو سٹائلِ کروایا اور میں نے دیکھا کہ وہ بڑی بے تابی اور پریشانی میں کافی ہاؤس کے باہر اور ریگل چوک کے آس پاس وہ کاپیاں یہاں کے ادیبوں میں تقسیم کر رہے تھے۔ میں نے شوقؔ صاحب میں یہ بات نوٹ کی ہے کہ وہ سامنے کبھی کسی کو گالی نہیں دیتے اور نہ ہی کوستے ہیںاور اگر کبھی کسی کے خلاف کچھ کہتے بھی ہیں توکچھ ایسے سٹائل سے کہتے ہیں کہ سننے والے کو لگتا ہے گلزارؔ کی کوئی نظم پڑھ رہے ہیں! شوقؔ صاحب عام طور دھیمی آواز میں بات کرتے ہیں مگر اُس دن دیکھا کہ غصے میں کچھ ایسے بڑبھڑارہے تھے جیسے امریش پوری ویلن کے روپ میں گرجتا ۔ ادب میں شوق کا اعلیٰ مقام ہے۔ ایک اور بات بھی ان میں ضرور ہے کہ وہ اپنے گھر میں مہمان کی بڑی خاطر داری کرتے ۔ میں کئی بار ان کی رہائش گاہ(جب وہ یونیورسٹی کے فلیٹ میں رہتے تھے) گیا ہوں اور انہوں نے خود اپنے ہاتھوں سے ہمیشہ میرے لئے کافی بنائی۔ ذہانت ان میں اعلیٰ د رجے کی ہے۔ اخترؔ صاحب کے حوالے سے یہ عرض کروں کہ اُن کا تکیہ کلام تھا:’ ’ہُو یہِ وَغارہ‘‘ اور اُن کی عادت تھی کہ شہادت کی انگلی کو ساتھ والے انگوٹھے سے مسلتے رہتے تھے۔ جب میں نے اپنا افسانوی مجموعہ ’’پُہُن تہ دَگ‘ ‘شائع کیا تو میں نے اُس میں اُن کے انگلی کے انگوٹھے سے مسلنے کا ذکر کرتے ہوئے مزاحیہ طور یہ لکھا کہ:’’ جب میں نے پہلی بار اخترؔ صاحب کو دیکھا تو لگا کہ وہ یا تو تسبیح کے دانے گن رہے ہیں یا ’مونگہ پَتھ‘ (تاش کا کھیل) کھیل رہے ہیں‘‘۔ کتاب میں اُن کے ’’ہو یہ وغارہ‘‘ بار بار کہنے کا بھی ذکر کیا۔ کتاب کے شائع ہونے کے بعد میں اُن کے سامنے آنے سے کتراتا تھا اور شرمندگی محسوس ہورہی تھی کہ میں نے یہ باتیں اپنی کتاب میں کیوں تحریر کیں! خیال یہی تھا کہ اخترؔ صاحب کو بہت غصہ ہوگا۔ ایک دن اچانک مل گئے تو دیکھا کہ ماتھے پہ ناراضگی کی ہلکی شکن بھی نہیں، بڑے پیار سے ملے تاہم میں نے دیکھا کہ ’’ہو یہ وغارہ‘‘ کا تکیہ کلام بھی بھلادیا ہے اور انگوٹھی کو مسلنے کی عادت بھی۔ان دنوں ظفر صاحب بڑی مدت کے بعد جے پور سے یہاں آئے تھے، انہوں نے وہاں فلاسفی میں اپنی تھیسِس پیش کی تھی اور ڈاکٹریٹ کی ڈگری کے منتظر تھے۔ چونکہ فلاسفی کا گہرا مطالعہ تھا اِس لئے بلاغت (Rhetoric )کے فن میں بڑی مہارت حاصل تھی۔ وہ جب کافی ہاوس آتے تو یہاں کے بڑے بڑے ادبا اور صحافیوں سے مباحثے میں شریک ہوتے اور انہیں پچھاڑتےتھے۔ اس طرح وہ ادبی حلقوں میں بہت جلد مقبول ہوگئے اور انہوں نے ایک با اثر اور معتبرنقاد کی حیثیت میں اپنا لوہا منوالیا۔ یہاں کے دانشور انہیں بڑی عزت کرتے تھے۔ ’’واد‘‘ کے لئے ظفر اور فہیم ہی زیادہ محنت کرتے تھے اور یہی دو لوگ اس میگزین کے روح رواں تھے، میرا نام تو خانہ پری کے لئے تھا ،تاہم میری تخلیقات اس میں چھپتی رہتی تھیں اور اپنی استعداد کے مطابق میں ان دنوں اس کی مالی امداد بھی کرتا تھا، تاہم بعد میں وہ ذمہ داری بھی ظفر اور فہیم نے اپنے سرلی اور یوں میرا اس میگزین سے نام خارج ہوا۔
میرے افسانوں کے متعلق اگرچہ ظفر نے یہ لکھا کہ نذیر جہانگیر کے افسانے نظم اور نثر کا اختلاط ہے اور بھی تعریفیں لکھیں مگر فہیم میرے بعض افسانوں کے متعلق کہا کرتا تھا کہ یہ تو محض پریگرافس ہیں، کامل کہانیاں نہیں ۔ مجھے یہ بات بتانے میں کوئی عار نہیں کہ میرے نام کو آگے بڑھانے میں ظفر، فہیم، رفیق رازؔ اور بنسی نردوش کا بھی رول رہا۔ بنسی نردوشؔ کو دیکھا ہے کہ اُس میں تعصب کا شائبہ بھی نہ تھا۔ وہ بہت ہی خوبصورت دل کے مالک تھے ؎
صلیب سنگ پہ لکھا مرا فسانہ گیا
میں رہ گزر تھا مجھے روند کر زمانہ گیا
گلیم اوڑھ کے آئے تھے رات کے قزاق
بلکتی شام سے سب دھوپ کا خزانہ گیا
میں ایک ڈولتا ساگر مجھے اٹھاتا کون
گھٹا اٹھا کے چلی تھی مگر چلا نہ گیا
بہر صورت یادوں کا انبار ہے! کسے کہاں بٹھادوں کچھ سجھائی نہیں دیتا۔کلچرل اکیڈمی والوں نے میری ایک کشمیری کہانی ’’کریکھ‘ ‘جائزہ لکھنے کے لئے جناب امین کاملؔ صاحب کودی تھی اور حسب روایت انہیں یہ نہیں بتایا گیا تھا کہ یہ کہانی کس کی لکھی ہوئی ہے۔انہوں نے کہانی کی بڑی تعریف کی تھی اور جائزے میں یہ بھی لکھا تھا کہ ’’یہ افسانہ چھُ پران پَران انسانس کاژِ تَل رَٹان!‘ ‘یعنی یہ کہانی قاری کو اپنی گرفت میں لیتی ہے اور پڑھنے میں محو رکھتی ہے۔ یہاں یہ بات بھی دلچسپی سے خالی نہ ہوگی کہ مرحوم حامدی کشمیری صاحب نے میرے مزاحیہ مضامین پر مشتمل کتاب ’’چودھویں کا چاند‘‘ پر جائزہ لکھا تو میرے مضامین کے حوالے سے ایسے ہی خیالات کا اظہار کیا اور غنیؔ کشمیری کا یہ مصرع لکھ دیا ع
دام ہمرنگ زمیں بود، گرفتار شدم
پھر نہ جانے کیوں کامل ؔصاحب کا وہ تبصرہ اکیڈمی کے کشمیری میگزین ’’شیرازہ‘‘ میں شامل نہیں کیا گیا، اللہ بہتر جانتا ہے۔ حالانکہ اُن دنوں کشمیری’ ’شیرازہ‘‘ کے ایڈیٹر میرے عزیز دوست مجید عاصمی صاحب تھے جو نہایت اچھی طبیعت اور بلند اخلاق کے مالک ہیں۔بہرحال میں اپنی بے وقعت انا میں ڈوبی طبیعت کے سبب کبھی کاملؔ صاحب سے گھل مل نہ سکا اور ہم دونوں ایک دوسرے سے ہمیشہ دور ہی رہے حالانکہ وہ ایک ہمہ جہت شخصیت کے حامل ادیب تھے۔ وہ نہ صرف کشمیر کے بہترین شاعر تھے بلکہ بہترین کہانی کار، ڈرامہ نویس اور نقاد بھی تھے۔ فکشن کے بغیر بھی جو کتابیں انہوں نے لکھی ہیں ،وہ بھی اعلیٰ معیار کی ہیں۔ باوجودیکہ تصوف کے موضوع پر اُن کی کتاب ’’روحانی سفر‘‘ سے اختلاف کی گنجائش ہے، یہ بات ماننی ہوگی کہ ان کا مطالعہ نہایت وسیع تھا۔ ابھی تک مجھے کشمیر میں اُن جیسے پایہ کا کوئی ادیب نظر نہیں آتا۔ یہ بات بھی دلچسپی سے خالی نہیں ہوگی کہ جن دنوں کلچرل اکیڈمی میں اردو ’’شیرازہ‘‘ کے ایڈیٹر محترم اشرف ٹاک صاحب تھے، میں نے ان کو کاملؔ صاحب کی کتاب ’’روحانی سفر‘‘ کے حوالے سے ایک مفصل مضمون اشاعت کے لئے دیاتھا جس میں ان اختلافات کو ظاہر کیا تھا جو کامل ؔصاحب کے تصوف کے تئیں تھے اور جن واقعات کو انہوں نے پیش کرکے تصوف کی تفصیل دی تھی مگر افسوس وہ مضمون بھی شائع نہ ہونے سے ضائع ہوا۔ میرے یہ ایک بُری عادت ہے کہ میں عام طور اینے مضامین اور افسانوں یا ڈراموں کی کوئی کاپی نہیں رکھتا، چنانچہ اس مضمون کی بھی کوئی کاپی میرے پاس نہیں ہے۔ زیادہ افسوس اس بات کا ہے اور یہ بات میرے لئے کسی بڑے المیہ سے کم بھی نہیں، کہ میں نے کئی سال پہلے کلچرل اکیڈمی والوں کو اپنے تقریباً بیس افسانے دئے اور سبسڈی کے لئے درخواست دی۔ یہ افسانے میرے بہت برسوں کی محنت تھی۔ اب مجید عاصمی صاحب کی وساطت سے ہی یہ اطلاع ملی کہ وہ لوگ کہتے ہیں کہ میرا وہ تمام مسود2014 ء کے سیلاب کی نذر ہوگیا۔ افسوس یہ کہ میرے پاس اُن میں کئی افسانوں کی کوئی کاپی نہیں! میرے تقریباً پچاس کے قریب ڈرامے ریڈیو اور ٹیلی ویژن سے پیش ہوئے مگر میری سیمابی طبیعت کے سبب اُن کی بھی کوئی کاپی میرے پاس نہیں ہے۔ کلچرل اکیڈمی نے جو حال میرے افسانوں کا کیا میرے لئے وہ ایک سانحہ ہے!بہرحال جب کاملؔ صاحب نے سامعین کے سامنے میری کہانی پر اپنا تبصرہ پڑھا تو میں نے انہیں افسانے کے حوالے سے اپنے خیالات ظاہر کرنے کی درخواست کی۔ اُن کی ساری باتیں اب یاد نہیں تاہم ان کی یہ بات بھولا بھی نہیں ہوں کہ افسانے کے لئے یہ ضروری ہے کہ اِس میں قصہ کا عنصر ہونا چاہئے یعنی جیسے کوئی قصہ ہوتا ہے اُس جیساعنصر بھی افسانے میں ہونا ،کاملؔ صاحب کے مطابق ضروری تھا۔
( باقی باقی)