وارانسی//وزیر اعظم نریندر مودی نے ‘بڑے عزم وہدف ’ کے ساتھ ملک کو آگے بڑھانے پر زور دیتے ہوئے سنیچر کو کہا کہ ‘عوامی شراکت داری’ سے ہندوستان اگلے پانچ سالوں میں ‘پانچ ٹریلین ڈالر معیشت’ والا ملک بنے گا۔آر ایس ایس کے فاونڈر ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی کے یوم پیدائش کے موقع پر منعقد ایک تقریب میں بی جے پی کی ممبر سازی مہم کا آغاز کرتے ہوئے مسٹر مودی نے کہا کہ‘ناامید’ لوگ ہندوستان کو پانچ ٹریلین ڈالر معیشت’ والا ملک بنانے کے حکومت کے عزم کے حوالے سے منفی باتیں کرر ہے ہیں لیکن انہیں پورا یقین ہے کہ مثبت سوچ اور اجتماعی کوششوں سے کچھ بھی ناممکن نہیں ہے ۔انہوں نے بڑا لال پور کے پنڈت دین دیال اپادھیائے ہستکلا سنکل میں ہزاروں کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کئی مثالوں کے ذریعہ سے انہیں منفی ماحول بنانے والوں سے محتاط رہنے کی اپیل کی۔مسٹر مودی نے کہا ہمیں غریبی کی سوچ سے باہر نکلنا ہوگا۔ ملکی معیشت کے مضبوط ہونے پر ہر سماج کے لوگوں کی معاشی حالت میں بہتری آئی گی اور ان کے طرز زندگی میں تبدیلی آئے گی۔انہوں نے عوامی شراکت داری کی اہمیت کو بتاتے ہوئے کہا کہ پانچ ٹریلین ڈالر معیشت بنانے کے لئے حکومت کا کردار کم جبکہ ملک کے عوام کا حصہ زیادہ ہے اور ہمیں پورا یقین ہے کہ ان کی شراکت سے پانچ۔چھ ٹریلین ڈالر اکانومی کا ہدف حاصل کرنے میں ملک کامیاب ہوگا انہوں نے کارکنوں سے پورے اعتماد کے ساتھ آس پاس کے لوگوں کو بھی اس میں شراکت دار بنانے کی اپیل کی۔وزریر اعظم نے مرکز میں حکومت کرنے والی سابقہ اپوزیشن کی حکومتوں کا نام لئے بغیر کہا کہ ہندوستانی معیشت میں ایک ٹریلین ڈالر جوڑنے میں 55۔60 سال لگ گئے تھے لیکن ان کی حکومت محض پانچ سالہ میعاد کارمیں اتنی کامیابی حاصل کرنے میں کامیابی ملی ہے ۔ انہیں یقین ہے کہ اگلے پانچ سالوں میں ہندوستان پانچ ٹریلین ڈالر اکانومی کا ہدف حاصل کرنے میں کامیاب ہوگا۔مسٹر مودی نے بجٹ کی تنقید کرنے والوں سے کہا کہ آپ بجٹ کا تجزیہ یا اس کی تنقید کرسکتے ہیں لیکن ملک کی حوصلہ شکنی کرنے والے خیالات اچھے نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ‘ناامید لوگوں’ کو یہ سوچنا چاہئے کہ حوصلہ رکھنے سے تو بیماری کو بھی شکست دی جاسکتی ہے ۔انہوں سابق وزیر اعظم آنجہانی لال بہادر شاستری کے ‘جئے جوان جئے کسان’ کے نعرے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دوسرے ممالک پر انحصار کرنے والے ہندوستا ن میں صرف ایک نعرے نے اناج کی کمی کو پورا کردیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی آزادی کے وقت انگریز جب یہاں سے جارہے تھے تو انہیں لگا تھا کہ ہندوستان ٹکڑوں ٹکڑوں میں تقسیم ہوجائے گا اور یہاں کی ریاستوں میں بھاری ٹکراؤ ہوگا ۔مسٹر مودی نے کہا کہ اتراکھنڈ میں کچھ سال پہلے زلزلہ سے سب کچھ تباہ ہوگیا تھا تو ایسا کہا جاتا تھا کہ اس کا دوبارہ کھڑا ہونا اب مشکل ہے اور ایسا ہی ماحول گجرات میں آئے زلزلے کے بعد بھی بنایا گیا تھا۔ لیکن مثبت سوچ کی وجہ سے ان مشکل حالات سے نکل کر ہر قدم پر ہم آگے بڑھنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ یہ سب ہمارے مضبوظ عزائم کی وجہ سے ممکن ہو پایا ہے ۔انہوں نے کہا کہ سال 2014 میں جب ان کی قیادت میں حکومت بنی تو دال کی قیمتیں آسمان چھو رہی تھیں لیکن ان کی دال کی کھتی بڑھانے کی اپیل کو کسانوں نے سمجھا اور اس پر عمل کیا۔نتیجے کے طور پر اب ہم اس ضمن میں کسی بھی قسم کی مشکل سے پوری طرح سے محفوظ ہیں۔ساتھ ہی لوگوں سے تیل کی پیدوار میں اضافہ کے لئے زمین کے دسویں حصے میں تلہن کی کھیتی کرنے کی اپیل کی۔اس موقع پر وزیراعظم نے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے پانچ لوگوں کو بی جے پی کی رکنیت دلائی۔ انہوں نے ضلع وارانسی کے رہنے والے ریکھا، منگل پرساد، ہری رام دویدی، چھوٹے لال اور رام کشور کو بی جے پی کی رکنیت دلاکر انہیں ممبر شپ سرٹیفیکٹ سے نوازہ۔بی جے پی کی ممبر سازی مہم تقریب سے اترپردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ، بی جے پی کے کارگذار صدر و سابق مرکزی وزیر جے پی نڈا، مرکزی وزیر اور ریاستی صدر ڈاکٹر مہندر ناتھ پانڈے نے خطاب کیا۔