نئی دہلی// کرناٹک کے سیاسی حالات کے سلسلے میں کانگریس کے اراکین نے آج راجیہ سبھا میں غیر معمولی ہنگامہ کیا اور گھنٹو ں تک مسلسل نعرے بازی کی جس کی وجہ سے تین مرتبہ کے التوا کے بعد ایوان کی کارروائی کل تک کے لئے ملتوی کردی گئی۔وقفہ صفر اور وقفہ سوالات میں ایک مرتبہ پھر التوا اور لنچ کے بعد ایک بار التوا کے بعد تین بجے ایوان کی کارروائی شروع ہوئی تو کانگریس کے تقریباً بیس اراکین چیئرمین کی نشست کے پاس پہلے کی طرح آگئے اور مسلسل سوا گھنٹے تک جم کر نعرے بازی کی لیکن نائب چیئرمین ہری ونش ایوان کوچلانے پر مصر ہوگئے ۔ شور شرابے میں بی جے پی کے سریش پربھو’ انا ڈی ایم کے کے اے نونیت کرشنن’ نامزد رکن نریندر جادھو اورشیو سینا کے انل ڈیسائی بجٹ پر اپنا بیا ن دیتے رہے لیکن ہنگامہ کی وجہ سے کچھ سنائی نہیں پڑا۔ ایوان کی اس صورت حال کو دیکھتے ہوئے سماج وادی پارٹی کے رام گوپال یادو نے کہا کہ کسی کی کویئی بات سنائی نہیں پڑ رہی ہے اس لئے ان کے پارٹی کے اراکین ایوان سے واک آوٹ کررہے ہیں۔ اس کے بعد سماج وادی پارٹی کے اراکین ایوان سے باہر نکل گئے ۔مسٹر ہری ونش کے ایوان چلانے کے سخت موقف کودیکھتے ہوئے کانگریس کے ڈپٹی لیڈر آنند شرما اور جے رام رمیش نے ایوان کے رہنما تھاور چند گہلوت اور پارلیمانی امور کے وزیر مرلی دھرن کے ساتھ بات چیت کرکے ایوان کی کارروائی ملتوی کرنے کی کوشش کی لیکن شروع میں انہیں اس میں کامیابی نہیں ملی۔ بعد میں دونوں فریقین کے درمیان معاہدہ ہونے کی وجہ سے ایوان کی کارروائی چار بج کر بیس منٹ پر دن بھر کے لئے ملتوی کردی گئی۔اس دوران مسٹر گہلوت نے کہا کہ اپوزیشن لیڈروں کے ساتھ اس پر اتفاق ہوا ہے کہ کل صبح گیارہ بجے سے بجٹ پر بحث شروع ہوگی اور دیگر شام تک ایوان چلے گا۔ مسٹر شرما نے اس پر اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ پوری بحث کے دوران وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن ایوان میں موجود رہیں گی۔ انہوں نے کہا کہ ان کی پارٹی بجٹ پر بحث کی اہمیت کو سمجھتی ہے لیکن کرناٹک کے معاملے پر ملک کی توجہ مبذول کرانا ضروری تھا۔ اس لئے پارٹی کو ایسا رخ اپنانا پڑا۔اس سے قبل تین بجے سے سوا چار بجے تک کانگریسی اراکین مسلسل نعرے بازی کرتے رہے اور ہنگامہ کے درمیان ہی مسٹر پربھو تقریبا ً پچاس منٹ تک بجٹ کی خوبیاں گناتے رہے اور بیچ بیچ میں پانی بھی پیتے رہے ۔ کانگریس اراکین جب مسٹر پربھو کی سیٹ کے سامنے کھڑے ہوکر نعرے بازی کرنے لگے تو وہ دوسری سیٹ پر جاکر بولنے لگے ۔ اس پر سی پی آئی کے ونئے وسوم نے نظم کا سوال اٹھایا اور کہا کہ کوئی رکن دوسری سیٹ سے نہیں بول سکتا ہے ۔ جس پر ہری ونش نے نظم کا سوال خارج کرتے ہوئے کہا کہ ابھی ایوان میں اراکین کو سیٹوں کا الاٹ منٹ نہیں کیا گیا ہے ۔یو این آئی