میں امسال 7؍جون کی تاریخ کوعمرہ کی سعادت حاصل کر نے کے سلسلہ میں جموں سے دہلی ریل گاڑی میں روانہ ہوا۔ ٹرین کا یہ سفرتقریباً 25سال بعد ہوا۔ میں نے ریل کے ڈبے میں بیٹھ کر اس وقت اپنا رخت ِسفر باندھا کرتا جب ڈاکٹری(ایم بی بی ایس )ڈگری کے سلسلے میں پٹھانکوٹ سے پٹیالہ اورپٹیالہ سے پٹھانکوٹ آیاجایاکرتاتھا۔تب پٹھانکوٹ سے جموں ریل لائن نہیں بچھائی گئی تھی۔
ریل کا تازہ سفراس لئے مجبوراً کرناپڑا کیونکہ میرا جموں سے جہاز کی ٹائمنگ دہلی ۔جدہ طیارے کی روانگی کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتاتھا،اس لیے ا ب کی بارٹرین کاہی سفرکرناپڑا۔ مدتوں بعد ریل کا سفر انجوائے کر نے کی خواہش دل میں انگڑائی لے رہی تھی مگر موجودہ ملکی حالات کے مدنظر دل میں بڑی گھبراہٹ اور گھٹن سی محسوس ہورہی تھی، ڈریہ تھا کہ کہیں کوئی بجر نگی، زعفرانی ، بلوائی میری داڑھی شلوارقمیض اورسرپرٹوپی دیکھ کرکوئی بہانہ ڈھونڈھ کر مجھے جسمانی تعذیب یا رُوحانی گزندنہ پہنچائے ۔اس وجہ سے میں بڑا گھبرایا ہواتھا ،مگرمیں نے یہ خدشہ اپنے گھروالوں کو محسوس ہی نہ ہونے دیا۔ بہرحال میں سیکنڈ اے سی شتابدی کے ایک ڈبہ میں سوارہوا ۔میں چونکہ وہاں ابھی اکیلاہی تھا، اس لئے کچھ زیادہ ہی ڈرمحسوس ہونے لگا۔جوکچھ بھی نا گفتہ بہ حالات مسلمانوں کے ساتھ ملک کے اکثرحصوں میں رونماہوتے چلے آرہے ہیں، وہ ایک ایک کرکے میری آنکھوں کے سامنے گھوم رہے تھے۔ میں سہما سہما احسا س کی آنکھ سے گو یا یہ مناظر دیکھ رہا تھا کہ کہیں پرٹوپی پہنے مسلمان کوپیٹاجارہاہے ،کہیں داڑھی والے کومار مارکر ادھ موا کیاجارہا ہے ۔کہیں گائے کے گوشت کے شبہ میں ڈنڈا بردارہجوم کسی نہتے مسلمان کوموت کے گھاٹ اُتار رہا ہے، کسی جگہ زور زبردستی سے کسی بے بس مسلمان کے منہ میں سورکاگوشت ڈالاجارہاہے۔کہیں مار مارکر اپنے شکار سے جے شری رام جی کہلوایاجارہاہے۔( حالانکہ رام چندر جی جسے اقبال نے امام ِہند کا لقب دیا، بلیدان اور تیاگ کا مجسمہ تھا ) کسی کو پیٹ پیٹ کرمار ڈالاجارہا ہے۔کہیں تم پاکستان چلے جائو کا نعرہ الاپا جارہاہے، وغیرہ وغیرہ۔ یہ مناظرآنکھوں کے سامنے رقصان ہوں تو کیونکر سکون واطمینان کا سانس لے ؟
خیر! میں نے خود حفاظتی اقدام یا حفظ ماتقدم کے طور اپنی مسلمانی کی نشانی یعنی ٹوپی سرپرسے اُتاردی۔ ایک کونے میں چپ چاپ خاموشی کا بُت بنے بیٹھا رہا۔تسبیح بھی جیب میں ہی چھپائے رکھی۔ مجھے مدتوںہاتھ میں تسبیح رکھنے کی عادت ہے ، کلمات واذکار پڑھتاکم ہی ہوں مگرہاتھ میں تسبیح ضرورہونی چاہئے ۔سوتے میں بھی میرے بستر میں ہونی چاہیے۔ اللہ یہ سعادت تاحین ِ حیات قائم رکھے ۔
جولوگ اکثر وبیش ترریل میںسفرکرتے ہیں، ان سب کی رائے تھی کہ شتابدی میں دیاجانے والا کھانابالکل بھی اچھانہیں ہوتا ،اس لئے گھرسے ہی رات کاکھاناساتھ لے جائو۔ میں نے یہ تجویز بہانہ بناکر ایک دم مسترد کردی کیونکہ سوچا مار دھاڑ پر آمادہ بلوائی تومرغی کے گوشت کوبھی گائے کاگوشت بتاکر اپنے شکارکا کچومر نکالتے ہیں بلکہ وہ تو پنیراورسبزی کوبھی گوشت کاگوشت ثابت کرکے کسی کو بھی موت کے گھاٹ اُتار سکتے ہیں یاچلتی ٹرین سے باہرپھینک سکتے ۔ میرے سامنے بہت ساری ایسی مثالیں بھی ہیں۔
ابھی ٹرین روانہ ہونے میں کچھ ہی دیر تھی کہ ایک ادھیڑ عمرکی خاتون ڈبے میں داخل ہوئی۔میں قدرے خوش ہوا کیونکہ مستورات اکثرنرم دل اور ملائم طبیعت والی ہوتی ہیں۔ ٹرین کے کافی دور تک جانے تک ہم نے آپس میں کوئی بات چیت کی نہ ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔ اسی دوران میری عشاء نمازکاوقت آگیاتھا۔دل بڑاچاہ رہاتھاکہ نمازادا کروں مگرڈرکے مارے اسے قضاء کرناہی بہترسمجھا۔
سانبہ کے قریب اس خاتون کوگھرسے فون آیا۔ان کے طرزکلام سے مجھ قیاساًاندازہ ہواکہ یہ محترمہ کشمیری پنڈتانی ہیں۔اتنے میں کھانا آیا۔ میں نے اورمحترمہ نے بھی ڈنر کرلیا ۔ اسی اثناء میںان محترمہ نے اپنے گھرکے کھانے کاٹفن بھی بیگ سے نکالا ۔ ازراہ ِکرم مجھ سے کہنے لگیں!تھوڑی پنیر لیں گے آپ؟ میں خاموش رہا ۔انہوں نے میری پلیٹ میں پنیرکاٹکڑا خود ہی ڈال دیا۔ساتھ ہی بولی کہ میں ہمیشہ گھرسے ہی کھانالاتی ہوں کیونکہ ریل کاکھانا بکواس ہوتا ہے ۔میں نے مسلسل خاموشی اختیارکی اورکوئی جواب نہ دیا۔انہوں نے پوچھاکہ آپ کہاں جارہے ہیں ۔جواباً میں نے کہاکہ دہلی جارہاہوں ۔ابھی عمرہ کاذکر نہ کیا، میں سوال کیا: اورآپ ؟بولیں:میں بھی دہلی جارہی ہوں۔ میں رہتی ہوں، کافی سالوں سے میرا مسکن دلی ہے ،کاروبار بھی وہیں کرتے ہیں۔کچھ اور بے تکلفی بڑھی تو باتوں باتوں میں پتہ چلاکہ یہ خاتون اصلی ترال کشمیر کی رہنے والی ہیں۔میں نے کشمیر سے دلی منتقلی کے بارے میں زیادہ نہ کریدا۔
کچھ دیر بعدان کی باتوں سے پتہ چلاکہ یہ خاتون بہت نیک اورصاف دل ہیں۔ اب میں نے ان پر یہ راز افشاء کیاکہ میں عمرے کوجارہاہوں۔دہلی سے جہاز 5 بجے شام کاہے ۔ اب انہوں نے کہاکہ اُن کابیٹاسٹیشن پرگاڑی لے آئے گا۔آپ ہمارے یہاں دوبجے تک آرام کریں۔پھروہی میرا بیٹاائرپورٹ پہنچادے گا۔اس پرمیں نے نیک دل خاتون کا تہ دل سے شکریہ ادا کیااورکہاکہ میراٹریول ایجنٹ سٹیشن پرلینے آئے گااورمیرادوست بھی جوکشمیرمیں کمشنرسیکریٹری تھا، ریٹائرمنٹ کے بعد اب دہلی میں قیام پذیر ہے ۔ وہ بھی لینے آئے گا۔آپ کابہت بہت شکریہ۔اس ساری مخلصانہ اور انسان دوستانہ گفت وشنید سے اب میری فکر مندی دورہوگئی اور دل میں اطمینان کی لہر دوڑگئی۔ عجیب اتفاق یہ کہ ہم دونوں کے بیچ ایک دوسرے کے ساتھ انسانیت کے ناطے اجنبیت کی دیوار ہی نہ رہی۔
شروعات میں نے ہی کی ۔میں نے کہاسرکاری ڈاکٹر تھا،اب ریٹائرڈ ہواہوں۔ایک بیٹایہ کام کرہا ہے ،وہاں ہے ۔دوسرابیٹایہ ہے وہ اُدھر ہے ۔دوبہویں ہیں ، گھر میںیہ یہ ملازم ہیں۔ میری اہلیہ بھی ریٹائرڈ ہوچکی ہیں وغیرہ وغیرہ ۔اب ان کی باری تھی۔ انہوں نے اپنے کاروبارکے بارے پوری تفصیل بتائی۔خاندان کے افرادکی تفصیلات بتائیں۔ان کاایک رشتہ دارغالباً ان کے ماموں ہائی کورٹ کے جسٹس تھے اوراب ریٹائرڈ ہیں۔باتوں باتوں میں وہ بولیں کہ ترال کاکوئی لڑکا جس کانام رشیدتھا،وہ ان کے ہاں ہی رہتاہے۔پہلے وہ ان کے گھرمیں ہی پڑھتاتھا،اب ملازم ہوا ہے۔اب بھی ان کے ہاں ہی رہ رہاہے ۔ان کے ساتھ کھاتاپیتاہے۔وہ نماز بھی پڑھتاہے ۔صیام کے روزے بھی باقاعدگی سے رکھتا ہے۔ افطاری ہم کھلاتے ہیں۔سحری کے لئے وہ خودہی رکھاہواکھاناگرم کرتا ہے۔ میں کہتی تھی کہ میں جاگ کرگرم کروں گی مگروہ منع کرتا۔میں اس نیک طبع خاتون کے برتائو،حسن ِاخلاق اورخوش گفتاری سے بے حد متاثر ہوا۔ یہی چیزیں کشمیری کلچر کا جزولاینفک ہیں۔ دعا ہے اللہ اس کودوبارہ بحال کرے۔ آمین
باتوں باتوں میںپتہ ہی نہ چلا کہ دلی تک کا سفرکیسے کٹا۔ اب میں نے بے فکرہوکر نمازعشاء پڑھی، تہجدبھی اداکی ۔صبح کی نمازبھی اطمینان سے پڑھی۔دہلی سٹیشن پرہم ایک دوسرے سے خوشی خوشی وداع ہوکر اپنی منزل کوچلے۔میں نے ان کابہت شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے مجھے حرمین شریف میں دعاکرنے کے لئے کہابلکہ تاکیدکی۔ ہم دونوں نے بچھڑے ہوئے بہن بھائی کی طرح یہ ساراسفر طے کیا۔
اسٹیشن سے مجھے ٹریول ایجنٹ اپنے گھرلے گیا، جہاں میں نے قریباً دوگھنٹے کاآرام کیا۔ پھروہ مجھے پورے وقت پرائرپورٹ لے گیا۔ جہاں سے مجھے اگلاسفر ائرانڈیا سے جدہ کیلئے کرناتھا۔ ٹرمنل تھری پرمجھے دوگھنٹے سے زیادہ انتظار کرناتھا۔شایدمیں واحد شخص تھا جو احرام میں ملبوس تھا کیونکہ اس دوران ماہِ صیام کے بعد حج سے پہلے آسانی سے ویزا نہیں ملتاہے۔میں آرام کرنے کی غرض سے ایک آرام دہ کرسی پربیٹھا رہا۔پاس میں کوئی اور صاحب تھے، انہوں نے مجھ سے میرے چارجرکاپوچھا کہ کون ساہے اورکیاوہ اسے استعمال کرسکتاہے۔میں نے ان کواپناچارجردیا۔اب ہم دونوں کی بات چیت شروع ہوگئی۔ انہوں نے پوچھا میرانام کیاہے اورکیاعمرہ کوجارہاہوں ؟ میں نے اثبات میں سرہلایا۔اس نے حج وعمرہ کے بارے کہیں سوالات کئے۔میں ا س موضوع پر اپنی بساط کی حد تک بولتاگیا اور ہر سوال کا جواب دیتاگیا۔وہ بڑے انہماک سے سنتارہا۔اسی دوران وہ پوچھ بیٹھا کہ جیسے آپ طواف کرتے ہو ایسے ہی ہم پریکرما کرتے ہیں۔میں نے کہاآپ Clockwise کرتے ہواورہم Anticlockwise ۔پھرمیں نے اس کی وجہ بتائی ،وہ یہ سن کر بہت متاثر ہوا۔اس کومیری دلیل پسندآئی۔اب میں نے اسکوکسی طرح حجراسودکی طرف لایاکیونکہ اس کے متعلق اکثر غیرمسلموں میں بہت ساری غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں۔میں نے ان کی یہ غلط فہمی بڑی آسانی سے دور کی،یہ کہہ کر کہ سنگِ اسود صرف ایک پتھرہے جہاں سے ہم شروع کر کے کعبہ مشرفہ کے سات چکرپورے کرناشروع اورختم کرتے ہیں ۔ میں نے اس سے کہاکہ پتھرکسی بھی شکل کاہواگراس کے آگے انڈے کی شکل کا کاغذ رکھاجائے توپتھرانڈے کی شکل کادکھائی دے گااوراگرچکورشکل کاکاغذ رکھاجائے تواس کے پیچھے رکھاہوا پتھر چکورنظرآئے گا۔ میں نے اس سے یہ بھی کہا کہ میں نے کئی بار سنگ ِ اسود کودیکھاہے ،چوماہے مگر ہم اس کی عبادت نہیں کرتے ہیں بلکہ ایک وحدہ لاشریک کے حضور سر بسجود ہوتے ہیں اور یہ کی مقدسہ اس شکل کابالکل بھی نہیں ہے جس کا تصورغیرمسلم بھائیوںمیںپایاجاتا ہے۔میں نے سعودی میوزیم میں اس مقدس پتھر کے مختلف ادوارکے بیرونی خول Coverدیکھے ہیں۔ حجر اسود اتنے ہزار سال کے حالات و حوادث کا سفر کاٹتے ہوئے اب تقریباً سات ٹکڑوں میں بٹ چکاہے جن کوکمال فن سے جوڑ کر رکھ دیاگیاہے۔
اس دوست کے ساتھ بہت دیرتک خوکلامی ہوتی رہی۔ہم دونوں نے بڑے آرام سے ایک دوسرے کے خیالات کوسنااورحقیقت کی تہ تک جاننے کی کوشش کی۔اس کے سوالات کے جوابات میں نے بڑی سادہ زبان میں کچھ ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں کچھ اس طرح دیا۔
(۱)اپنااپنامذہب مانو۔ہردوسرے کے مذہب کی عزت کرو
(۲)اسلام میں دین پھیلانے میں کوئی زور زبردستی نہیں ہے۔میں نے سورۃ الکافرون بھی پڑھ کرسنائی ۔
(۳) ہمارا ملکی آئین بھی مذہب کی زبردستی تبلیغ کی اجازت نہیں دیتاہے۔
(۴)ہندودھرم میں بھی کہیں پرمذہبی پرچار میں زبردستی کر نے کا کوئی ذکرنہیں ہے۔
(۵) دھرم اورمذہب کیلئے پرچار یاتبلیغ پُرامن طریقہ سے ہندوستانی آئین کی روح میں پیوست ہے۔
(۶) کسی دوسرے کے مذہب میں مداخلت یا دخل دور معقولات کی اجازت نہ مذہب دیتاہے نہ کوئی دھرم دیتاہے۔
(۷) ہم سب انسانیت کے ناطے بھائی بھائی ہیں۔اس میں کسی کواعتراض ہے نہ کوئی شک ہے ۔
(۸)رہاسوال پوجا پاٹھ کا، ہم مسلمان نہ ماں کی نہ باپ کی ،نہ مکہ کی نہ مدینہ کی ،نہ چین کی نہ جاپان کی،نہ زمین کی نہ آسمان، نہ پیڑ کی نہ پودے کی پوجاکر تے ہیں، ہم صرف ایک خداکوپوجتے ہیں ۔ہم نبی آخرالزماں ؐ کوبھی نہیں پوجتے۔کوئی غیر مسلم جس کسی کی مرضی ہو ،پوجے ،ہم کواس مدعے سے کوئی سروکارنہیں ۔
(۹) ہم نہ کسی کے دھرم میں دخل دیتے ہیں اورنہ اپنے دین میں دخل اندازی برداشت کرتے ہیں۔
(۱۰)ہم ملک کے باسی ہیں ۔ہم کس سے سر ٹیفکیٹ لے کر سفرکریں اور خود کومحفوظ محسوس کریں، یہ ملک یہ پیارادیس ہم سب کا ہے ۔
(۱۱)ہمارے رہنمائوں کوچاہئے کہ نئی سڑکیں بنائیں،نئی عمارتیں، نئے اسکول اور شفاخانے تعمیر کریں ،نئی یادگاریں بنائیں ،اُن کاجو نام چاہیں دیں مگرپرانی سڑکوں،عمارتوں اور علاقوں کے نام نہ بدلیں۔ یہ دیوانگی کے سوا کچھ نہیں ۔ ہم لوگ آپس میں کوئی بھید بھاؤ نہ کریں۔
(۱۲)پرانے حکمرانوں کی کارکردگی کوکیوں مسخ کیاجائے ؟اپنانیا اور اچھاکام کر دکھائیں ۔ہم سب کوہندوستان کوامن کامسکن بناناچاہیے نہ کہ ڈراورخوف اور نفرتوںکا جہنم زار۔
(۳ا)جوبھی لوگ گندی ، غیر انسانی اور لاقانونیت کی زبان استعمال کرتے ہیں مثلاً مسلمانوں کومارو۔ہندوستان کومسلمان مُکت کرو۔ان کا سوشل بائیکاٹ کرو، ان کی عورتوں اورلڑکیوں سے زیادتی کرو۔ان دیوانوں کو لگام دے کر پیار محبت کی وچار دھار اختیار کرو ۔ باہم دگر شیر وشکر ہوجاؤ، عقل سے کام لو۔ہم اس ملکمیں برابرکے حصہ دار ہیں۔ہم سب نے اس کی آزادی میں اپناخون بہایا اور قربانیاں دی ہیں، ان کو اُجاگر کرو، وغیرہ وغیرہ۔
اپنی طویل بات کوختم کرنے سے قبل میں نے اس بھائی صاحب کوبھاری دِل سے الوداع کہا۔اس نے بھی میراشکریہ ادا کیا۔ہم نے ایک دوسرے کواپنے فون نمبرات دئے۔اس نے کہایہ غلط فہمیاں ضروردورہونی چاہیں۔ جاتے جاتے اُن سے یہ بھی کہااگرکوئی ہندو یامسلمان کوئی غلط کام کرتاہے ،اس کاہرگز یہ مطلب نہیں کہ ہندودھرم یااسلام مذہب نعوذباللہ بُراہے۔کوئی ڈرائیوراگرگاڑی نہیں چلاناجانتااس کایہ قطعی مطلب نہیں کہ گاڑی خراب ہے ،یہ توڈرائیوراناڑی ہے جو حادثے کا باعث بن جاتاہے۔مسلمان کاہرکام اسلام علیکم سے شروع ہوتاہے جس کامطلب ہے ’’آپ پرسلامتی ہو‘‘یعنی آپ میرے ساتھ محفوظ ہیںاورمیرے سے آپ کی جان اور عزت کوکوئی خطرہ نہیں ہے۔ افسوس کہ ہم آج کے اس کل یُگ میںسچی بات کہنے سے بھی کتراتے ہیں۔علامہ اقبال ؒ نے اسی پس منظر میںخوب فرمایا ؎
یہ دستورِزباںبندی ہے کیساتیری محفل میں
یہاں توبات کرنے کوترستی ہے زباں میری
قارئین کرام! بُرانہ مانیں ۔اب اس لہو لہاں فضا میں رہنے سے دل اُکتاگیاہے جیسے کسی نے کہا ؎
اے مرے ہم نشیں چل کہیں اورچل
اس چمن میں ہماراگذارہ نہیں
اللہ کرے ہم سب عقل اورسوجھ بوجھ سے کام لیں اورہنسی خوشی اپنی زندگیاں گذاریں۔ انہی جذبات کے ساتھ میں نے اپنا سفر محمود شروع کیا اور وہاں حرمین شریفین کے گوشے گوشے سے اسلام کی خدا پر ستی ، انسان دوستی، آخرت پسندی کی تعلیمات ، کعبے کی تجلیات اور مدینے کی حیات بخش خوشبوئیں اپنے ضمیر وخمیر میںذخیرہ کرکے وطن پلٹ آیا ۔
رابطہ:8825051001