یادوں کی جڑیں پھوٹ ہی پڑتی ہیں کہیں سے
دل اگر ٹوٹ بھی جائے تو بنجر نہیں ہوتا
زندگی کی بہت صبحیں ہوئیں ،زندگی کی بہت شامیں ہوئیں اور یوں ہماری عمر تمام ہوتی رہی۔ اب میں ہوں، تنہائیاں ہیں اور یادیں ہیں مگر اپنے خالق ومالک سے اُمید ہے کہ جب وہ اپنے پاس بلالے گا تو انشااللہ اپنی رضا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشنودی اور ایمان کے ساتھ بلالے گا۔ خیر یادوں کے سفر پر آگے بڑھتے ہیں ۔غالباً 1978ء کے فروری کا مہینہ تھا۔ میرے ایک دوست محمد اسلم شاہ صاحب نے مجھے بہت اصرار کیا کہ ہم بیرون ریاست سیر پر جائیں گے۔ ہمارے یہ دوست مسکین باغ خانیارشہر خاص میں رہتے تھے اور میرے دفتری ساتھی تھے۔ ہم دونوں کو ملازمت میں ابھی کچھ ہی سال گزرے تھے۔ چونکہ ان دنوں میری مزاح کی حس بڑی تیز تھی اس لئے میں دوستوں کو ہنسایا کرتا تھا۔اس وجہ سے میں اپنے دوستوں میں مقبول بھی تھا اور محبوب بھی۔ اب وہ بات کہاں! وقت سب اُڑا کر لے گیا۔ بہرحال میں آمادہ تو ہوگیا مگر ایک شرط رکھ لی اور کہا کہ میرا ایک اور دوست عبدالحمید رنگریز صاحب ہے، اگر وہ بھی ساتھ آتا ہے تو میں جانے کے لئے تیار ہوں۔ رنگریز صاحب بھی میرے دفتری ساتھی تھے۔ رنگریز صاحب چلنے پر بڑی مشکل سے آمادہ ہوئے۔ ہم تینوں یہاں سے جموں طیارے میں گئے۔ وہاں ڈاک بنگلے میں رہے۔ اس کے بعد سپر فاسٹ ریل سے دہلی گئے۔ میں نے ان دوستوں کو پہلے ہی کہا تھا کہ بے شک آپ کھانے کے معاملے میں فراخی نہ دکھاؤ مگر تین چیزوں پر عمل کرنا ضروری ہوگا: ایک یہ کہ ہوٹل کا کمرہ ایسا ہو جس کے ساتھ باتھ روم منسلک ہو ، دوم یہ کہ بستر صاف ستھرا ہو ، تیسری چیز یہ کہ چائے دن میں چار بار ہونی چاہیے۔ پھر دہلی میں کچھ دن قیام کے بعد ہم سپرفاسٹ ریل ہی میں ممبئی گئے۔ وہاں کچھ دن قیام کیا تو وہاں سے ایک بحری جہاز کے ذریعہ گوا گئے۔ غالبا ًاس بحری جہاز کو گوا پہنچنے میں چھتیس گھنٹے لگے۔ یہ میرے لئے ایک اچھا اور انوکھا سفر بھی تھا مگر بہت دشوار قسم کا تجربہ بھی تھا۔ جہاز تین منزلہ تھا۔ نیچے کی منزل تقریبا پانی میں ہی ڈوبی تھی اور اس میں غالباً جہاز کا سامان وغیرہ تھا جب کہ باقی دو منزلوں میں مسافر تھے۔ جہاز میں تقریبا دو اڑھائی سو مسافر تھے۔ کشمیری صرف ہم تین تھے اور نو دس ہندوستانیوں کے بغیر باقی سب غیر ملکی تھے۔ سینکڑوں میل آگے پیچھے، دائیں بائیں پانی ہی پانی تھا اور اس میں چلتے ہوئے ہمارے جہاز کی حیثیت ایک تانگے سے زیادہ نہیں لگ رہی تھی۔ چھتیس گھنٹہ طویل سفر کے دوران مجھے کچھ ناقابل فراموش حادثات اور تجربات کا سامنا رہا اور انوکھی یادیں سمندری سفر سے جڑگئیں۔ مختلف ممالک کے شہریوں سے بھرے جہاز میں سوار تقریبا ًاڑھائی سو مسافروں کے ساتھ یہ سفر گویا پوری دنیا کے ساتھ سفر تھا۔ امریکہ، برطانیہ، جرمنی، جاپان، فن لینڈ، ہالینڈ، آسٹریلیا اور دیگر ممالک کے مرد، عورتیں اور بچے اس میں سوار تھے۔ سواروں میں ایک بھی بوڑھا نہ تھا۔ اپنے گوری رنگت اور نیم سنہری بالوں کے سبب میں کسی ایک کو بھی انڈین نہیں لگتا تھا، تاہم میرے انگریزی زبان کے لہجے سے وہ سمجھ پاتے تھے کہ یہ آدمی انگریز نہیں، مگر کوئی اس بات پر یقین نہیں کرتا تھا کہ میں دیسی ہو ں، وہ مجھے مڈل ایسٹ کا باشندہ خیال کرتے تھے۔
بحری جہاز میں جب مختلف ملکوں، مذہبوں، نسلوں، رنگوں، زبانوں، مزاجوں، لباسوں، ذوق اور جنس کے صرف جوان لوگ بڑی تعداد میں ایک ساتھ سفر کرتے ہیں، ایک ساتھ ڈیک یعنی جہاز کے عرشہ پر بیٹھتے ہیں، ایک ہی جگہ سوتے ہیں اور اِدھر اُدھر چلتے رہتے ہیں تو یہ ایک الگ ہی دنیا لگتی ہے اور ایک الگ ہی سماں بنتا ہے۔ اس سفر کے دوران جھگڑے بھی ہوتے ہیں، لڑائیاں بھی ہوتی ہیں، پیار بھی ہوتا ہے اور دوستیاں بھی ہوتی ہیں۔ اس سفر کے دوران کچھ مسافر کتابیں پڑھنے میں مشغول تھے، کچھ سمندری نظاروں میں کھوئے تھے، کچھ فوٹوگرافی میں لگے تھے اور کچھ ادھر ادھر آجارہے تھے اور کچھ جوڑے ایک دوسرے کے ساتھ باتیں کرکے وقت گزار رہے تھے۔ میں نے ایک غیر ملکی خاتون کو دیکھا کہ وہ بظاہر کوئی کتاب پڑھ رہی ہے مگر اس کی آنکھوں سے آنسو رواں ہیں، جنہیں وہ ساتھ ساتھ رومال سے خشک کر رہی ہے تاکہ کوئی نہ دیکھ لے۔ یہ خاتون جوان تھی اور غیر معمولی طور حسین ۔ یہ اکیلی تھی۔ اس سفر میں چونکہ نوے فیصد لوگ غیر ملکی تھے اور میں نے نوٹ کیا کہ ان کے احساسات اور جذبات ان کیفیات سے بہت مختلف ہوتے ہیں جو کشمیریوں یا برصغیر کے لوگوں کے کچھ واقعات اور حادثات پر ہوتے ہیں۔ کوئی رو بھی لے تو یہ لوگ اس طرف زیادہ دھیان نہیں دیتے، دو آدمیوں کے درمیان جھگڑا بھی ہوجائے یا نوبت ہاتھا پائی تک بھی آئے، کوئی بیچ بچاؤ کرنے نہیں آتا ہے۔ مجھے وہ لوگ کچھ مشینی ٹائپ کے خود غرض سے لگے۔ میں نے اپنے ایک دوست سے کہا کہ یہ خاتون نہ جانے کیوں رو رہی ہے؟ یہ دیکھ کر اس میں ’’کشمیریت‘‘والے جذبات اُبھر آئے۔ وہ خاتون کے پاس گیا اور پوچھا آپ کیوں رو رہی ہیں؟ وہ خاتون بولی: یہ میرا ذاتی معاملہ ہے۔ میرے دوست نے کہا: اگر میں اپنے سوال کو دہرادوں؟ تو اس خاتون نے کہا: میرا جواب بھی وہی ہوگا کہ یہ میرا ذاتی معاملہ ہے۔ میرے دوست نے پوچھا:کیا میں آپ کی کسی طرح کی مدد کرسکتا ہوں؟ وہ خاتون بولی، نہیں، شکریہ۔ پھر میرے دوست نے اس کے ساتھ دوسرے موضوع پر گفتگو شروع کردی۔ اس خاتون نے کہا کہ وہ امریکہ میں رہتی ہے اور شادی شدہ ہے، وہ گوا جارہی ہے اور کچھ دنوں کے بعد اس کا شوہر بھی وہاں آرہا ہے اور پھر وہ گوا سے کسی دوسرے ملک کی سیاحت پر جارہے ہیں۔ وہ ہندوستان کے کئی شہروں میں اکیلی گھومی تھی اور اب گوا جارہی تھی۔ مسافروں میں کچھ لوگ چرس پی رہے تھے اور کچھ ہندوستانی شراب میں دُھت پڑے تھے۔ جہاز کے چاروں اطراف حد ِنگاہ تک پانی ہی پانی تھا اور اس کے چلنے سے متواتر بہت بھاری موجیں اُٹھ اُٹھ کے کسی بھوکے شیر کی طرح دوڑتی ہوئی نظروں سے اوجھل ہوجاتی تھیں کہ ایک آدمی نے سمندر میں چھلانگ لگادی اور وہ سمندر میں گر کر ’’بچاؤ بچاؤ‘‘ چیخنے لگا۔ تیز موجوں نے اسے اپنے ساتھ لے کر ہماری نظروں سے اوجھل کردیا مگر وہ سخت جان پھر تیرتے ہوئے واپس آکر ہماری نظروں میں آگیا۔ وہ برابر ’’بچاوؤبچاؤ‘‘ چلّا رہا تھا ،پھر موجیں اُٹھیں اور اسے اپنے ساتھ بہاکر اتنی دور لے گئیں کہ وہ پھر ہماری نظروں سے اوجھل ہوگیا۔ میں شاید ہی زندگی میں کبھی اتنا گھبرا گیا ہوں۔ مگر میں نے دیکھا کہ انگریز لوگ بالکل پریشان نظر نہیں آرہے تھے اور کوئی کوئی ہی یہ خوف ناک نظارہ دیکھ رہا تھا۔ میرا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا اور نہایت ہی عاجزی سے دل ہی دل میں اللہ تعالیٰ سے دعائیں کرتارہا : یااللہ اس بندے کو بچالے۔ وہ بندہ تیرتے ہوئے پھر جہاز سے کچھ نزدیک آیا۔ اگر وہ جہاز کے کچھ زیادہ قریب پہنچ جاتا تو جہاز کے بلیڈ اس کے ٹکڑے ٹکڑے کردیتے۔ اس کے ’’بچاؤبچاؤ‘‘ (سیو می سیو می) کی چیخوں اور اس کی سانولی رنگت سے لگا کہ وہ ہندوستانی ہے اور کونکن یعنی گوا کا رہنے والا ہے۔ غالباً شراب کی زیادہ مقدار پی کر نشہ حاوی ہونے کے سبب اس نے یہ احمقانہ حرکت کی تھی۔ میں نے اپنی پوری زندگی میں ایسا تیراک اور سخت جان آدمی نہیں دیکھا ہے۔ بڑی مشکل سے جہاز کو روکا گیا اور لائف بوٹ اُتار کر اُسے بچانے کی کوشش کی جاتی رہی، مگر جہاز رُک جانے کے باوجود لہروں کا آنا جانا جاری تھا، جس کے باعث یہ آدمی لہروں کے ساتھ بہہ کر کبھی نظروں سے اوجھل ہوجاتا تھا اور کبھی تیرتے ہوئے واپس جہاز کے نزدیک آجاتا تھا۔ بہت دشواری کے بعد جہاز کے عملے نے اُسے بچانے میں کامیابی حاصل کرلی ، پھر اسے گرفتار کردیا گیا۔ جب جہاز گوا پہنچا تو اسے پولیس کے حوالے کردیا گیا۔ اس بندے کے بچنے پر مجھے بہت خوشی ہوئی اور میں نے اللہ کا بہت شکر ادا کیا ، وحدہ لا شریک کی حمدوثنا کی۔
جہاز کی دوسری منزل میں ہی ریسٹورنٹ تھا۔ میں وہاں گیا اور چائے لی اور تلی ہوئی مچھلی کھائی۔ وہاں ایک کونے میں 'تنبولا کا کھیل کھیلا جارہا تھا اور اس میں غیرملکیوں کی خاصی تعداد حصہ لے رہی تھی ، چنانچہ میں بھی یہ کھیل کھیلنے لگا۔ اس وقت پوری طرح اس گیم کے متعلق یاد نہیں تاہم جو تھوڑا تھوڑا یاد ہے وہ یہ ہے کہ کچھ رقم ادا کرنے کے بعد کاغذ کے کچھ شیٹ دئے جاتے تھے جن پر کچھ چھپا ہوتا تھا، پھر’’تنبولا والا‘‘ اپنے سامنے رکھے بکس سے کوئی قرعہ نکالتا تھا اور اس میں لکھا نمبر شرکاء کو پکارکے بتادیتا تھا جس پر یہ دیکھا جاتا کہ آیا ایسا کوئی نمبر ہمارے شیٹ میں بھی درج ہے، اگر ہوتا تو اس کا ٹک لگانا پڑتا تھا۔ جس کے قرعہ میں اُٹھنے والے نمبر زیادہ تعداد میں کسی گیم میں شریک آدمی سے مل جاتے وہ انعام کا حق دار قرار پاتا۔ مجھے وہ کھیل بالکل گڑبڑ والا نظر آیا۔ میرے ساتھ ایک جرمن بیٹھا تھا، میں نے اسی کے ساتھ گفتگو شروع کی۔ وہ دنیا کے کئی ملکوں میں گھوم آیا تھا اور میںاس سے دوسرے ملکوں کے حال احوال ، قدرتی مناظر، لوگوں کے رہن سہن ، مزاج اور دیگر چیزوں کے متعلق جاننے کی کوشش کرتا رہا۔ جہاں تک مجھے یاد ہے اس جرمن نے مجھے ایران کے کسی شہر کا نام بتایا جو اُسے بہت خوب صورت لگا تھا۔ اس نے البتہ کشمیر نہیں دیکھا تھا۔ جب میں کسی غیر ملکی سے پوچھتا کہ کیا اس نے کشمیر دیکھا ہے تو جن لوگوں نے دیکھا ہوتا ،ان میں بہت سے لوگ ایسے تھے جن کے ذہن میں کشمیر کی شبیہ اور تاثرات بہت اچھے نہیں تھے۔ ان میں سے بہت سے لوگوں کا کہنا تھا کہ ہم کشمیر میں جس سے بھی ملے وہاں صرف’’بزنس بزنس‘‘ کے الفاظ سننے کو ملے۔ تاہم سب غیر ملکیوں کی ایسی رائے نہ تھی مگر جن لوگوں کی یہ مخصوص رائے تھی ، میں نے محسوس کیا کہ انہوں نے اسی رائے کو اپنے دوستوں سے شئیر کیا ہے۔ ان حالات سے بھی ہماری سیاحت کو دھچکا لگتا رہا ہے۔ اس لئے ان لوگوں کو جن کا خاص کر غیر ملکیوں اور سیاحوں سے واسطہ رہتا ہے، اس معاملے میں ذرا زیادہ محتاط اور حساس رہنا چاہئے۔ محکمہ سیاحت کے ذمہ داروں پر بھی یہ خاص الخاص ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ملک کے مختلف سیاحتی مقامات کے دوروں کو اپنا معمول بنائیں اور وہاں ان لوگوں سے ملیں جنہوں نے کشمیر کی سیاحت کی ہو اور یہ معلوم کریںکہ وہ کشمیر کی کیسی امیج لے کے گئے ہیں ، پھر ان کے تاثرات کی روشنی میں اپنی پالیسیاں بنائیں اور بدلیں۔ مغل گارڈن میں یا پہلگام ، گلمرگ وغیرہ میں ویڈیو اُٹھاتے ہوئے کسی سیاح سے کشمیر کے متعلق اس کے تاثرات بیان کرنے کو کہا جائے تو ان کو حتمی نہیں مانا جاسکتا۔ تاہم میں یہاں جن خیالات اور تاثرات کا اظہار کر رہا ہوں وہ 1978ء سال کی یادوں سے جڑے ہیں اور تب سے حالات بھی بہت بدل گئے ہیں۔ چونکہ کسی سیاح کا عام طور یہاں انہی لوگوں سے واسطہ پڑتا ہے جن کا معاش ہی بزنس کے گرد گھومتاہے اور اگر وہ سیاح سے بزنس کے متعلق ہی بات کریں تو اس میں حیرانگی کی کوئی بات نہیں۔ پھر بھی محکمہ سیاحت کے ذمہ داروں پر لازم آتا ہے کہ وہ سیاحوں کے لئے ایسے پروگرام ترتیب دیں کہ انہیں بزنس کلاس کے بغیر دوسرے عام لوگوں سے بھی ملنے کے مواقع ملیں اور یہاں کا بزنس طبقہ چاہے وہ ہاوس بوٹ والا ہو، شکاری والا ہو یا ہوٹل والا ہو یا اور کوئی ہو، انہیں اس بات کی طرف دھیان دینا چاہئے کہ سیاح خاص کر غیر ملکی ہماری کوئی منفی امیج اپنے ساتھ نہ لے جائیں۔ سیاح ہمارا مہمان ہوتا ہے اور ہم ان کے میزبان ۔ میزبانی کا تقاضا یہ ہے کہ ہر سیاح کو خلوص قلب کے ساتھ صرف عزت اور پیار دیا جائے۔ بہرحال تب سے حالات بہت بدل گئے ہیں اور اب اس شعبے کے ساتھ وہ لوگ ہیں جو اکثروبیش تر تعلیم یافتہ ہیں اور ان کے سبب سیاحتی حالات بہتر بنے ہوئے ہیں۔
بہرحال آگے بڑھتے ہیں۔ بحری جہاز میں سورج غروب ہونے کا منظر دیکھنے کے لائق تھا۔ یہ بڑا ہی دلکش نظارہ تھا۔ انگریزوں کی ایک بڑی تعداد نے اپنے کیمرے سنبھال لئے اور یہ منظر عکس بند کرنے لگے۔ پھر شام ہوئی اور اندھیرے نے ساری کائنات کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ چونکہ یہ ہمارا پہلا بحری سفر تھا، اس لئے ہم ان ضرورتوں سے ناواقف تھے جو ایسے سفر کے لئے ضروری ہیں۔ ہم ایسا کوئی سامان اپنے ساتھ نہیں لائے تھے جس سے ہماری رات آرام سے گزر پاتی۔ میرے لئے وہ رات قیامت کی رات بن گئی۔ سمندر میں رات کے دوران سخت سردی ہوتی ہے اور مچھروں کی بھاری تعداد بھی جہاز پر سرگرداں تھی۔ ایک طرف سے سردی سے بچاؤ کے لئے میرے پاس کچھ نہ تھا اور دوسری طرف مچھروں سے بچاؤ کے لئے ڈھانپنے کے لئے چادر بھی نہ تھی ، اس پر ستم یہ کہ نیند کا غلبہ ہورہا تھا۔ میں جہاز کے عرشہ سے اُٹھ کر دوسری جگہ چلاگیا۔ ایک جگہ موجو دبنچ کی پشت پر کسی نے تولیہ رکھا تھا۔ میں اسی بنچ پر سوگیا اور مچھروں سے بچنے لئے میں نے وہی تولیہ اپنا منہ اور سر ڈھانک لیا۔ مجھے کچھ آرام ملا اور نیند حاوی ہونے لگی۔ ابھی کچھ ہی منٹ گزرے تھے کہ میں نیند کے سبب جب کچھ مدہوشی کے عالم میں تھا کہ ایک آدمی نے جھپٹ کر میرے منہ سے وہ تولیہ کھنچ لیا۔ میں ہڑبڑاکر اُٹھ بیٹھا۔ وہ شخص غصے میں بولا: میرا تولیہ کیوں لیا تھا؟ وہ شخص انگریز نہیں بلکہ میرا ہم وطن تھا۔ میں واپس اپنی جگہ دوستوں کے پاس گیا ،جو عرشہ پر سوئے ہوئے تھے۔ ان کے ارد گرد انگریز سوئے تھے۔ جہاں اسلم صاحب سوئے تھے، اس کے پاؤں کی جانب ایک جاپانی جوان جوڑا سویا تھا۔ اپنے دوستوں کو جگائے بغیر میںبس اسی جگہ بیٹھا اونگھتا رہا۔ اسی دوران دیکھا کہ نیند میں بے خبر ہوکر اسلم صاحب کا پیر جاپانی لڑکی سے جالگا۔ اسلم صاحب کے پیر کی حرکت سے وہ جاپانی لڑکی جاگ گئی اور انتہائی آہستہ سے اسلم صاحب کے پیر کو اپنے ہاتھ سے اس طرح ہٹالیا کہ اسلم صاحب کی نیند میں خلل نہ پڑے اور خود کچھ دور کھسک کر سوگئی۔ میں اس جگہ سے اُٹھا اور جہاز کے عرشہ کے ایک کنارے بیٹھ گیا۔ وہاں میں نے وردی میں ملبوس جہاز کے عملے کے ایک آدمی کو دیکھا۔ غالباً وہ عملے کا کوئی افسر تھا۔ میں نے اسی کے ساتھ گفتگو شروع کی۔ پہلے میں نے اپنا تعارف کرایا اور پھر پوچھا کہ آپ اس پیشہ سے کب سے وابستہ ہیں۔ اس نے کہا میں بہت برسوں سے اس پیشے میں ہوں۔ پھر دن کے وقت ایک کونکن کے سمندر میں کودنے کے واقعہ کو زیر بحث لاتے ہوئے میں نے اس سے کہا کہ ملازمت کے دوران آپ بہت سے عجیب اور انوکھے تجربات اور واقعات سے گزرے ہوں گے ؟ پھر اس سے درخواست کی کہ اپنے تجربات اور واقعات مجھ سے شئیر کریں۔ جب ہم سرینگر واپس پہنچے تو اٹھارہ بیس دن کے قریب ہوگئے تھے، یعنی ہمارا یہ سیاحتی دورہ اٹھارہ بیس دن کا رہا۔ حساب کیا تو تینوں کا کل خرچہ ستائیس سو روپے کا تھا، یعنی فی کس نو سو روپے۔ اس خرچہ میں تمام اخراجات شامل تھے۔