’’ خوش بوآں است کہ خود ببوید" کے مصداق مشہور شعرا ء کا کلام ہوتا ہے۔ادیب ہو یا شاعر یاکوئی عام قاری غالبؔ کی شاعری سنتے ہی یا پھر غالبؔ کا نام آتے ہی اِس کی شاعرانہ بُلندی کی پرچھاییاں نظر آنے لگتی ہیں۔ غالب ؔکی جو بھی شعری تخلیق ہوتی ہے خاص کر غزلیں۔ان کی غزلوں کی ایک علاحدہ پہچان ہوتی ہے۔ان کی غزلوں میں شگفتگی، فلسفیانہ موشگافی، احساس جمال، زخموں میں لپٹی ہوئی مُسکراہٹ اور درد میں ڈوبا ہُوا لب ولہجہ ہمارے دلوں پر ایک دیرپا نقش اور اثر چھوڑ جاتا ہے۔
عام لوگ تو الگ خواص بھی غالبؔ کے ساتھ ایک طرح کی نا انصافی کرتے ہیں جب وہ غالبؔ کی صرف شاعری ہی پر متوجہ ہو جاتے ہیں۔ اگر غالبؔ کی عظمت کا راز صرف ان کی شاعری میں ہی تلاش کیا جائے تو یہ سراسر نا انصافی ہوگی۔ کیونکہ غالبؔ کی شاعری کے ساتھ ساتھ ان کی نثر بھی کچھ کم دل چسپ اور جاذب توجہ نہیں۔ان کے نثری سرمایہ کو ہم بیک وقت نظر انداز کرتے ہیں جو روا نہیں۔تاریخ خاص اردو کی نثری تاریخ میں ان کی نثر ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ان کے خطوط اور مکاتیب ان کے نثر کا ایک لافانی نثری اثاثہ ہے۔بقول خواجہ احمد فاروقی:
"اگردیوان غالبؔ نہ ہوتا، صرف خطوطِ غالبؔ ہوتے تو بھی غالبؔ غالب ہی رہتے"
اس میں کوئی شائبہ نہیں کہ غالبؔ جتنا بڑا شاعر ہے اتنا ہی بڑا نثر نگار بھی ہے۔ جس صورت وشکل میں ہم تک اردو زبان پہنچی ہے اس میں ہمارے اسلاف کی بھی بڑی دین ہے۔نکھرتے نکھرتے یہ زبان آگے بڑھی ہے اور موجودہ رنگ وروپ جو اس زبان کو ملا ہے اُس میں تین بڑی شخصیات کا عمل دخل ہے جنھوں نے اپنا خون پسینہ ایک کرکے اس زبان کی آبیاری کی ہے۔ان مشاہیر میں تین بڑے لوگ ہیں میرامنؔ دہلوی،مرزا غالبؔ اور سرسیداحمد خان۔میرامنؔ کو یہ رُتبہ حاصل ہُوا ہے کہ اُس نے عام بول چال کی اردو زبان کو ایک ادبی زبان بنا دیا ۔ اسے بہ الفاظ دیگر ادبی زبان کا موجد بھی کہہ سکتے ہیں۔دوسرے نمبر پر مرزا غالبؔ ہے جس نے شاعری کے ساتھ ساتھ اردو نثر کو ایک عظمت عطا کی۔ موصوف نے اپنے خطوط لکھ کر اس زبان کو ایک نیا ہی انداز عطا کیا جو اپنی مثال آپ ہے۔آج تک اس طرز پر کوئی بھی ادیب اردو نثر نہ لکھ سکا۔واقعی اس نثر نگاری پر ہزار نثری پارے قربان کئے جاسکتے ہیں۔آگے بڑھ کر ہمیں سرسید ملتے ہیں انہوں نے اُفتادہ زبان کو اوپر اُٹھانے میں ایک اہم رول ادا کیا۔ جس زبان کو اہل نظر اور دیگر ماہرین زبانِ حقارت کی نظروں سے دیکھتے ہیں اُسی اردو زبان کو سرسید نے عالمانہ وقار اوربلندی بخش دی۔وقت کی رفتار نے ثابت کر دیا کہ اردو زبان علم ودانائی کے خزینوں سے کس طرح مملو ہے۔
الغرض اردو نثر کو غالبؔ نے جو نیا طرز اور نیا روپ دیدیا اُس سے اردو نثر کی بنیادیں مظبوط ہوگئیں اس نثر میں غالبؔ کے خطوط زیادہ اہمیت کے حامل ہیں اس کی خطوط نگاری سے پہلے اردو نثر قافیہ بندی اور ردیف کی پابندیوں میں جکڑی ہوئی تھی۔غالبؔ نے اپنے یہ خطوط لکھتے وقت روایت سے انحراف کیا اور خالص اردو اور ٹکسالی زبان استعمال کی۔ مسّجع اور مقفیٰ اردو نثر کو چھوڑ کر اسے سادگی اور شگفتگی اور آسان لہجہ عطا کیا۔ غالب ؔکی ان ہی کوششوں سے اردو نثر کو سادگی اور پُرکاری ملی جس سے یہ زبان اب تک محروم تھی۔غالبؔ کے ان خطوط کو مجموعوں میں تقسیم کیا گیا یعنی ان مکتوبات کے چار حصے کے گئے جو عوام کے سامنے آئے ان کو قبولیت کا شرف حاصل ہُوا۔ ان مجموعوں کے نام ہیں۔"اردوے معلیٰ"، "عود ہندی"، نادراتِ غالب" اور "مکتوبات غالب"۔پہلے دو مجموعے تو ان کی حیات ہی میں شائع ہو کر منظر عام پر آئے اور آخری دو ان کی وفات کے بعد شائع ہوئے۔ہم دیکھتے ہیں کہ اِن خطوط میں جابجا آسان، سادہ اور عام فہم زبان استعمال کی گئی ہے۔اب کوئی یہ سوال اُٹھائے کہ کیا ان خطوط سے پہلے کسی اور نے اردو میں خطوط نہیں لکھے تھے اس میں کوئی شک نہیں ہے۔ البتہ غالب ؔکے خطوط میں جو دل کشی اور جاذبیت نظر آتی ہے وہ دیگر لکھے گئے خطوط میں موجود نہیں۔ اس دل کشی اورجاذبیت کا راز اس چیز میں پوشیدہ ہے کہ غالبؔ نے عام روایت اور روش سے انحراف کرکے یہ خط لکھے۔دوسری اہم بات یہ ہے کہ غالبؔ کی شاعری ہو یا خطوط نگاری اس میں موصوف نے کسی کی تقلید نہیں کی ہے اور نہ ہی کسی کے نقوش قدم پر چلنے کی کوشش کی ہے کیونکہ وہ اُسے اپنی شان کے خلاف سمجھتے تھے لہٰذا اپنا ایک منفرد راستہ چُن لیا جس راستے سے شاید ہی کوئی چلا تھا یا چلے گا۔
غالبؔ کے خطوط میں ایسی کون سی خاصیت ہے جو ان کو دیگر مکتوبات سے ممیز کرتی ہے۔اصل میں ان خطوط کے لکھنے اور پیشکش کا انداز کچھ مختلف ہے۔غالبؔ کے دور تک جب بھی لوگ خطوط لکھتے تھے تو ان میں لمبے لمبے اور پُر تکلف القابات ہوتے تھے اور مکتوب الیہ کی خوشامد اور شادمانی کے لئے لکھنے کا رواج تھا۔غالبؔ نے اس روایت سے یک قلم انحراف کیا۔القابات اور تمہید لکھنے کو اپنے خطوط سے خارج کیا۔ہاں یہ کیا کہ مختصر القاب یا بلاواسطہ مکتوب الیہ کے نام کو تحریر کیا۔ چنانچہ مکتوبات میں اس نئے انداز پر گفتگو کرتے ہوئے ایک جگہ یوں رقم طراز ہیں:۔"میں نے وہ انداز تحریر ایجاد کیا ہے کہ مُراسلے کو مکالمہ بنا دیا ہے،ہزار کوس بہ زبان قلم باتیں کیا کرو،ہجر میں وصال کے مزے لیا کرو"۔دوسری بات جو غالبؔ کے مکتوبات کو عام روش سے ہٹاتا ہے وہ ہے ان کے خطوط میں شوخی اور ظرافت کا عنصر۔وہ خود بھی زندہ دل تھے اور تادم حیات ہنستے رہے۔ نجی زندگی میں بھی اور بیرونی زندگی میں بھی وہ ہمیشہ ہشاش بشاش رہے حالانکہ اندر ہی اندر سے غموں اور مصیبتوں سے چور تھے۔ایک اور جگہ یوں فرماتے ہیں۔"میں یہ کوشش کرتا ہوں کہ کوئی ایسی بات لکھوں جو پڑھے، خوش ہو جائے" اس پر وہ ہمیشہ قائم رہے۔
تبصرہ نگار کہتے ہیں کہ غالبؔ کے یہ خطوط ان کی زندگی اور شخصیت کی ایک جھلک ہے۔ان کے خطوط میں ان کی شخصیت کے مختلف پہلو نمایاں ہو جاتے ہیں چونکہ وہ خطوط میں تکلف اور تصنع سے کام نہیں لیتے تھے بلکہ صاف گو اور راست باز تھے اسی لئے ان کی پوری زندگی کا نقش جلوہ گر ہو جاتا ہے اور قاری خود بہ خود سمجھ لیتا ہے کہ غالبؔ کس قسم کی شخصیت کا مالک تھا صبح سے لیکر شام تک اور شام سے لیکر صبح تک جو بھی حرکات اور سکنات اُس سے سرزد ہو جاتے ان کا پتہ ان خطوط سے چلتا ہے یہی نہیں بلکہ ان کی فکروسوچ کا اندازہ بھی ہو جاتا ہے۔نجی زندگی کے معمولات کے علاوہ اڑوس پڑوس کے حالات کی طرف بھی ان کے مکتوبات سے سُراغ ملتا ہے۔انہوں نے کئی نادر اور خاص واقعات کا بھی اپنے کئی خطوط میں تذکرہ کیا ہے جن سے مکتوب الیہ کیا بلکہ عام لوگ بھی لاعلم ہوا کرتے تھے۔
مجموعی طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ ان کے مکتوب میں پُوری زندگی کا خاکہ ملتا ہے ان مکتوبات سے سوانح نگار حضرات اور دیگر محقیقین کو کام کرنے میں بڑی آسانی ہوجاتی ہے انہیں پوشیدہ چیزوں کا پتہ لگانے میں سہولیت فراہم ہو جاتی ہے۔
غالبؔ کی زندگی پر تحقیق کرنے والے لوگ ان ہی خطوط سے پورا مواد جمع کرتے ہیںاور کم وبیش دوسرے ذرائع سے۔ہندوستان کی پہلی جنگ آزادی اور اس تحریک سے وابستہ دوسرے معلومات اور بعد میں رونما ہونے والے واقعات کو غالبؔ نے اپنے ان خطوط میں تفصیلی طور پر بیان کیا ہے۔غرض اُس دور کی سیاست،معاشرت،سماجیات، اقتصادیات اور مذہبیات تک کا بھی ان خطوط سے پتہ چلتا ہے۔
رشیداحمد صدیقی اس سلسلے میں کہتے ہیں "نثر میں غالب کے صاحب طرز ہونے کا سُراغ ان کے خطوط میں ملتا ہے۔اردو میں جس انداز کے خطوط غالبؔ نے لکھے ہیں ویسے خطوط دو ایک نے ان سے پہلے بھی لکھے ہیں لیکن ان خطوط کی کوئی مُستقل حیثیت نہیں کیونکہ غالبؔ کے پیش رووں کا لکھنا اتنا ارادی نہ تھا جتنا اتفاقی۔غالبؔ نے جس طرح شاعری میںاپنا آپ ظاہر کیا ہے، اس سے کم اپنے خطوط میں نہیں کیا ہے۔ان کی شاعری میں ان کے خطوط پہچانے جا سکتے ہیں اور ان کے خطوط میں ان کی شاعری جھلکتی ہے۔
ظاہر ہے کہ غالبؔ کے خطوط میں ایسی رنگارنگی اور اوصاف جمع ہیں جن کی بدولت یہ مکتوبات اُردو نثر کے شاہکار بن گئے ہیں۔جدید مسائل، جذبات کے خاموش اظہار اور انداز بیان کی خوبی نے غالبؔ کے خطوط کو ایک حیات ابدی عطا کی ہے۔دیگر فن کاروں اور قلم کاروں نے ان خطوط اور اس نثرکی تقلید کرکے اپنے اصناف کے لئے راستہ ہموار کیا اور ان کی دیکھا دیکھی اپنی نثر میں اپنی شخصیت کو ڈبو کر ایک نیا رنگ اختیار کیا۔ان مکتوبات نے کچھ ایسا رنگ جمادیا کہ محقیقین نے اِن کے پس منظر میں اپنے عہد کے معاشی اثرات،تمدنی میلانات اور مظاہر زندگی پر بخوبی روشنی ڈال کر اس بات کا ثبوت دیدیا کہ زبان اردو میں اتنی وُسعت ہے کہ یہ اُن تمام حقائق کا اظہار وسیلہ بن سکتی ہے جو علم اور تاریخ سے وابستہ ہوں:۔
رشید احمد صدیقی صاحب رقم طراز ہیں۔
"غالبؔ کے خطوط کے مطالعے سے ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے وہ خلوت میں بیٹھ کر احتیاط اور ارادہ کے ساتھ خط نہ لکھتے ہوں بلکہ کسی بالکونی پر جو شارعِ عام پر کُھلتی ہو،بیٹھے ہوئے خط لکھ رہے ہوں اور نیچے سے گذرنے والوں سے وہ سلام بھی کرتے جارہے ہوں،جیسے ہر طرح کے آنے اور جانے والوں سے شناسائی محبت اور بے تکلفی ہو اور ہر ایک کے لئے ان کے دل میں جگہ ہو جیسے ان کو یقین ہو کہ ہر چھوٹا بڑا ان کو دیکھ کر اور پا کر خوش ہوتا ہو اور یہ بھی خود اس احساس سے خوش ہوں۔ آرٹسٹ ہو یا ادیب اعتبار اور آسودگی کا یہ احساس اسکے لئے بہت بڑی نعمت ہے اور یہ وہ مقام ہے جہاں اس کی شخصیت میں اس کا طرز جھلکتا ہو"۔
کیا مکتوب نگار کو یہ خطوط تحریر کرتے وقت اس بات کا اندازہ ہوتا کہ جس کا م کو وہ سطحی طور پر تفریحاًکررہا ہے وہ کبھی رنگ لا کر اُس کی عزت اور شہرت کا باعث بنے گا۔دراصل وہ بے دلی سے اپنے یاروں دوستوں کا دل خوش کرنے کے لئے یہ مکتوب تحریر کر رہا تھا۔ قُدرت کی کرشمہ سازی دیکھے کہ ان خطوط کی بُنیاد پر ایک ایسا محل تعمیر ہو گیا جس کو دیکھ دیکھ کر لوگ اپنے دلوں کو بہلاتے رہے اور اسی طرز پر اپنے چھوٹے چھوٹے مکان تعمیر کرنے پر غور وفکر کرتے رہتے بس کیا تھا کہ غالبؔ کی وفات کے بعد اچھے اچھے ادیب اور انشا پرداز بھی اسی رنگ میں اپنے فن پاروں کو رنگنے کی کوشش میں لگے لیکن اُن کی زبان پر وہ رنگ نہ چڑھ سکا۔کہاں راجا بھوج اور کہاں گنگو تیلی۔یہ چیز عطائی ہوئی ہے جسے ہم خدا داد صلاحیت کہتے ہیں۔ اسی خداداد صلاحیت کا غالب ؔ مُرقعہ تھا۔ اُسے مزاج کی شگفتگی و ہمہ گیری ،مشاہدہ کی قوت گھٹی میں ملی تھی۔نظر اتنی تیز تھی کہ ایک ہی نظر میں ماحول کی عکاسی کرتے اور ان کا انتخاب بے انتہا اور حد درجہ بہتر ہوتا اسے ایسے بھی بیان کرسکتے ہیں کہ مرزا غالبؔ نے بین لاقوامی سطح پر مشہور ادیبوں اور شاعروں کی صف میں اپنا مقام بنالیا۔
ہم اختصار اً کہہ سکتے ہیں کہ غالبؔ نے نہ صرف شاعری بلکہ نثر لکھ کر اپنی خدا داد صلاحیت وذہانت کا بر صغیر میں سکہ جما دیا۔ اردو نثر کو ایک نیا موڑ دیدیا جو نئے آہنگ اور امکانات کا مجسمہ بنا اس طرح یہ نثر نگار اپنی مثال آپ بنا۔ یہی وجہ ہے کہ اب تک مرزا غالبؔ کے مکتوبات اور دیگر نثری نمونوں کو کئی ادباء تعویز کی طرح گلے میں لٹکائے پھر رہے ہیں۔
نوٹ: مضمون نگار کنٹریکچوَل لیکچرار گورئنمنٹ ماڈل ہائیر سیکنڈری اسکول چندوسہ بارہ مولہ
فون نمبر:9469447331