میرے ایک جانے پہچانے صاحب نے مجھے موبائل فون پر علیک سلیک کے بعد بڑی پھرتی سے پوچھا کہ آپ کا واٹس ایپ ہے؟ اپنا نمبر دیجئے، میں آپ کو ایک بہت ہی اہم خبر بتائے جارہا ہوں۔ میں نے نفی میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ میرے پاس تو بس ایک سادہ سا موبائل ہے۔ دوسرے ہی لمحہ ایک اور جانے پہچانے صاحب نے کال کرکے گھر پر ہی اُس کا انتظار کرنے کو کہا۔ کچھ لمحات کے بعد ہی صاحب مذکور میرے ہاں موجود تھے۔ آتے ہی راز دارانہ لمحے میں گویا ہوئے: آپ ابھی سادہ لوحی کی زندگی گذار رہے ہیں۔ واٹس ا یپ نہیں رکھا ہے۔ میں گھر بیٹھے ہی آپ کو ایک رونگٹے کھڑا کرنے والی خبر سناتا ۔ میں اندر ہی اندر اس خبر کو سننے کے لئے بے تاب ساہو گیا۔ بہر حال صاحب مذکور نے اپنا سمارٹ فون آن کردیا اور ایک ادھ سمجھی آڈئیو کلپ مجھے سنائی ۔ سن کرایک دو منٹ جب میں نے خاموشی میں اس ’’رونگٹے کھڑا کرنے والی خبر‘‘ پر غور کیا تو ’’سمارٹ فون‘ ‘ کی کارستانی کے سوا کچھ بھی نہ لگا۔
مندرجہ بالاتمہید کے بعد قرآن مجید کے اِن دو واضح ہدایات کے ساتھ آخر یہ کھلواڑ کیوں؟ ایک ایسا سوال ہے جس پر ہر غیور مسلمان کو سوچنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ دو ہدایات کیا یوں ہی دئے ہیں۔یا ان پر عمل بھی کرنا ہے؟ پہلی ہدایت یہ ہے : ’’اے ایمان والو! اگر تمہارے پاس کوئی فاسق خبر دے تو تم اُس کی اچھی طرح تحقیق کرو، ایسا نہ ہو کہ نادانی میں کسی قوم کو ایذاء پہنچادو پھر اپنے کئے پریشانی اٹھاؤ‘‘[الحجرات: 6 ] ۔اس آیت کے شانِ نزول کی بحث سے قطع نظر اس میں ایک نہایت ہی اہم اصول بیان فرمایا گیا ہے جس کی انفرادی اور اجتماعی دونوں سطحوں پر نہایت اہمیت ہے۔ ہر مسلمان پر یہ ذمہ داری ہے کہ اُس کے پاس جو بھی اطلاع یا خبر آئے بالخصوص بدکردار، فاسق، مفسد اور بدخواہ قسم کے لوگوں سے ، تو اس خبر کی تشہیر یا اس پر کوئی کاروائی کرنے سے پہلے اس کی تحقیق کی جائے۔ ایسا نہ ہو کہ کسی ذی عزت شخص کا وقار داؤ پر لگ جائے یا کسی قوم کے خلاف خوامخواہ چڑھائی کی جائے۔ ایسا بھی نہ ہو کہ بلا تحقیق تشہیر کرنے والا از خود جھوٹا بن جائے جیسا کہ ہمارے نبی ﷺ نے فرما یا ہے کہ : ’’کسی کے جھوٹا ہونے میں اتنا کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات کو کہتا جائے۔‘‘[مسلم]واضح رہے کہ یہ شخص افواہ بازی کا شکار ہوجاتا ہے اور افواہ بازی سے ہی بڑے بڑے فتنے بپا ہوجاتے ہیں۔ قرآن کریم کی دوسری ہدایت اصل میں ایک انمول نصیحت ہے جو مومنوں کو اپنا معاشرہ بدذوقی اور بداخلاقی سے بچانے کے لئے کی گئی ہے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’اے ایمان والو! بہت بد گمانیوں سے بچو بے شک بعض بدگمانیاں گناہ ہیں اور بھید نہ ٹٹولا کرو۔‘‘[الحجرات:12 ]۔بدگمانی ( Suspicion) کو حدیث میں’’سب سے بڑا جھوٹ‘‘ فرمایا گیا ہے اور اس سے بچنے کی تاکید کی گئی ہے۔ [بخاری کتاب الادب]حکم خداوندی’’تجسس نہ کرو ‘‘ سے اس بات کی ممانعت آئی ہے کہ کسی کی ٹوہ میں رہ کر کوئی خامی یا عیب معلوم ہوجائے تاکہ اُسے بدنام کیا جائے۔ حدیث میں بھی اس سے منع کیا گیا ہے بلکہ حکم دیا گیا ہے کہ اگر کسی کی خامی یا کوتاہی تمہارے علم میں آجائے تو اُس کی پردہ پوشی کرو، نہ کہ اُسے لوگوں کے سامنے بیان کرتے پھرو اور جستجو کرکے عیب تلاش کرو۔ نبی رحمت ﷺ نے فرمایا : ’’جو شخص کسی مسلمان کی ستر پوشی کرے گا اللہ قیامت کے دن اُس کی ستر پوشی کرے گا۔‘‘
سمارٹ فون نے تو جلتی پر تیل کا کام کردیا ۔ پردہ پوشی نہیں بلکہ پردہ چاک کردیا۔ اور ہاتھ ہمارے استعمال ہورہے ہیں۔ ہمیں سمارٹ فون کی افادیت تک ہی محدود رہنا چاہئے تھا لیکن افادیت کوچھوڑ کر ہم نے اس کے نقصانات لینے کو ہی ترجیح دی۔ کوئی نہیں کہہ سکتا کہ سائنسی ایجادات نے ہمارے لئے کتنے فوائد کے در وا زے کھول دئے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو عقل و فہم عطا کرکے اشرف المخلوقات (Crown of the creation) بنایا ہے جس کی بنیاد علم ہے۔ علم جستجو سے حاصل کیا جا تا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ایک اصول قائم فرمایا ہے: ’’ہر ایک کوشش کرنے والا اپنے ہی بھلے کی کوشش کرتا ہے۔‘‘[العنکبوت:6 ]
علم اور علمی فوائد ہر اُس شخص کو حاصل ہوں گے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر کردہ اصولوں او رضوابط کی پابندی کرے گا اور اِن میں جدوجہد بھی کرے گا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’اور جو لوگ ہماری راہ میں مشقیں برداشت کرتے ہیں، ہم اپنی راہیں ضرور دکھائیں گے‘‘[العنکبوت:69 ]علم چونکہ اللہ ہی کی راہوں میں سے ایک راہ ہے، دین کا علم ہو یا دنیا کا نفع بخش علم۔ سائنس دان اللہ کی اس راہ میں جدوجہد کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اپنے ظاہر و پوشیدہ خزانوں کو انسان کسی فلاح و بہود کے لئے کھول دیتا ہے۔ لیکن یہی انسان ان فوائد بخش اشیاء کو ناقص العقل ہونے کی وجہ سے مضرات میں تبدیل کرتا ہے جن کی وجہ سے زمین پر فساد برپا ہوجاتا ہے جس کے لئے انسان ہی ذمہ دار ہے جیسا کہ ارشاد الٰہی ہے:’’ خشکی اور تری میں لوگوں کے اپنے ہاتھوں سے فساد پھیل گیا ہے۔۔۔۔‘‘[روم :41 ]اور اس فساد میں انسان خود بخود پھنس گیا ہے اور اپنے ہی کرتوتوں کا پھل اُسے چکھا دیا جارہا ہے ، ممکن ہے کہ وہ باز آجائے۔ سائنس کی ایجاد پر ایجاد کا سلسلہ جاری ہے۔ اللہ کے فضل سے علمی دھماکہ (Knowledge Explosion) وقوع پذیر ہوا۔ چھپے خزانے آشکارا ہوگئے اور انسان کو ان سے مستفید ہونے کا موقع فراہم کیا گیا ۔ اِن ہی ایجادات میں ایک اہم ایجاد موبائل فون ہے۔ دنیا کی بیشتر آبادی اس ایجاد کا ستعمال کررہی ہے۔ کروڑوں لوگوں کا اس ایجاد کے ساتھ روزگار بھی وابستہ ہے۔ موبائل فون نے دنیا کو ایک گلوبل ولج(Global Village) میں تبدیل کردیا ہے۔ لوگ ایک دوسرے کے اتنا قریب آچکے ہیں کہ لگتا ہے دو شخص ایک ہی کمرے میں بیٹھے ہوئے محو گفتگو ہیں۔ دنیا میں جتنے بھی اہم یا غیر اہم واقعات رونما ہوئے ہیں واٹس ایپ، انٹرنیٹ ، فیس بک ، ٹیوٹر وغیرہ سے آپ تک آناً فاناً پہنچ جاتے ہیں۔ اب ریڈیو، ٹیلی ویژن، اخبارات، کتابیں وغیرہ فرسودہ ذرائع ابلاغ سمجھے جاتے ہیں جب کہ اُن کی ہمیت و افادیت مسلّمہ ہے۔ موبائل فون اور اسمارٹ فون نے پوری دنیا کے معلومات اور واقعات کی تفصیل آپ کی جیب میں پہنچادئے ہیں۔ گوگل، معلومات کا خزانہ آپ کی مٹھی میں ہے۔ انگلیوں کو حرکت دے کر آپ کے اسمارٹ موبائل فون کی اسکرین پر مطلوبہ معلومات آپ کے سامنے ہیں۔ مختلف لوگ اسمارٹ فون اس لئے رکھتے ہیں کہ اُن کی ضروریات پوری ہوجائیں۔ مثلا ایک تاجر اپنی تجارت پر نظر رکھ کر اسے فروغ دے سکے، ایک ذمہ دار آفیسر اپنی ذمہ داریوں اور اپنے ماتحت عملے کے ساتھ مربوط رہ سکے، ایک صحافی صحافت کی دنیا سے لگاتار رابطے میں رہ کر عالمی خبروں، عالمی واقعات، عالمی سیاست، عالمی معیشت اور تجزیہ نگاروں اور سیاست کاروں کے تبصرے اور آراء سے باخبر رہتے ہوئے عوام تک پہنچاسکے۔ طلباء اپنے مضامین کی تیاری کے لئے نیٹ پر دسیتاب مواد و معلومات سے مدد لے سکتے ہیں۔ یہ موبائل اور اسمارٹ موبائل فون کا مثبت (Positive) پہلو ہے۔
اسمارٹ فون یا ملٹی میڈیا فون جب اس کے حدود و قیود سے باہر استعمال کیا جا تا ہے تو خرابی پیدا ہوجاتی ہے۔ ان کا ستعمال ضرورت کی حد تک ہوتو کوئی حرج نہیں جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ۔ آج کل ہم کیا دیکھ رہے ہیں؟طلباء و طالبات، بالغ و نابالغ ، مرد و عورتیں، والدین اور گھر کے بزرگ افراد، استاد اور شاگرد، دِن رات ضرورت سے باہر کلاس روموں میں درس و تدریس کے دوران، سڑکوں پر چلتے ہوئے، ڈرائیونگ کرتے ہوئے سادہ اور اسمارٹ فون سے کھیلتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ متعلقین ، منتظمین کتنی ہی روک کیوں نہ لگائیں ، کوئی ٹس سے مس نہیں ہوتا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ اوقات کار ہی نہیں بلکہ فرصت کے لمحات بھی ضائع ہوجاتے ہیں۔ اس پر طرہ یہ کہ صحت بھی متاثر ہوجاتی ہے ۔ صحت اور فراغت سے غفلت بہت بڑا نقصان ہے۔ ہمارے نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ’’اللہ کی نعمتوں میں سے دو نعمتیں ایسی ہیں کہ اُن میں بہت سے لوگ دھوکہ کھا جاتے ہیں، دونوں کا خرد برد کرتے ہیں، غفلت برتتے ہیں۔ایک تندرستی اور دوسری فراغت۔[صحیح بخاری کتاب الرقاق:6412]۔غور کیا جائے تو یہ حدیث مبارک موبائل یا اسمارٹ فون کو غلط استعمال کرنے والوں پر صادق آتی ہے۔ فراغت ، قوت(Physical Power) اور مادی طاقت(Material Power) تین ایسی نعمتیں ہیں جن کی بے قدری کرنا بدترین حماقت ہے۔ جب یہ تینوں چیزیں بوجہ غفلت ہاتھ سے نکل جاتی ہیں تو کف افسوس ملنے اور شکوہ کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہتا ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے ایک شخص کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:’’پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے پہلے غنیمت جانو:۱۔زندگی کو موت سے پہلے، ۲۔صحت کو بیماری سے پہلے،۳۔فراغت کو مشغولیت سے پہلے،۴۔جوانی کو بڑھاپے سے پہلے،۵۔ مالداری کو محتاجی سے پہلے۔‘‘[ترمذی عن عمر و بن میمونؓ]
اس حدیث مبارک پر غور و فکر کرکے ہمارے اُن نوجوانوں لڑکوں اور لڑکیوں کی خصوصاً اور عام مسلمانوں کی عموماً آنکھیں کھل جاتی چاہیے جو اپنے دِن رات سوشل میڈیا کے اِن ذرائع پر اپنا قیمتی وقت، اپنی صلاحیت ، اپنی مالی طاقت اور اپنی جسمانی قوت بے دردی سے ضائع کرتے ہیں۔ فرصت و فراغت کے لمحات اگر ذاتی ، ملی ، قومی اور سماجی کاموں میں صرف کئے جائیں تو دنیا وآخرت کی سرخروئی حاصل ہوسکتی ہے، اپنو اور پرائیوں میں وقاربڑھ جائے گا اور سب سے بڑھ چڑھ کر اپنا ضمیر (Conscience )مطمئن رہے گا۔ ذکر الٰہی کے بغیر اطمینان قلب ممکن نہیں ہے۔
ملت کے نوجوانوں! ہمارا ایمان ہے کہ یہ دنیوی زندگی عارضی ہے۔ جوانی نہ رہنے والی ہے، دولت آتی اور جاتی ہے۔ آخرت کی زندگی ہی ابدالآباد ہے۔ ہمارے نبی ﷺ نے فرمایا ہے: کہ عمر کے متعلق سوال ہوگا کہ کہاں تک عمل کیا؟ جس اور جوانی کو کس کام میں گھلایا؟ [ترمذی ابواب القیامتہ ]،امت کے ہر فرد کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ مارے سماج میں آئے روز جو نت نئے فتنے ، فساد، فواحشات اور منکرات سراٹھارہے ہیں، اُن کے اسباب کیا ہیں اور سدباب کیا ہے۔ اس میں دو رائے نہیں ہیں کہ اسمارٹ فون فحاشی پھیلانے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے کیونکہ اس کا استعمال انتہائی غلط طریقے سے ہورہا ہے۔ اسمارٹ فون کے ساتھ چمٹ کر رہنے والے ملکی اور غیر ملکی غیر محرم افراد کے ساتھ دوستانہ (Friendship) گا نٹھتے ہیں اور بعض اوقات ازدواجی رشتے (Naptal Ties) بھی جوڑتے ہیں جبکہ اپنے قریب ترین رشتے داروں کے حالات و واقعات ، مرنے جینے، مصائب و آلام کی خبر تک نہ ہوتی ہے۔ والدین کو اپنے بچوں اور بچوں کو اپنے والدین کی خبر گیری کی فرصت نہیں ہوتی ہے۔ بچے اس عمر میں والدین کو اپنی اولاد کے سہارے کی اشد ضرورت ہوتی ہے ۔ لیکن اسمارٹ فون کے رسیا اپنے والدین اور بیوی بچوں کے ساتھ بیٹھے کچھ لمحات گذارنے سے بھی رہ جاتے ہیں چہ جائیکہ وہ ملی اور سماجی معاملات میں ہاتھ بٹائیں۔
نابالغ اور نافہم بچوں کے ہاتھوں میں اسمارٹ فون یا سادہ موبائل فون تھما کر لاپرواہ والدین اس بات سے بے خبر رہتے ہیں کہ اُن کے بچے کیا دیکھ رہے ہیں۔ انہٰں یہ خیال تک نہیں رہتا ہے کہ اُن کے بچے اس فتنہ کے شکار ہوکر جسمانی طور بھی متاثر ہوجاتے ہیں ۔ اُن کے کان، اپن کی آنکھیں اور اُن کا دماغ اسمارٹ فون کا حد سے زیادہ استعمال کرنے سے بری طرح متاثر ہوجاتے ہیں۔ وقت مخصوص کریں تو انٹرنیٹ سے ضرور فائدہ اٹھا سکتے ہیں ۔نیند اللہ تعالیٰ کی ایک نعمت ہے۔ طبی لحاظ سے نیند اچھی صحت کی نشانی ہے۔ لیکن جو لوگ نیند کے اوقات کو اسمارٹ فون اور لیپ ٹاپ کے استعمال میں ٹال نیند اُچاٹ دیتے ہیں، یہ اُن کی صحت کے لئے بہت ضرر رسان (Detrimental ) بن جاتا ہے۔ایک اور مسئلہ اسمارٹ فون کو رات بھر اپنے سونے کے تکیہ کے نزدیک رکھنا ہے۔ اسمارٹ فون ایک قسم کی کرنیں(روشنی ) چھوڑتا ، یعنی (emit) کرتا ہے جو نیند کے ہارمونر(Sleeping Hormons) پر دباؤ ڈال کر انسان کو نیند کے انمول لمحات کو ضائع کر تی ہیں ۔ ’’اور ہم نے نیند کو تمہارے آرام کا سبب بنایا‘‘ واضح رہے کہ طبی لحاظ سے نیند کی کمی یا بے خوابی( Insomnia) متعدد بیماریوں کی جڑ ہے۔ نیند سے محرومی جسم کے اندر اُس کیمیائی عمل کو متاثر کرتی ہے جو ہمارے کھانے پینے کی چیزوں کو قوت میں تبدیل کرتا ہے، طور اطوار اور جسمانی کیفیات میں خلل پیدا کرتا ہے اور اعصابی کمزوری بھی پیدا ہوجاتی ہے۔ دیر سے سونا اور دیر سے جاگنا صحت کے لئے مضر ہے۔ ہمارے نبی ﷺ نے نماز عشاء کے بعد غیر ضروری طور جاگتے رہ کر باتوں میں مشغول رہنے سے منع فرمایا ہے۔ جدید تحقیق کے تجویز ہے کہ نیند سے محروم لوگ زیادہ تعداد میں حرکتِ قلب بند ہوکر مرنے کے خطرے سے دو چار ہوتے ہیں۔ بہ نسبت اُن لوگوں کے جو مناسب نیند سوجاتے ہیں۔
عزیز قارئین! ذرا وہ زمانہ یا دکیجئے جب بھائی اور بہن سرراہ آپس میں بات کرنے سے گریز کرتے تھے، شرما تے تھے کہ لوگوں میں بدگمانی پیدا نہ ہو۔ میاں بیوی کی تو بات ہی کیا، وہ تو اپنے والدین ، سسر و ساس، دیور اور بھابی کے سامنے باہم بیٹھنے اور باہم بات کرنے کو ننگ و عار سمجھتے تھے۔ حتیٰ کہ اپنی صلبی اولاد سے بھی شرم و حیا محسوس کرتے تھے۔ ماں، بہن ، پھوپی یا خالہ اپنے بیٹے، بھائی بھتیجے یا بھانجے کے سامنے سر چاردر نہیں اتارتی تھیں۔ موبائل اور اسمارٹ فون نے کیسی آفت لائی کہ پردے کو چاک کردیا ، حیاء کو سربازار نیلام کردیا، غیر محرم لڑکے اور لڑکیاں موبائل فون ، واٹس ایپ اور دوسرے سوشل میڈیا کابے دریغ استعمال کرتے ہیں۔ ایک دوسرے کو حیاء سوز مسیج(Messages) بھیجتے رہتے ہیں۔ غیر محرم معصوم لڑکیوں کی تصویر یں قابل اعتراض صورت میں پوسٹ کرکے انہیں خود کشی پر مجبور کرتے ہیں۔ حال ہی میں پلوامہ ڈسٹرکٹ کی ایک 22 سالہ لڑکی نے زہر کھا کر خود کشی کی کیونکہ کسی جواب نے اُس کی قابل اعتراض تصویریں انٹرنیٹ پر اپ لوڈ کی تھیں(گریٹر کشمیر مارچ9 ، 2019 )۔بدکردار لڑکا گرفتار ہواہے۔
اللہ کا شکر ہے کہ جونوجوان لڑکے یا لڑکیاں صباحی اور مسائی درسگاہوں یا دینی اداروں کے ساتھ وابستہ ہیں، وہ باکردار، با اخلاق، با حیاء ، پا بند صلوٰۃ اور فواحشات وبے حیائیوں سے محفوظ ہیں۔ مساجد میں اِن نوجوانوں کی خاصی تعداد موجود ہوتی ہے۔ یہ نوجوان ملت و قوم کے فلاحی کاموں میں بھر پورحصہ لیتے ہیں۔ ۲۰۱۴ء کے تباہ کن سیلاب میں ان ہی نوجوانوں نے عوام میں ریلیف کی تقسیم کاری اور لوگوں کے مال و جان بچانے میں قابل پذیرائی کام کیا۔ دینی جماعتوں نے اب لڑکیوں کی دینی تربیت کے لئے بھی ادارے کھولنے شروع کئے ہیں۔ یہ ایک انتہائی مثبت قدم ہے۔ سماج کو سنبھالنے ، سدھارنے کے لئے ایک دیندار تعلیم یافتہ لڑکی تر یاق سے کم نہیں۔ یہ ادارے پورے آب و تاب سے لڑکیوں کو دینی تعلیم سے آراستہ کررہے ہیں۔ سنجیدہ فکرمذہبی قیادت سے التماس ہے کہ لڑکیوں کے لئے دینی، تنظیمی اور تعلیمی تربیت کی خاطر نیم روزہ تربیتی و اصلاحی منصوبوں کو عمل میں لایا جائے۔
آخر ی بات: مسئلہ سادہ موبائل فون ، اسمارٹ فون اور الیکٹرانک میڈیا کا نہیں، سوچ کا سوشل میڈیا کو صحیح ڈھنگ سے اور اپنے حدود و قیود کے اندر استعمال کیا جائے تو فائدہ ہی فائدہ ہے۔ کھانا پینا زندہ رہنے کے لئے لازمی ہے لیکن حدود کو پھلانگ کر حد سے زیادہ کھایا پیا جائے تو شکم کی خرابی یقینی ہے۔ باتیں کرکے ماضی الضمیر کا اظہار ہوتا ہے، باتونی بن جائے تو بکواس، حکم الٰہی ہے:’’حد سے نہ بڑھو، بے شک اللہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا ہے۔‘‘
رابطہ:9419780332