ایک شخص اکثر ایک بوڑھی عورت سے انار خریدا کرتا تھا، وزن و پیمائش اور قیمت کی ادا ئیگی سے فارغ ہوکر وہ انار کو چاک کرتا اور ایک دانہ اپنے منہ میں ڈال کے شکایت کرتا کہ یہ تو کھٹے ہیں ….اور یہ کہہ کے وہ انار اس بوڑھی عورت کے حوالے کر دیتا…..وہ بزرگ عورت ایک دانہ چکھ کے کہتی یہ تو با لکل میٹھا ہے مگر تب تک وہ خریدار اپنا تھیلہ لے کر وہا ں سے چل دیا ہوتا ۔اس شخص کی زوجہ بھی ہر بار اس کے ساتھ ہی ہوتی تھی۔ ایک دن اس کی بیوی نے اس سے پوچھا جب اس سوداگرن کے انار ہمیشہ میٹھے ہی نکلتے ہیں تو یہ روز کا ڈرامہ کیسا؟اس شخص نے مسکرا کے جواب دیا وہ بوڑھی ماں میٹھے انار ہی بیچتی ہیں مگر غربت کی وجہ سے وہ خود اس کو کھانے سے محروم ہیں ۔اس ترکیب سے میں ان کو ایک انار بلا کسی قیمت کے کھلانے میں کامیاب ہو جا تا ہوں ۔بس اتنی سی بات ہے۔اس بوڑھی عورت کے سامنے ایک سبزی فروش عورت روزانہ یہ تماشہ دیکھتی تھی ۔وہ ایک دن سوداگرن سے پوچھ بیٹھی یہ آدمی روزانہ تمہارے انار میں نقص نکال دیتا ہے اور تم ہو کہ ہمیشہ ایک زائد انار وزن کرتی ہو۔کیا وجہ ہے؟‘‘یہ سن کر بوڑھی عورت کے لبوں پر مسکراہٹ کھل گئی اور بولی میں جانتی ہو ں کہ وہ ایسا مجھے ایک انار کھلانے کے لیے کرتا ہے اور وہ یہ سوچ بیٹھا ہے کہ میں اس سے بیگانہ ہوں، میں کبھی زیادہ وزن نہیں کرتی ۔یہ تو اس کی ہمدردی اور انسانی محبت ہے جو ترازو کے پلے کو بوجھل کر دیتی ہے اور میں ایک انار زیادہ تولتی ہوں۔محبت اور احترام کی مسرتیں ان چھوٹے چھوٹے میٹھے دانو ں میں پنہاں ہوتی ہیں ۔سچ کہا ہے کسی نے کہ محبت کا صلہ بھی محبت ہے۔