آج کے زمانے کوترقی یافتہ زمانہ یا سائنسی دورکہا جاتا ہے سائنسی دور نے انسان کی زندگی میں کافی بد لاؤ لایا ہے، چاہے وہ بدلاؤ منفی ہو یا مثبت۔ انسانی تہذیب نے اس بد لاؤ کو من و عن تسلیم کیا ہے۔ جہاں تک سوشل میڈیا کا تعلق ہے یہ جدید سائنس کی دین ہے ۔ آج ہم سب اس امر پر اتفاق رائے رکھتے ہیں کہ اس میڈیا کے جہاں مثبت نتائج بڑآمد ہورہے ہیں مگر اس کے منفی اثرات بھی کچھ کم نہیں۔ بے شک سوشل میڈیا نے ہمارے ذہنوں کے دریچے کھول دئے ہیں اور ہماری سوچ کو اچھے خطوط پر استوار کیا ہوا ہے ، مگر ساتھ ہی سوشل میڈیا نے ہی ہمارے ذہن منتشر اور دل مضطرب کر کے رکھ چھوڑے ہیں۔اس کا منفی اثر زیادہ تر نوجوان لڑکوں لڑکیوں پر براہ راست پڑا ہوا ہے مگر ان کی زندگیاں اجیرن بن چکی ہیں ۔نوجوان راتوں کو جاگ کر سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہیں ، اس سے ان کی اول آنکھیں خراب ہو رہی ہیں، دوم دردسر ، دلی بے چینی اور بے آرامی بڑھ رہی ہے۔ امریکہ کے کئی ڈاکٹروں نے سوشل میڈیا کے منفی اثرات کا سروے کیا تو ان کی یہ رائے بنی کہ اکثر و بیشتر سوشل میڈیا کے بے اعتدال استعمال سے انسانی زندگیاں خراب ہو رہی ہیں ، خاص کرمععصوم بچوں کے ذہنوں پر برے اثرات مرتب ہو رہے ہیں ۔اسی بنا پر انہوں نے ان والدین کو مشورہ دیا ہے جو اپنے بچوں کو موبائل فون یا کمپیوٹر چلانے کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ اپنے بچوں کو ان کے بے اعتدال استعمال سے دور بھی رکھیں تاکہ وہ ان کے برے اثرات سے بچائے جاسکیں۔ ا س لئے کچے ذہن کے بچوں کو ان چیزوں کے زیادہ استعمال سے روکنا ہوگا۔ طبی تحقیق سے واضح ہوچکا ہے کہ موبائل فون س آنکھوں کی ایک بیماری برین ٹیومر لوگوں کو لگتی ہے جو اس کا استعمال کثرت سے کرتے ہیں۔
جدید دور کا انسان سوشل میڈیا کا منکر نہیں ہوسکتا ،البتہ اس کا استعمال جائز طریقے سے ہونا چاہیے ۔اس کے مفید اورجائزاستعمال سے تعلیم ، تدریس اور اہم معلومات کا ایک خزانہ بھی داناUSER کو دستیاب ہوسکتاہے۔ آج کل اس کے ذریعے بڑے بڑے علما سکالر ، وکلاء، سیاست دان، اساتذہ کرام، صحافی حضرات اپنے خیالات اور اپنی آراء لوگوں تک چٹکیوں میں بہم پہنچاسکتے ہیں ۔ ان مفیدات سے قوم کی بے حسی اور لاعلمی دور ہوجاتی ہے اور عام لوگوں میں نئی سوچ اور تعمیری جذبہ پیدا ہوجاتا ہے ۔ ان معنوں میںقوم کو حقائق سے آگاہ رکھنے اور ذہنی طور بیدار اور بالغ کرنے میں سوشل میڈیا کا ایک اہم کردار ممکن العمل ہے ۔اس سے قوم کی ناخواندگیاں ،کج رویاں ،بے ہودگیاں اور بدگمانیاں دور ہی نہیں بلکہ جڑ سے اُکھڑ جاتی ہیں۔ دنیا میں آج کل آئی سی ٹی (ICT) لاگو ہوگیا ہے جس سے بچوں میں مختلف قسم کی مفید معلومات میں اضافہ ہو رہا ہے مگر دوسری طرف ان بچوں میں مختلف قسم کی بیماریاں بھی اسی وساطت سے لاحق ہو جاتی ہیں۔ دیکھا یہ بھی جارہا ہے کہ اکثر والدین رات کے وقت ان چیزوں کا خود خوب استعمال کرتے ہیں اور اپنے بچوں کے بارے میں یہ پرواہ کئے بغیر کہ ان پر ا س سے کیسے کیسے برے اثرات پڑیں گے، سوشل میڈیا کی پیدا کردہ غلطیوںمیں بہک جاتے ہیں ۔ اسی تناظر میں یونیسف نے یہ پلان مرتب کیا ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ رات کے وقت موبائل فون یا سوشل میڈیا کا استعمال کم کیا جائے تاکہ بچے آرام سے اپنی زندگی گزار سکیں اور کوئی ان کا بچپن چھین نہ سکے۔ یہی وجہ ہے کہ کچھ ممالک رات کو سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹوں کو مکمل طور پر بند ش عائد کی گئی تاکہ لوگوں کے آرام کرنے میں کوئی دقت پیش نہ آئے اوردن میں ان کے کام کاج پر کوئی بُرا اثر نہ پڑے۔ ہمارے ملک میں بھی سوشل میڈیا نیٹ ورک پر رات کو لے کر صبح سویرے تک بین لگائی جانی چاہیے۔ قوم کے رہنماؤں ، دانش وروں ، والدین ور اساتذہ کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ نوجوانوں اس دلدل سے نکال ہاہر کر نے کے لئے ان کو راہِ راست پر لایں تاکہ جوان نسل سوشل میڈیا کے غلط استعمال سے خود اپنے پاؤں پر کلہاڑی مار نے سے بچ جایں ۔ہم سب وک اس باب میں خوابِ غفلت سے جاگنا ہوگا ۔