خوف سے نجات ہمیشہ انسان کی تمنا رہی ہے لیکن اس حق کا مطالبہ دوسری جنگ عظیم کے بعد سامنے آیا ۔اس کے بعد یہ اُن بنیادوں میں شامل ہوگیا جن پر قوام متحدہ اور سلامتی کونسل کا قیام عمل میں آیا ۔ظاہر ہے کہ یہ ایک شریفانہ نظریہ ہے،آخر کیوں نہ روئے زمین کے گوشوں میں امن و سکون کا دور دورہ ہو؟ بین الاقوامی تعلقات میں دھمکی ،جارحیت اور دہشت گردی کا ازالہ کیوں نہ ہو؟جب ہر شخص کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ اپنے شہر میں دن میں آزادانہ گھومے ،پھرے اور رات میں سکون کے ساتھ اپنے گھر میں آرام کرسکے ،اُسے نہ ہتھیار لے کر چلنے کی ضرورت پڑے اور نہ کسی حملے کا ڈر ہو، تو پوری دنیا میں ایسا ہی ماحول کیوں نہ ہو کہ کوئی قوم دوسری قوم کی جارحیت سے خائف نہ ہو ،نہ کوئی کمزور ملک کسی طاقتور ملک سے ہراساں رہے ، نہ کوئی سیاہ فام سفید فام سے ڈرے ،بے شک یہ ایک حسین خواب ہے۔کاش انسانی معاشرہ اس خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کے لئے باہم تعاون کرتا اور پھر اس کی ٹھنڈی چھائوں سے لطف اندوز ہوتا ۔اسلام اسی طرح کے امن و استحکام کا خواہاں ہے لیکن کیا بدقماش لوگوں کی مجرمانہ ذہنیت ختم ہوسکتی ہے ؟ کیا ہزاروں لوگ گناہ اور جارحیت کے سلسلے میں تعاون کرنے سے شرمانے لگیں گے؟
بہر حال خوف سے چھٹکارا اسلام کا ایک بنیادی مقصد ہے ۔اعتماد اور مفاہمت ہی کی فضا میں یہ دین پروان چڑھا ہے اور ایسی ہی فضا وہ دوسروں کے لئے بھی فراہم کرنا چاہتا ہے۔چاہے اصولی اور نظریاتی طور پر اُن سے کتنا ہی اختلاف اور دوری کیوں نہ ہو۔اسلام ذہن و اختیار پر دبائو ڈالنے کو مسترد کرتا ہے کیونکہ وہ ایمان کی بنیاد مکمل فکری آزادی پر قائم کرتا ہے ،وہ انسان کے دماغ میں یقین پیدا کرنے کے سلسلے میں عقل کی صلاحیتوں کو دبانے کے لئے غیر معمولی خرقِ عادت چیزوں کا سہارا نہیں لیتا ۔کائنات کی نشانیوں پر غور و فکر سے ہی سچا ایمان تشکیل پاتا ہے ،جو اپنی عقل کا احترام کرتا ہو ،وہ ایمان کے لئے خرقِ عادت چیزوں کا انتظار کیوں کرے۔جس طرح اسلام نے ایمان لانے کے لئے ذہن و فکر پر دبائو ڈالنے کو مسترد کیا ہے اُسی طرح ارادہ و اختیار پر دبائو دالنے کو بھی مستردکیا ہے۔ا ن حقائق کے پیش نظر ہم کہتے ہیںکہ اسلام دینی جنگوں سے واقف نہیں،وہ اپنے اصولوں کی نشرو اشاعت اور لوگوں کو اپنے دائرے میں داخل کرنے کے لئے حملہ نہیں کرتا ۔صرف دو ہی صورتوں میں اسلام جنگ کی اجازت دیتا ہے ،جو لوگ اسلام اور مسلمانوں کا قلع قمع کرنے اور انہیں ذلیل کرنے کے لئے جارحیت کریں، اُن کی جارحیت کو پسپا کرنے کے لئے یا پھر کسی علاقہ میں ظلم و سرکشی کے شکنجوں میں سسکتی ،کراہتی انسانیت کو بچانے کے لئے اور دونوں صورتوں میں فتح یابی کی حالت میں وہ اپنے آپ کو کسی فرد یا ملک پر مسلط نہیں کرتا ۔وہ صرف جاحیت پسندوں کی کمر توڑ دیتا ہے اور پھر لوگوں کو آزاد چھوڑ دیتا ہے کہ وہ اپنے پسندیدہ اعتقاد پر برقرار رہیں۔جو ہم سے صلح کرنا چاہے ہم اُس سے صلح کرلیں اور جو ہم سے جنگ کرے ہم اُس کا مقابلہ کریں تو کیا ہم کو تشدد پسند کہا جائے گا؟
اسلام اور بت پرستی کے درمیان زبردست خلیج کے باوجود اسلام نے اس سے جنگ نہیں کی بلکہ بت پرستوں سے کہا کہ ’’تمہارے لئے تمہارا دین ہے اور میرے لئے میرا دین۔‘‘پھر جب جنگ بھی کی تو بت پرستی کو نیست و نابود کرنے کے لئے نہیں بلکہ صرف اُس بڑھی ہوئی جارحیت کی کمر توڑنے کے لئے ۔اسلام نے یہودیت سے بھی جنگ نہیں کی بلکہ ان یہودی جماعتوں سے جنگ کی ،جو اس پر حملہ آور ہورہے تھے۔جب اُن کی جارحانہ صلاحیت ختم ہوگئی تو پھر یہودی امن و سکون سے رہنے لگے ،یہی اسلامی مزاج و فطرت آج تک مسلمانوں کے خون میں گردش کررہی ہے۔
فلسطینیوں کے ساتھ یہودیوں نے کیا کیا وحشیانہ سلوک نہیں کیا ،لیکن مسلمانوں نے کسی ملک میں یہودی مذہب کے خلاف اعلان جنگ نہیں کیا اور یہودی مذہب اور جارحیت پسند یہودیوں کے درمیان فرق ہمیشہ برقرار رکھا،طرح طرح کے نامساعد حالات مسلمانوں کے سامنے آتے رہے ،مثلاً فرانس الجزائر میں متعصبانہ جنگ کی آگ بھڑکاتا رہا اور الجزائر کی آزادی سے پہلے ۱۹۶۲ء میں فرانس کے جنرل ڈیگال کو یہ کہتے ہوئے ذرا بھی شرم محسوس نہیں ہوئی کہ الجزائر کے ۹۰ لاکھ مسلمانوں کے ساتھ جنگ جاری رکھنے کی ضرورت ہے ،یعنی پُرانے کینے صدیاں گذر جانے کے باوجود ٹھنڈے نہیں پڑے۔دوسری طرف مسلمان صرف یہ کہتے رہے کہ یہ ہمارے خلاف فرانسیسی نو آباد کاروں کی جنگ ہے۔عیسائی مذہب سے اس کا کوئی تعلق نہیں جوڑا کیونکہ مسلمان دینی جنگوں سے آگاہ ہی نہیں ہے نہ ان کی روایات و مزاج میں یہ کبھی شامل رہی ہے اور نہ کبھی ہوں گی۔مسلمانوں نے ہمیشہ یہی چاہا کہ وہ ظالمانہ طاقت کی کمر توڑدیں اور مظلوم عوام کے ہاتھوں کو زنجیروں سے آزاد کریں۔دنیا کے مختلف حصوں میں لاکھوں کمزور اور مظلوم انسان خوف سے نجات کا حق پانے کے لئے تو ترس رہے ہیں ،پھر کیا ماضی کو ہر دم یادرکھنا ضروری ہے؟ ہر مذہب ماننے والوں میں ایسے لوگ ہوتے رہے ہیں جنہوں نے اس کی بلند روح کو پامال کیا اور اپنی ذاتی خواہشات کی تکمیل کے لئے اس کا استحصال کیا ۔آخر آج کون سی چیزاس بات سے روک رہی ہے کہ دنیا کا نظام ایسی نئی بنیادوں پر قائم کیا جائے جن سے مشرق و مغرب ہر جگہ امن و سکون کا دور دورہ ہوجائے؟
ہم خوف سے نجات کو مستحکم کرنا چاہتے ہیں اور اس سلسلہ میں دوسروں سے بھی تعاون کے خواہاں ہیں،ہم مسلمان امن چاہتے ہیں اور اپنی آنے والی نسلوں کے لئے ایک محفوظ مستقبل کے خواہش مند ہیںلیکن کیا استعمار کے بقا کے ساتھ انسانی حقوق کو نظر انداز کرکے لوگوں کو اپنے بارے میں فیصلہ کرنے کے حق سے محروم کرکے اور اسلام کا چراغ گُل کرکے اور مسلمانوں سے زندگی چھین لینے کی زبردست کوششوں کے ساتھ پائیدار بنیادوں پر امن قائم ہوسکتا ہے؟
احمد نگر سرینگر۔ 9697334305