سرینگر// وادی میں تیز رفتار انٹرنیٹ پر پابندی کے8ماہ مکمل ہوگئے،تاہم حکام کی جانب سے اب بھی اس پر پابندی عائد جاری ہے۔ مرکزی حکومت کی طرف سے5اگست کو جموں کشمیر کے آئین کی تقسیم و تخصیص کے اعلان سے قبل ہی جموں کشمیر میں انٹرنیٹ سمیت مواصلاتی بندشیں عائد کی گئی۔ حکام نے 17اگست کو مرحلہ وار بنیادوں پر لینڈ لائن کو بحال کیا اور بعد میں74دنوں کے بعد پوسٹ پیڈ موبائل کی سروس کو بحال کیا۔قریب چھ ماہ بعد پری پیڈ سروس کو بحال کیا گیا جبکہ انٹرنیٹ سروس پربھی مرحلہ وار طریقے سے پابندی ہٹائی گئی جس میں پہلے پوسٹ پیڈ موبائلوں کیلئے 2جی انٹرنیٹ بحال کیا گیا پھر براڈ بینڈ اور دیگر کمپنیوں کو اجازت دی گئی کہ وہ مختلف اداروں کو انٹرنیٹ سروس بحال کریں تاہم موبائل انٹرنیٹ کو سست رفتار پر چلانے کو پہلے مرحلے میں منظوری دی گئی تاہم لوگوں کے اصرار کے باوجود بھی انٹرنیٹ کی تیز رفتار سہولیت کو بحال نہیں کیا گیا۔ جموں کشمیرمیں 4جی انٹرنیٹ سروس پر پابندی کے 8ماہ مکمل ہوگئے ہیں ۔ اگرچہ کئی سیاسی ، سماجی اور دیگرشخصیات نے وقت وقت پر مرکزی سرکار سے اپیل کی کہ جموں کشمیر میں 4جی انٹرنیٹ سروس کو بحال کریں تاہم ابھی تک یہ سروس بحال نہیں کی گئی۔ حالیہ دنوں میں حکومت نے ایک بار پھر وادی میں امن و قانون کی صورتحال کو بنائے رکھنے کیلئے وادی میں15اپریل تک موجودہ رفتار سے ہی انٹرنیٹ سروس کو جاری رکھنے کا اعلان کیا۔