آج پوری دنیا کورونا وائرس کی وجہ سے پریشانی میں مبتلا ہو چکی ہے ۔پوری دنیا میں ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک اس وباء کے سامنے بے بس نظر آرہے ہیں تاہم اس سب کے باوجود بھی ایک ایسا طبقہ اس دنیا کا حصہ ہے جو محض اپنی غریبی کی وجہ سے سوشل میڈیا اور کیمروں میں قید ہو کر مذاق بنتاجا رہا ہے ۔ہندوستان میں عالمی وباء کی آمد کے بعد مزید پھیلا ئو کو روکنے کیلئے وزیر اعظم ہند نریندر مودی کی جانب سے پہلے ’جنتا کرفیو ‘اور بعد میں 21دنوں تک مکمل’ لاک ڈائو ن ‘کا اعلان کیا گیا تھا جس کی وجہ سے پورے ملک میں عوامی اور ٹریفک کی نقل و حرکت پر پابندی عائد کی گئی ہے ۔اس سب میں ایک طبقہ کے لوگ ایسے بھی ہیں جن کا مکمل انحصار مزدوری پر تھا لیکن وائرس کی دہشت کیساتھ ساتھ پولیس کی کارروائی ان کو گھروں میں ہی محصور رہنے پر مجبور کر رہی ہے اور کاروباربند ہونے کی وجہ سے گھروں میں اشیائے ضروریہ کی قلت ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کر چکی ہے ۔مشکل کی اس گھڑی میں کئی سرکاری اور نجی تنظیمیں اس بے سہارا طبقہ میں غذائی اجناس ودیگر سامان تقسیم کرنے میں مصروف ہیں ۔فلاحی تنظیموں کی جانب سے ملک کے دیگر حصوں کی ہی طرح جموں وکشمیر کے ہر ایک خطہ میں بھوکوں، مجبوروں ، محتاجوں ، یتیم بچوںاور ذہنی طورپر معذور افراد میں ضروری اشیاء تقسیم کی جارہی ہیں لیکن کم و بیش سبھی تنظیموں کی جانب سے غریبوں کو راشن و دیگر ضروری اشیاء تقسیم کرنے سے زیادہ فوٹو گرافی کو اہم سمجھ جارہا ہے جس سے مذکورہ عمل کا مقصد ہی فوت ہو جاتا ہے ۔اس عمل کی نشاندہی کر کے سامنے لانا کسی کے جذبات کو مجروع کرنانہیں ہے لیکن یہاں پر سوال یہ پیدا ہو تا ہے کہ غریبوںکی فوٹو گرافی کر کے سوشل میڈیا بالخصوص وٹس ایپ ،فیس بک ودیگر سماجی رابطوں والی سائٹس پر شیئر کرنے سے ان کے جذبات بھی مجروع ہو سکتے ہیں اور اگر کسی کو ذلیل کر کے اُن کی مدد کی جائے تو اس کا کتنا ثواب ہو گا اس کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے ۔اگر ان تصویروں کو بغور دیکھا جائے تو امدادی سامان تقسیم کرنے والی نجی تنظیموں کے اراکین اور رضا کاروں کے چہروں پر مسکراہٹ تو ہوتی ہے لیکن دوسری جانب بے بسی کا شکار افراد کی نظریں جھک جاتی ہیں جو کہ سامان لینے کیساتھ ساتھ اس عمل کے منفی اثرات سے بھی واقف ہوتے ہیں ۔کئی جگہوں پر یتیم بچیوں، بیوہ عورتوں یا غریب خواتین، کمزور اور بزرگوںکوراشن ودیگر ساز و سامان سماج کی بڑی بڑی ہستیوں کے ہاتھوں سے دیتے ہوئے دکھایا جاتاہے اور ان کی تصویریں سوشل میڈیا پر’ اپ لوڈ‘ کر کے دیگر لوگوں کو مشکل کی اس گھڑی میں کئے جارہے کام کے بارے میں جانکاری دینے کی کوشش کی جاتی ہے لیکن دوسری جانب غریب طبقہ کیلئے اس مشکل کی گھڑی میں عزت کیساتھ ساتھ بھوک سے اپنے بچو ں ودیگر افراد خانہ کو بھی بچانا اہم ہے ۔اگر ہم اپنے اس عمل پر ایک لمحہ کیلئے سوچیں کہ بے سہارا افراد کی سامان لیتے ہوئے ایک تصویر سوشل میڈیا کی ہر ایک سماجی رابطہ گاہ کے کتنے ہی گروپوں میں ’فار ورڈ ‘کی جاتی ہو گی اور اس عمل کے چلنے کی وجہ سے لاچار لوگوں کی عزتِ نفس کو کتنی ٹھیس پہنچتی ہوگی جب ان کی غربت و افلاس کا ڈھنڈورا ان تصویروں کے ذریعے اپنوں اور غیروں میں پیٹا جاتا ہے تو ان کیلئے غریبی ،کورونا وائرس کی وجہ سے پیدا شدہ صورتحال اور لوگوں کے مذاق جیسے واقعات کو اپنے دل پر برداشت کرنا کس قدر مشکل ہوتا ہو گا ۔
مشکل کی اس گھڑی میں پسماندہ طبقہ جات کی مدد کرنا انتہائی ضروری ہونے کیساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کے حضور ثواب حاصل کرنے کا ایک طریقہ بھی ہے لیکن غریبی اور مفلسی سے پریشان لوگوں کو مذاق بنانا شاید ثواب کے بجائے عذاب کو دعوت دینا ہے ۔اس وقت پہلے ہی پوری دنیا کسی آسمانی عذاب میں مبتلا ہو چکی ہے اور اللہ تعالیٰ نے آنکھوں سے بھی نہ دکھائی دینے والے وائرس سے پوری دنیا میں اپنی بالا دستی (Supremacy) کا بگل بجانے کی کوشش کرنے والے ممالک کی حکومتوں کو ایک ایسی سوچ میں مبتلا کر دیا ہے جس سے شائد اب ان کو اللہ تعالی کی بالا دستی (Supremacy)کو ماننے کے بغیر کو ئی دوسرا متبادل دکھائی نہیں دیتاتاہم اس مشکل اور آزمائش کی گھڑ ی میں بھی اگر ہم پسماندہ طبقہ کی مفلسی اور لاچاری کو تصویروں کی شکل میں مذاق بنا کر سوشل میڈیا کے ذریعہ گھر گھر پہنچانے کا کام کر رہے ہیں تو اس عمل سے اللہ تعالیٰ ہم کو ثواب یا عذاب دے گا، اس کا اندازہ لگانا اب مشکل نہیں ہے ۔
غور طلب ہے کہ اسلام سماج کے پسماندہ طبقہ کی مدد کرنا سکھاتا ہے اور اسلام نے غریبوں کو اشیائے ضروریہ پہنچنا ثواب اور اپنے خدا کو راضی کر نے کا ذریعہ بتایا ہے اور اللہ تعالیٰ نے امیروں کر اپنے مال سے غریبوں کی مدد کرنے کا حکم دیا ہے تاہم اس حکم کے مطابق کسی بھی فرد کو غریبوں کامذاق بنا کر عام کرنے کی اجازت ہر گز نہیں دی گئی ہے ۔
پسماند ہ طبقہ کے کام آنا اوراپنی کمائی اور اللہ تعالی کی طرف سے عنایت کردہ مال و دولت کو پسماندہ طبقہ کی فلاح و بہبود کیلئے خرچ کرنا انسانی ہمدردی سمجھا جاتا ہے لیکن اس وقت سماج میں دکھاوے کی رسوم بھی انجام دی جاتی ہیں جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے والے عمل کا مقصد بھی فوت ہو جاتا ہے ۔سماج کا غریب طبقہ سمجھے جانے والے افراد بھی اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہیں اور قرآن وحدیث کی روشنی میں ہمارا یہ ایمان وعقیدہ ہے کہ حالات اللہ تعالیٰ کی طرف سے آتے ہیں اور یہ بھی عقیدہ ہے کہ غریبی ،امیری ،مشکلات،آسانیاں ،بیماریاں وغیرہ بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے آتی ہیں تاہم اس عقیدے کے باوجود اگر کسی کے سماجی قد ، اس کی کمائی اور مجبوری سے سماجی عکس بندی کی جائے تو اس کے نتائج کیا ہونگے، اس پر ہم سب کو غور کرنا چاہئے جبکہ غریبوں کی اس مشکل گھڑی میں تصویر کشی کر کے موبائل فون اور انٹر نیٹ کی مختلف سائٹس پر لوڈ کرنے سے زیادہ ثواب نہیں مل سکتا ۔
(مضمون نگار کشمیر عظمیٰ ،جموں ایڈیشن کے شعبہ ادارت سے وابستہ ہیں اور ان سے [email protected] پر رابطہ کیاجاسکتا ہے)