چند ماہ قبل جہاں دنیا کے بیشترترقی یافتہ اورترقی پذیر ممالک میں کرو نامی بیماری کے تذکرے کو کوئی خاص اہمیت حاصل نہیںتھی، وہاں آج ساری دنیا میںاس کا چرچا جاری و ساری ہے۔ اس جان لیوا بیماری کی مہا ماری وخوف و دہشت کا تذکرہ نہ صرف زبانِ زد عام ہے بلکہ اس کے باعث ہونے والی انسانی جانوں کے اتلاف اوربڑے پیمانے پر متاثرین سے پید ا شدہ پیچیدہ صورت حال کے اعداد و شمار کا معاملہ ایک خصوصی موضوع بن گیاہے۔کیونکہ چند ماہ یا چند ہفتے پہلے جس انسان کے گمان میں بھی یہ نہیں تھا کہ آنے والے دنوں میں اُسے بھی ایک انتہائی مشکل وقت کا سامنا کرنا ہوگا ،اب اُس کے لئے ہر لمحہ نازک اور ہر ساعت خوفزدہ بن گئی ہے،اُس کے لئے اب نہ راتوں کا سکون ہے اور نہ دن کا قرار اور حالت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ اب وہ اپنی پرچھائیوں سے بھی ڈرنے لگا ہے۔ اپنی اس وادیٔ کشمیر میں بھی ’کرونا ‘ ایک ایسا پیچیدہ موضوع ہے جو انتہائی تکلیف دہ حقیقت بنا ہوا ہے اوردن بہ دن تشویش ناک صورت حال کی طرف بڑھتا چلا جارہا ہے۔اگر چہ یہاں کے لوگوں کے پاس بھی تا حال ا س سے چھٹکارا پانے کی کوئی ٹھوس صورت نہیں ہے ،تاہم سرکاری احکامات اور احتیاطی تدابیر کے تحت لاک ڈاون میں اس پر گفتگو کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے ہوئے اپنی آراء پیش کرتے رہتے ہیں۔
تاریخی اوراق پلٹنے سے تو اس بات کا پتہ چل ہی جاتا ہے کہ وقفہ وقفہ کے بعد انسانی دنیا میں اس طرح کے موضوعات پر بحثیں ہوتی رہی ہیں،جن سے یہی عیاں ہوجاتا ہے کہ انسانی دنیا کا یہ کوئی نیا حادثہ یا واقعہ نہیں ہے بلکہ اس سے پہلے بھی ہلاکت خیز وبائی امراض،قحط سالی،سیلاب ،زلزلے اور آندھی و طوفان کی تباہ کاریوں سے دنیا نبرد آزما رہی ہے، جن میں نہ صرف لاتعداد لوگ لقمہ اجل ہوئے ہیں ،اربوں ، کھربوں کی جائیدادیںتباہ ہوئیں ہیںبلکہ زمین پر رہنے والے مختلف حیوان بھی ان تباہ کاریوں کی نذر ہوکر نابودہوئے ہیں مگر ماضی کے یہ حادثات و واقعات محض کسی ایک خطہ ،مُلک یا کسی زون تک محدود رہے ہیں،جس کے نتیجے میں انسان نے سرِ نواپنی انتھک کوششوں ،ہمت و حوصلہ اور جذبہ ٔ استقلال کے بل بوتے پر حالات کا سامنا کیا ہے اورحالات پر قابوبھی پالیاہے ۔ظاہر ہے کہ ماضی میں وقوع پذیر ہونے والے ایسے حادثات و واقعات کے اصل محرک وہی تھے جو آج بھی ہیں۔ جس کسی ملک یا خطہ کے حدود میں احکام الٰہی کے خلاف کھلی بغاوت کی حد ہوجاتی ،فرعونیت،نمرودیت اور یزیدیت کا دبدبہ قائم ہوجاتا ،ظلم و ستم کا بازار گرم ہوجاتا ،انصاف کا نام و نشان نابود ہوجاتا، نافرمانی ،عریانیت ،فحاشی اور جرائم و گناہ عام ہوجاتے اور انتہائی گھنائونی حرکتیں کھلے عام کرنے کی آزادی مل جاتی تو کسی نہ کسی شکل میں عذاب ِالٰہی نازل ہوکر اُس ملک یا خطہ کی انسانی آبادی تباہ وبرباد کرتی اور بڑے پیمانے پر جائیدادیں مسمار ہوجاتیں تاکہ وہ اپنی سیاہ کاریوں،گمراہیوںاور غلطیوں سے باز آجاتے اور دوسروں کے لئے عبرت بن جاتے۔البتہ ماضی میں ساری دنیا ایک (گائوں)گلوبل ولیج تونہیں تھا، اس لئے جہاں کہیں بھی وبائی بیماری کی صورت حال پیدا ہوجاتی تو اس کا دائرہ بھی محدود ہی رہتا ۔ذرائع ابلاغ کا سلسلہ انتہائی محدود یا یوں سمجھئے کہ نہ ہونے کے برابر تھا ،اس لئے ایک کونے کی خبر دوسرے کونے تک پہنچنے میں کافی عرصہ لگ جاتااور بعض اوقات پتہ بھی نہیں چل پاتا۔ اب جبکہ دور حاضرکی اکیسویں صدی کے جدیدسائنسی و ٹیکنالوجی دنیا نے ایک (گائوں)گلوبل ولیج کی شکل اختیار کرلی ہے ،جس کا ایک چھوٹا سا حصہ ہمارا کشمیر بھی ہے تواس جدیدمواصلاتی دور میںہر کونہ کی خبر اِس کونے تک بھی پہنچ جاتی ہے۔ظاہر ہے کہ دورِ حاضر میںساری دنیا کے باہمی تعلقات اس قدر مربوط ہیں کہ سیکنڈوں اور منٹوں میں مشرق کی بات مغرب اور شمال کی بات جنوب میں پھیل جاتی ہے۔ہر طرح کے سفری سہولیات کے پیش نظر ہر کونے کا انسان دوسرے کونے کے انسان سے مل جاتا ہے ،تجارت ،ملازمت،مزدوری اور سیر وتفریح کے تحت ایک دوسرے کے ساتھ رہتا ہے،رشتے بناتا ہے اور رہائش کرتا ہے۔یعنی کسی بھی کونے کے انسان نے گلوبل ولیج میں وہ سارے طرزِ عمل اپنائے کہ نہ اُس کی اپنی خُو رہی اور نہ اپنی وضع،البتہ وہ اپنی نئی گلوبل وضع قطع کے ساتھ زمانے کے سامنے ہو بہو کھڑا رہا ہے۔ ظاہر ہے جدید سائنس و ٹیکنالوجی نے دور حاضر کے انسان کے لئے جتنے فوائد پہنچائے ہیں اُس سے کہیں زیادہ نقصانات سے بھی دوچار کردیا ہے ۔جدیدیت کے اسی عالم انسان نے تمام تر اعمالِ بد ،لغویات، سیاہ کاریوں،مظالم،ناانصافی اور فرعونیت کو گلوبل کی شکل میں فروغ دے کر پروان چڑھا یا ہے۔ پچھلے سات آٹھ عشروں پر ہی اگر نظر ڈالیں تو ہر سُو گمراہی ،غلط کاری،فحاشی ،عریانیت کا ہی بول بالاہے۔نتیجتاً اِسی گلوبل نمرودیت ، فرعونیت اور یزیدیت کے دَبدبے اور غنڈہ گردی کے تحت جہاںدنیا بھر کے تقریباً سبھی ملکوں میںعذابِ الٰہی کو دعوت دینے والی بد کاریاں ،بُرائیاں،خرافات اور بد اعمالیاںعام کرائی گئیں، وہیں دنیا کے کئی ملکوں اور خِطوںپرجابرانہ غلبہ پانے اورغاصبانہ قبضہ جمانے کے لئے کیا کچھ نہیں کیا گیا؟عالمی فرعونوں نے اپنے سیاسی و ملکی مقاصد اور ذاتی مفادات کے لئے انسانی خون کی ندیاں بہائیں، حکمرانوں کے تخت تاراج کئے ،شہروں کے شہر مسمار کرکے کھنڈرات بنا دیئے۔ من پسند حکومتیں قائم کرائیں،حق کا گلہ گھونٹ دیا ،انصاف کی دھجیاںاُڑائیں،نہ کسی کی آہ و بکا سُنی اور نہ ہی کسی پر رحم کیا ۔ ہر غنڈہ دوسرے غنڈے کا ساتھی بن کر کمزوروں کو کچلتا رہا ،غرضیکہ عالمی غنڈہ گردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایسے ایسے خونی کھیل کھیلے گئے کہ نہ صرف انسان لرزہ بر اندام ہوا بلکہ انسانیت نام کی کوئی چیز ہی باقی نہ رکھی گئی۔اپنی انَا اور ہٹ دھرمی کی آڑ میں بغیر نیو کلیائی بم کے دنیا کو تباہ کرنے والے تمام مہلک ہتھیار فلسطین،عراق ،افغانستان،مصر،شام اور کئی دوسرے ملکوں میں استعمال کر کے ان ملکوں کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی۔ لاکھوںلوگوں کا قتل ِ عام کیا گیا ، لاکھوں اپاہچ بنائے گئے اور لاکھوں کو اپنے آشیانوں سے محروم کرکے مہاجرت پر مجبور کردیا گیا ۔قابل غوربات یہ بھی ہے کہ جن ملکوں پر یہ ظلم و ستم کا قہر ڈھایا گیا ،وہ سبھی دین ِاسلام کے پیرو کار ہیںاور مسلمان کہلاتے ہیں ۔چنانچہ برما میانمار میںمسلمانوں کے ساتھ جس طرح کے مظالم ڈھائے گئے اور جس انداز سے اُنہیں ملک چھوڑنے پر مجبور کیا گیا، اُسے دیکھ کر آج بھی لرزہ طاری ہوکر کلیجہ منہ کوآتا ہے۔اسی طرح گجرات فسادات کے بعد حال ہی میں دہلی فساد میں مسلمانوں کے ساتھ پیش آنے والے واقعات بھی درد ناک تھے جبکہ کورونا کی اذیت ناک موجودہ صورت حال میںان کے ساتھ روا رکھے جارہے رول اورسلوک کی بات بھی کسی سے ڈھکی چھُپی نہیں رہی ہے ۔مگر پھر بھی بغیر مذہب و ملت اور رنگ و نسل کے دورِ حاضر کے گمراہ انسان نے حق اور باطل ،ظالم اور مظلوم کوجاننے یا پہچاننے کی کوئی کوشش نہیں کی بلکہ سچ کو جھوٹ ،ناجائز کو جائز ،گناہ کو ثواب اور ناحق کو حق ہی سمجھتا رہا اور دانستہ یا نادانستہ طور پر اپنی غلط کاریوں اور گمراہیوں میں بدستورمشغول رہا۔
دورِ حاضر میںاس گلوبل گائوں کے مختلف حصوں میںانسانیت کوکچلنے ،کمزوروں کو دبانے اور سچ کو چھپانے کے لئے جس طرح کی کوششیںجاری و ساری ہیں،کیا وہ دعوت عذابِ الٰہی کے لئے کافی نہیں ہیں؟کہیں یہی وجہ تو نہیںکہ اس بار چین میں جنم لینے والی کرونا نامی وبائی بیماری نے جس انداز سے تمام حدود پار کرکے ساری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اوروہ گلوبل گائوںکو گلوبل طریقے پر متاثر کررہی ہے ۔ بظاہر تو یہی دکھائی دے رہا ہے کہ تاحال یہ بیماری انتہائی خوفناک صورت حال کا پیش خیمہ ثابت ہورہی ہے۔پچھلے دو مہینوں سے ہر ملکی ،غیر ملکی ذرائع ابلاغ و الیکٹرانک میڈیا کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا کی پہلی خبر صرف ’کرونا ‘ہی ہے اور ساری دنیا اس حوالے سے شدید تکالیف میں مبتلا ہے اور اس وقت نبی نوع انسان کو اگر کوئی سب سے بڑا خطرہ ہے تو وہ ’کرونا ‘ہی دکھائی دے رہا ہے۔جس کا پھیلائو دن بہ دن بڑھ رہا ہے۔اگرچہ گلوبل سطح پر ہی اس بیماری سے بچائو یااس پر قابو پانے کی انتھک کوششیںجاری ہیں اور تاحال احتیاطی تدابیر پر عمل بھی ہورہا ہے تاہم اس پر قابو پانے کی تمام کوششیں ناکام ثابت ہورہی ہیںاور تمام جدید سائنس و ٹیکنالوجی بے بس ہوکر رہ گئی ہے،جوکہ دنیا کے نام نہاد آقائوں کے لئے تازیانہ عبرت ہے۔ جس سے یہ عندیہ بھی ملتا ہے کہ اس عالمی گائوں میںاجتماعی طور پر اور انفرادی صورت میںجب تک انسانیت کا چراغ روشن نہ ہوگا ،انسانی شعور بیدار نہ ہوگا ،فرعونیت ،نمرودیت اور یزیدیت ختم نہ ہوگی،عالمی غنڈہ گردی کا خاتمہ نہ ہوگا ،انصاف کا بول بالا نہ ہوگا ،اور گمراہیوں کا خاتمہ نہیں ہوگا،تب تک یہ ستم گرعالمی وبائی بیماری اپنے ہلاکت خیز جلوے دکھاتی رہے گی۔اللہ رب العزت جو خالق ِ کائنات ہیں،اُسی نے اس کورونا نامی اس جرثوم میں جان ڈالی ہے اور اُسی کے حکم کے تحت یہ جرثوم اپنی کارکردگی دکھا رہا ہے۔اس لئے وہی اپنی قدرت ِ کاملہ کے ذریعہ جہاں مرض دیتا ہے وہاں اپنی قدرتِ کاملہ سے شفا بھی دینے والا ہے۔مرض کے پھیلائو کو روکنے کے لئے چاہے جتنے بھی احتیاطی تدابیر اختیار کئے جائیں ،اس کے تدارک کے لئے اللہ رب العزت سے رجوع ہونا ضروری ہے۔ساتھ ہی یہاں یہ بات ذہن میں رکھنا لازمی ہے کہ اگر انسان وبائی بیماری سے تحفظ چاہتا ہے تو سب سے پہلے وہ اپنے اعمال درست کرے۔موجودہ غمگین حالات اور نازک وقت میںاپنی بساط کے مطابق حفاظتی اقدام کرلے،اپنے مالکِ حقیقی کا شکر گذار بن کر اُس کے احکامات کا پابند رہے ،خصوصاًخلقِ خدا کے ساتھ اچھا برتائو کرے اور حتی الامکان احتیاطی تدابیر کے ساتھ ایک دوسرے کا خیال رکھیں،غریبوں اور محتاجوں کی مدد اوریتیموں کی دل جوئی کریں۔قہرِ الٰہی سے نجات پانے کا سوائے اس کے اور کوئی ذریعہ ہی نہیں ہے۔