یوں تو میڈیا کو عوامی آواز یعنی اُن مظلوم لوگوں کی آواز سے تعبیر کیا جاتا ہے جن کا کوئی پرسان حال نہیں ہوتا، جو سیاست ا ور بیروکریسی کی لاپرواہیوں اور بے ضابطگیوں کی بھینٹ چڑھے ہوتے ہیں،ایسے میں میڈیا یعنی ذرائع ابلاغ ہی ایک ایساواحد ذریعہ بچتا تھا ہے جو مظلوموں ،لا چاروں ، بے کسوں اور مجبور لوگوں کی آواز بن کر ارباب ِ حل و عقد کی بنیادیں ہلا دیتا تھا اور اُنہیں مجبور کرتا دیتا تھا کہ آئین نے انہیں جو ذمہ داریاںسونپی ہیں، وہ کس طرح سے نبھانی ہیں، لیکن موجودہ دور میں میڈیا کی جو تصویر ہمارے سامنے ہے وہ بالکل اِس کے برعکس ہے۔ آج کا میڈیا عوامی مسائل کو اجاگر کرانے میں اپنا کردار صفر فیصد نبھا رہا ہے بجائے اِس کے وہ عوامی مسائل میں مشکلات کا باعث بنتا جا رہا ہے۔ میڈیا کا کردار یہ ہونا چاہیے تھا اور اُس کی ذمہ داری بھی یہی تھی کہ وہ حقائق کو سامنے لاکرجھوٹ کا پردہ فاش کر کے سرکار،انتظامیہ اور عوام کے بیچ دوریوں کو کم کرنے کی کوشش کرتالیکن یہاں ہمارے ملک میں اُلٹی گنگا بہہ رہی ہے اور اِس الٹی بہتی ہوئی گنگا میں میڈیا کشتی پر سوار کسی مداری کا کھیل کھیلتا جا رہا ہے۔میڈیا نفرت کی دکان چلا رہا ہے۔ اپنی تمام تر صحافتی ذمہ داریوں کو بالائے طاق رکھ کر مسلم دشمنی کا جو ننگا ناچ میڈیا ادارے کھیل رہے ہیں، وہ ملک کے ہندو مسلم بھائی چارے کو بھسم کرکے رکھ دینگے۔ہر بیماری کی وجہ مسلمان، ہر حادثے کا باعث مسلمان، ملک میں کسی بھی جگہ سیلاب آئے تو ذمہ دار مسلمان،خشک سالی ہو جائے تو ذمہ دار مسلمان،آسمان سے اولے برسیں یا سرحد وںپر گولے برسیں، قصوروار مسلمان ہی ہے،زلزلہ دلی میں ہو یا راج آباد میں، سازش مسلمانوں کی ہی تھی، ملک کے شر پسند طبقے کے ہر درد کی دوا صرف اور صرف مسلمان ہی ہیں۔ وہ جب چاہیں کوئی بھی ڈرامہ رچا کر مسلمانوں کو آسانی سے بدنام کر سکتے ہیں۔ملک میں فسطائیوں کا دور دورہ ہے۔ اُن کا مشن ہے کہ کس طرح سے ملک کے ایک بڑے طبقے کو بدنام کیا جائے۔ اخلاقی طور گرے اِن فسطائی ذہنیت کے لوگوں کو ایسے شرمناک کارنامے انجام دینے میں کوئی شرم محسوس نہیں ہوتی بلکہ بڑے فخر سے ملک میں ہندو مسلم جنگ کا اعلان کیا جاتا ہے۔
الیکٹرنک میڈیا میں تو اِس جنگ کو چھیڑنے کی بے پناہ کوششیں جاری ہیں ، دوچار اینکر سٹیڈیو میں بیٹھ کر جس طرح سے گولی کی زبان بولتے ہیں، اُس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ فسطائیت کی غذا کھانے والے وہ نام نہاد اینکر صاحبان کس قدر نفرت کی دکان کھول کرمسلم دشمنی کو پروان چڑھا رہے ہیں ۔اکثردیکھا گیا کہ نفرت کی اِن دکانوں پر گاہکوں کی قطاریںلگی ہوتی ہیںجن کا مشن یہی ہے کہ کسی طرح سے اقلیتوں کو دبایاجائے۔اِسی طرح کی ذہنیت اب پرنٹ میڈیا میں بھی پروان چڑھتی جا رہی ہے۔اب اخبارات پڑھنے کیلئے قاری نہیں بلکہ گاہگ کی ضرورت ہے اور گاہک اپنی مرضی کا سودا خریدتا ہے پھر دکاندار کا کیا کہنا۔ وہ تو یوں بھی ایسے گاہکوں کی تلاش میں ہوتا ہے جو اُس کا وہ سودا خریدے جس میں سوائے نفرت اور زہر افشانی کے کچھ بھی نہیں ہوتا ہے۔
تبلیغی جماعت کے خلاف ہورہامیڈیا ٹرائل اعلان ِجنگ نہیں تو اور کیا ہے ؟نظام الدین مرکز کو گودی میڈیا نے فرقہ وارانہ رخ دیا، تبلیغی جماعت سے متعلق پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کی رپورٹ نے’’پوری مسلم قوم ‘‘کو نشانہ بنایا اور مسلمانوں کی توہین اوردل آزاری کی ۔میڈیا کے ذریعے جو رویہ اختیار کیا گیا ،اس سے مسلمانوں کی آزادی اور ان کی زندگی کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے جو دستو ر میں دیئے گئے رائٹ ٹو لائف کے بنیادی حقوق کے خلاف ہے۔بیشتر نیوز چینلوں اور اخبارات میں ’’کورونا جہاد‘‘، ’’کورونا دہشت گردی‘‘یا ’’اسلامی بنیاد پرستی‘‘جیسے جملوں کا استعمال بغیر کسی ڈر و خوف کے کیا جارہاہے۔میڈیا کے نام پر نفرت ، تعصب ، بغض اور کینہ کی دکان چلانے والوں نے کوویڈ 19 کو پھیلانے کیلئے مسلمانوں کو ذمہ دار ٹھہرایا ۔ جھوٹی اور جعلی ویڈیوز نشر کی گئی۔نظام الدین واقعے کی کوریج کرتے ہوئے ایک خاص طبقے کو نشانہ بنایا گیا ہے۔مسلمانوں کے خلاف نفرت کی یہ کوئی پہلی مثال نہیں ہے ۔
ادھرگزشتہ کچھ روز سے جموں کا ایک مقامی انگریزی اخبار لگاتار نفرت انگیز کارٹون شائع کررہا ہے جن میں مسلمان کو کورنا وائرس کا ذمہ داربتایاجارہا ہے۔ ایک طرف سے سرکار بار بار یہ کہتی ہے کہ نفرت پھیلانے والوں کے خلاف سختی سے کارروائی عمل میں لائی جائے گی اوراخبارات سرکار کے اِن حکم ناموں کو صفحہ اول پر جگہ دیتے ہیں لیکن وہیں اِن اخباروں میں مسلمانوں کے خلاف نفرت کا بیج بویا جا رہا ہے۔ افسوس سے کہنا پڑا رہا ہے کہ سرکار بھی ایسے اخبارات کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی بلکہ ایسا کرنے سے اُن کے اشتہارات میں مزید اضافہ کیا جارہا ہے۔ اخبارات کی نفرت انگیزیاں اور سرکار کی مجرمانہ خاموشی سے یہ صاف عیاں ہو تا ہے کہ مسلمانوں کے خلاف نفرتوں کی فضا قائم کرنا اب شایدمبینہ طور سرکاری مشن بن گیا ہے۔اگر ایسا نہیں ہے تو پھر سرکار کے اُن حکم ناموں کا کیا ہوا جن میں وہ یہ کہتے تھکتے نہیں کہ نفرت آمیز مواد شائع کرنے والے کسی بھی اخبار یا فرد کو بخشا نہیں جائے گا۔مسلسل منفی رپورٹنگ کے بعد اگر کسی کویہ خیال ہے کہ امن کا ماحول قائم ہوگا تو پھر یہ احمقانہ پن ہے ،دایونگی ہے،سودائی پن ہے جی ہاں!پاگل پن ہے ۔ سرکار کو چاہیے کہ وہ تعصب کی عینک اُتار کر ایسے اخبارات پر پابندی لگا دے جو نفرتوں کی دکان کھولے ہوئے ہیں وگرنہ ایسے معاشرے میں ، ایسی تہذیب میں،ایسے ماحول میں،ایسی فضا میں اور ایسے زمانے میں یہ کہنا کہ ابھی بھی ہندو مسلم بھائی چارہ باقی ہے،وہ صحر، وہ قہر اور وہ شر و شرارت ہے جس کو دیکھ کر اور سمجھ کر ہم کبھی سرسر کو صبا اور ظلمت کا ضیا نہیں کہہ سکتے۔
ایسے اخباری مالکان کی حقیقت یہی ہے کہ وہ آئین کو اپنے باپ کی جاگیر سمجھتے ہیں، گودی میڈیا کے سامنے قانون کی کتاب کی حیثیت پہلی جماعت کے قاعدے جیسے بھی نہیں ہے۔ وہ جس کی چاہیں پگڑی اُچھالیں، جسکی چاہیں عزت پامال کریں ،وہ چاہیں تو عبدالعزیز کو برقعہ پہنا دیں، وہ چاہیں تو عبدالرشید کو جھٹلا دیں ،اس لئے کہ اِن کی دانست میں، اِن کی رائے میں، اِن کے حصار میں،ان کے دائرے میں اور اِن کے لوگوں پربس یہی بھوت سوار ہے کہ کسی طرح مسلم طبقے کو عتاب کا شکار بنایا جائے۔ اخبارات جو زہر معاشرے میں پھیلا رہے ہیںوہ صحافت کے نام پر ایک ایسا سیاہ دھبہ ہے جسے کسی بھی طرح دھویا نہیں جا سکتا۔
اخبارات کے علاوہ افسوسناک طور پر کچھ اساتذہ بھی یہ نفرت کی دکان کھول بیٹھے ہیں۔ایسے اُساتذہ کا کسی تعلیمی ادارے میں بطور ِ مدرس تعینات ہونا نسل ِ نوکیلئے خطرے کی گھنٹی ہے۔جس انسان کی ذہنیت اس قدر فسطائی اور زہرآلودہو، اُسے استاد بنے رہنے کا کوئی حق نہیں ہے۔
نفرت کی یہ دکانیں سجاکر بیٹھنے والے لوگ بھلے ہی یہ سوچیں کہ وہ ملک کا بھلا کررہے ہیں لیکن اصل میں وہ ملک کا شیرازہ بکھر نے کاذریعہ بن رہے ہیں اور اگر خدا نخواستہ کل کو اس قبیل کے لوگوںکی وجہ سے ملک کی وحدت خطرے میں پڑ گئی تو تاریخ انہیں معاف نہیں کرے گا کیونکہ مورخ کسی کو معاف نہیں کرتا اور وہ لکھیں گے کہ ذہنوں میں خباثت رکھنے والے لوگوں کی وجہ سے اس ملک میں بھائی چارے کی قباء چاک ہوئی اور ملک کے لوگ مذہب،رنگ و نسل اور ذات پات کے نام پر ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہوگئے ۔
رابطہ :7780918848, 9797110175