جموں //ملک بھر میں نافذ کئے گئے لاک ڈائون کے نتیجہ میںجموں وکشمیر سے تعلق رکھنے والے 2400سے زائد مزدور مختلف ریاستوں اور نیپال میں درماندہ ہوکررہ گئے ہیں ۔مشکل حالات سے دوچار ان بے یارو مددگار مزدوروں نے جموں وکشمیر حکومت سے فوری مدد کی اپیل کی ہے ۔انہوں نے سوشل میڈیا کا سہارا لیتے ہوئے ٹرانسپورٹ کا بندوبست کرکے اپنے اپنے علاقوں میں پہنچانے کا مطالبہ کیاہے ۔ہماچل پردیش میں درماندہ ایک معمرمزدور نے بتایاکہ وہ گزشتہ دسمبر میں یہاں آئے تھے اور اب صورتحال ایسی بن گئی ہے کہ وہ یہاں سے بغیر تاخیر کے واپس جاناچاہتے ہیں جس کیلئے اگر انہیں قرنطینہ بھی کیاجائے تو وہ تیار ہیں ۔انہوں نے بتایاکہ وہ یہاں ٹینٹوں میں رہ رہے ہیں اور حکومت سے اپیل کی کہ فوری طور پر مدد کی جائے ۔رام بن سے تعلق رکھنے والے اس مزدور کاکہناہے کہ وہ پچھلے بیس روز سے اپنے ساتھ موجود سبھی پیسے خرچ کربیٹھے ہیں اور اب کوئی سہار انہیں ۔انہوں نے الزام عائد کرتے ہوئے بتایاکہ نہ ہی ان کا طبی معائنہ کرنے کوئی ڈاکٹر آیا اور نہ ہی انہیں کی بات سنی جارہی ہے ،یہاں تک کہ ہماچل پردیش حکومت کی طرف سے بھی ان کے پاس کوئی نہیں آیا ۔انہوں نے بتایاکہ رام بن کے ان کے ساتھ 25مزدور ہیں ۔بیرون جموں وکشمیر درماندہ ان مزدوروں نے مانگ کی ہے کہ فوری طور پر ٹرانسپورٹ کا بندوبست کرکے انہیں اپنے اپنے علاقوں تک پہنچایاجائے کیونکہ یہاں ان کی کوئی مدد نہیںہورہی ۔ اس دوران ہماچل میں کچھ مزدوروں پر حملہ بھی ہواہے ۔بانہال کے ایک سرپنچ عبدالطیف اور چوکیدار عبدالرشید نے بھی ان مزدوروں کو فوری طور پر واپس لانے کی مانگ کی ہے ۔انہوں نے کہاکہ پنچایت سطح پر ایسے لوگوں کی فہرست تیار کرنے کا سلسلہ شروع کیاگیاہے جو بیرون جموں وکشمیر کام کررہے ہیں ۔انہوں نے بتایاکہ ضلع کے 900سے زائد مزدور اس وقت مختلف ریاستوں میں پھنسے ہوئے ہیں ۔ اسی طرح سے دیگر اضلاع کے مزدور بھی ہماچل ، راجھستان، ہریانہ، پنجاب، آندھرا پردیش ، ممبئی اور نیپال میں درماندہ ہیں ۔