صرف چند ماہ پہلے کی بات ہے ۔زمانہ اپنی رفتار سے آگے بڑھ رہا تھا۔کہیں جنگیں تھیں ، کہیں سازشیں تھیں ، کہیں عبادتیں ،کہیں گناہ ، کہیں ثواب ، کہیں قتل و غارت ،کہیں فساد ، کہیں ظلم ، کہیں انصاف غرض وہ سب کچھ ہورہا تھا جو ازل سے ہوتا رہا ہے،جو انسان کی تاریخ ہے اور جو انسان کی فطرت ہے ۔ حالانکہ انسان نے پتھروں کے زمانے سے انٹرنیٹ کے زمانے تک کا سفر طے کردیا ہے ۔انسانی تہذیب ، تمدن ، ثقافت ، علم، تکنیک ، سائنس اور ترقی عروج کی انتہائی منزلیں عبور کررہی ہیں ۔انسان چاند اور ستاروں پر کمندیںڈال چکا ہے ۔سیاروں پر بستیاں آباد کرنے کے منصوبے بنا چکا ہے ۔قدرت کے بے پناہ راز اس پر افشا ء ہوچکے ہیں ۔وہ مرتے ہوئے انسان کا دل اورجگر تبدیل کرکے اسے نئی زندگی عطا کرنے کی قدرت رکھتا ہے ۔وہ آسمانوں میں اڑتا ہے اور سمندروں کی گہرائیوں میں اتر سکتا ہے ۔وہ روبوٹ کی شکل میں مصنوعی انسان بھی بنا چکا ہے ۔اس نے انسانی جینز کا علم بھی دریافت کرلیا ہے اور اب جبکہ وہ بارش بھی برسا سکتا ہے اور مصنوعی دھوپ بھی پیدا کرسکتا ہے، اسے یہ یقین ہوچلا ہے کہ وہ فطرت کے قانون بدل سکتا ہے ۔ موت کا سبب دریافت کرکے دائمی زندگی کا راز بھی پاسکتا ہے۔
رفتہ رفتہ اس کا یہ یقین پختہ ہورہا تھا کہ چین کے ووہان شہر میں ایک وائرس نمودار ہوا۔ ایک چھوٹا سا ، بے جان سا وائرس جو نامعلوم طریقے سے ایک انسان سے دوسرے انسان میں منتقل ہونے لگا ۔دیکھتے ہی دیکھتے انسان مرنے لگے ۔میڈیکل سائنس اپنی تمام تر کرامتوں کے باوجود اس وائرس کے سامنے لاچار ہوگئی ۔چین نے ووہان کا لاک ڈاون کیا لیکن وائرس اس کی سرحدوں سے نکل کر دنیا بھر میں پھیل گیا ۔عرب ، عجم ، افریقہ ، یورپ ، ایشیاء غرض ہر براعظم اور ہر خطہ اس کی لپیٹ میں آگیا ۔ہر چھوٹا بڑا ملک اپنی آبادیوں کو گھروں میں مقید کرنے پر مجبور ہوگیا ۔ عظیم طاقتیںاپنے تمام تر وسائل ،بے پناہ سرمایہ ،سائنسی علم کے تمام خزانوں کے ساتھ ہاتھ ملتے رہ گئیں ۔انسانی عقل حیرتوں میں ڈوب گئی ۔علم و دانش کے مینار سرنگوں ہوگئے ۔جو امریکہ اپنے ایک فوجی کے مرنے پر ملکوں کو تاراج کرتا تھا اس کے ہاں لاشوں کے انبار لگ گئے ۔ تابوت بھی کم پڑگئے اور زمین بھی ۔کلیسا ویران ہوگئے ۔ مسجدیں مرثیہ خواں ہوگئیں ۔مندروں کے دروازے بند ہوگئے ۔ خانہ کعبہ خالی ہوگیا ۔مسجد نبوی ؐ خالی ہوگئی ۔باجماعت نمازیں بند ہوگئیں ۔ عمرہ پر پابندی لگی اور اب حج بھی اس سال ہونا مشکل ہی نظر آرہا ہے ۔
آخر یہ قہر کیوں برپا ہوا ؟۔یہ بات اب تسلیم کرلی گئی ہے کہ یہ وائرس کسی لیبارٹری سے کسی غلطی کی وجہ سے نکلا ہوانہیں ہے بلکہ یہ قدرت کا ہی پیدا کیا ہوا ہے ۔تو کیا کائنات کے خالق نے اپنی کائنات کے راز انسان پر افشاء کرنے کے بعد ایک چھوٹے سے وائرس سے اسے اس کی اوقات یاد دلادی اوراسے یہ بتادیا کہ وہ سب کچھ جاننے کے باوجود بھی کچھ نہیں جانتا ۔سب کچھ پانے کے زعم میں مبتلا ہوکر بھی کچھ نہیں پاسکا ہے۔اگر یہ خیال درست ہے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ خالق کائنات کو کیوں انسان کو اس کی اوقات یاد دلانے کی ضرورت اس طرح پڑی کہ اس نے اپنے گھر پر جانے پر بھی اس کے لئے پابندی عاید کردی ۔تو کیا بات اوقات یاد دلانے سے زیادہ بڑی ہے۔ کیا خالق کائنات انسان سے بہت خفاء ہے یا یوں کہئے کہ مشتعل ہے بلکہ اس قدر مشتعل ہے کہ اسے اس زمانے کے انسانوں کی عبادت بھی قبول نہیں ۔ اسے یہ بھی منظور نہیں کہ مسلمان اس کے کعبے کا طواف کرے ۔ عیسائی گرجا گھر جاکر اس کی بڑائی بیان کرے ۔ یہودی اپنی طرح سے اور دوسری قومیں اپنے رسوم کے مطابق اس کی مدح سرائی کریں۔ کیا اب وہ کسی کو بھی اپنی عبادت کے قابل نہیں سمجھتا ۔ایسا نہیں ہوتا تو وہ کرونا کی جگہ کوئی ایسا وائرس بھی پیدا کرسکتا تھا جو انسان کو لاچار اور مجبور تو کرتا لیکن اسے عبادت گاہیں بند کرنے پر مجبور نہیں کرتا ۔وہ صرف اس دور کے انسان کی بے راہ روی ، بے حیائی ، عیاشی اور فحاشی پر ہی ناراض ہوتا تو ایسا کرنے کی قدرت بھی اسے حاصل تھی کہ عیاشی کے سارے اڈوں کو بند کردیتا ۔ نائٹ کلبوں، ڈانس کلبوں اور عیاشی کے اڈوں کو بند کرکے انسان کو بتادیتا کہ وہ کس بات پر ناراض ہے ۔اس کے لئے اس نے پہلے ہی ایڈس کا مرض پیدا کیا تھا۔ اب اسی طرح کا اس سے بھی بڑا مرض پیدا کرتا ۔ایسا وائرس کیوں پیدا کرتا جس نے اس کے عبادت خانوں کو ہی بند کردیا ۔ظاہر ہے کہ اسے اب کی بار سب سے زیادہ غصہ ان لوگوں پر ہے جو اس کے عبادت خانوں میں جاکر اس کے لئے نہیں بلکہ صرف اپنے لئے جنت حاصل کرنے کی کوشش میں اس کے آگے سر جھکاتے ہیں ۔یوں اس ہستی کو دھوکا دینے کی کوشش کرتے ہیں جسے دلوں کا حال بھی معلوم ہے اور پوشیدہ ارادے بھی ۔اس کا غصہ منشیات کا بیوپار کرنے والے اس تاجر پر ہے جسے مولوی صاحب نے صرف اتنا بتایا ہے کہ نماز پڑھنے ، حج کرنے ، زکواۃ دینے اور روزے رکھنے سے سارے گناہ دھل جاتے ہیں اور جنت حاصل ہوتی ہے ۔اس لئے وہ نماز بھی پڑھتا ہے اور ہر سال عمرے یا حج کے سفر پر بھی روانہ ہوتا ہے ۔وہ ہر نماز میں احد نا صراط المستقیم تو پڑھتا ہے لیکن اس کا مطلب نہیں سمجھتا ۔وہ اپنے دل میں دوسروں کیلئے نفرت تو پالتا ہے لیکن محبت اپنے گھر والوں سے بھی نہیں کرتا ۔کلیسا بھی اب حضرت مسیح ؑکی تعلیمات کا نچوڑ پیش کرتے ہوئے عیسائیوں کو سمجھارہا ہے کہ جب تک دوسری قومیں اور مذاہب کے ماننے والے دنیا میں موجود ہیں ،دنیا امن کی آماجگاہ نہیں بن سکتا اور وہ جنت میں نہیں جاسکتے ،اس لئے ان قوموں کا خاتمہ ضروری ہے ۔ پجاری بھی دوسری قوموں اور مذہبوں سے نفرت کا سبق پڑھاتا ہے اور یہودی بھی ۔
ہر مذہب سے اخلاق اور انسانیت کی تعلیم نکال دی گئی ہے اور وہ اللہ جس نے یہ کائنات تخلیق کی ہے اور اس کا ایک ایک ذرہ اسی کا پیدا کیا ہوا ہے، اس بات سے ناراض بلکہ مشتعل نہیں ہوگا تو اور کیا ہوگا کہ اس کے نام لیوا ہی اس کی دنیا کو اس کے پیدا کئے ہوئے انسانوں کے خون سے لالہ زار کررہے ہیں اور اس کے لئے عبادت گاہوں کا استعمال کرنے سے بھی نہیں چوکتے ۔عیسائی مسلمانوں کی عبادت گاہوں کو خون میں ڈبوتا ہے اور مسلمان عیسائیوں کی ۔ ہندو مسلمان کو دہشت گرد قرار دیکر اس کا خاتمہ چاہتا ہے اور مسلمان ہندو کو ۔ہر قوم کے سر پر خون سوار ہے تو وہ اللہ جس کے سامنے کسی انسان کا دل توڑنا اس کی کائنات کو توڑنے کے برابر ہے ،کیسے مشتعل نہیں ہوگا ۔اس لئے اس نے سب سے پہلے اپنے گھر کا طواف بند کردیا ۔پھر سارے کے سارے عبادت خانے بند کرادئیے ۔تو کیا اللہ یہ چاہتا ہے کہ اس دنیا میں وہی لوگ باقی رہیں جن کے دلوں میں کوئی نفرت ،کوئی عداوت ،کوئی حسد نہ ہو ، کوئی خود غرضی اور کوئی فریب نہ ہو ۔جو اس کی دنیا کو امن ، سکون ، خوشی اور خوشحالی کی آماجگاہ بنانے کے لئے اپنا کردار ادا کرنا فرض سمجھیں ،تب ہی وہ عالم انسانی کو کرونا کے قہر سے نجات دے گا یا وہ صرف انسان کو جھنجھوڑ کر اسے ایک اور موقع دے گا صحیح راستہ اختیار کرنے کا ۔ یہ اللہ کی مرضی پر منحصر ہے اور وقت بتائے گا کہ انسان کی بے بسی اور لاچاری کا عالم کب ختم ہوگا ۔