بیماری اور علاج کے بارے میں رسول اللہ ﷺ کے ارشادات میں اطباء کیلئے وافر ذخیرہ موجود ہے۔ چنانچہ ’’الطب النبوی ‘‘ کے عنوانات سے علماء اسلام نے متعدد کتابیں تصنیف کی ہیں۔ امام ابن قیم نے سیرت کی مشہور کتاب ’’زادالمعاد‘‘ میں طب نبوی پر شاندار مواد جمع کیا ہے جس میں کم و بیش ایسی دوائوں کا تذکرہ ہے۔ عہد رسالت میں حارث بن کلدہ عربوں کے مشہور طیب تھے۔ انہوں نے’ خبدی شاپور ‘کے مدرسے میں طب کا علم حاصل کیا تھا۔ حضرت سعد بن وقاصؓ بیمار ہوئے تو آپ ﷺ نے حارث بن کلدہ کو طلب فرمایا۔ آپ ﷺ کا ارشاد ہے کہ اللہ نے کوئی ایسی بیماری نازل نہیں کی جس کی شفانہ ہو۔
رسول اللہ ﷺ صحابہ سے فرمایا کرتے تھے کہ حارث سے علاج کرائو ۔ آپ ﷺ نے حضرت سعد بن معاذ کی فصدکھلوائی۔ حضرت سعد بن زرارہ کو داغ لگوایا۔ حضرت علی ؓ آشوب چشم میں مبتلا تھے ان سے فرمایا کہ کھجوریں نہ کھائو۔
آپ ﷺ ہر شب سرمہ لگایا کرتے تھے۔ ہر ماہ پچھنے لگواتے تھے اور ہر سال سنا کاجلاب لیا کرتے تھے۔ زخم پر مٹی لگاتے تھے۔ پھنسی یا پھوڑے پر مہندی لگاتے تھے۔ سردرد میں آپ ﷺ نے مہندی کالیپ کرایا ہے۔
رسول اللہ ﷺ کی حیات طیبہ میں حفظان صحت کے بہترین اصول و آداب موجود ہیں۔ آپ نے گھروں اور صحنوں کو صاف ستھرا رکھنے کا حکم دیا۔ راستوں سے تکلیف دہ اور گندی چیزوں کے ہٹانے کی تاکید کی ۔ آپ ہمیشہ مسواک کیا کرتے تھے۔ امّت کو بھی مسواک کا حکم دیا ہے۔ ایک حدیث میں ہاتھوں کی صفائی کا حکم آیا ہے۔ حضرت ابو ہریرہ ؓ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو جب بھی چھیک آتی تو آپ اپنے ہاتھ یا کپڑے سے منہ ڈھانک لیتے اور آواز دھیمی کرلیتے۔
آج پوری دنیا کے ذرایع ابلاغ بتارہے ہیں کہ ہاتھوں کو صابن سے دھویا کریں اور چھینکتے وقت کہنی یا کپڑے سے منہ کو ڈھکیں۔ ایک حالیہ تجزئے میں آیا ہے کہ چھینکتے وقت جو چھوٹے قطرات منہ سے نکلتے ہیں وہ آٹھ میٹر کی دوری تک دوسرے شخص کو متاثر کرسکتے ہیں۔ سنت رسول ﷺ میں دنیا کیلئے کتنی بہترین رہنمائی ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے نماز جیسی اہم عبادت میں بھی احوال و ظروف کا خیال فرمایا ہے۔ آپ ﷺ کافرمان ہے کہ جب تم میں سے کوئی شخص لوگوں کو نماز پڑھائے تو اس کو ہلکی نماز پڑھانی چاہئے کیوںکہ ان میں کمزور ، ناتواں ، بیمار اور کام والے ہوتے ہیں۔ آپﷺ کا ارشاد ہے کہ میں نماز شروع کرتا ہوں اور میرا ارادہ ہوتا ہے کہ اسے طویل کردوں ۔ پھر بچے کے رونے کی آواز سنتا ہوں تو اپنی نماز میں تخفیف کردیتا ہوں کیونکہ مجھے وہ صدمہ معلوم ہے جو بچہ کی ماں کو اس کے رونے سے ہوگا۔ آپ ﷺ جب آسمان کے افق پر ابر دیکھتے تو کام چھوڑ دیتے اور اگر نماز میں ہوتے تو نماز کو ہلکی پڑھ لیتے پھر دعا کرتے ’’اے اللہ میں اس کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں‘‘۔ سفر میں تاریک یا بارش والی رات موذن کو یہ منادی کرنے کا حکم دیتے کہ تم لوگ اپنی فرود گاہ ہی میں نماز پڑھ لو۔ آپ ﷺ نے مرض یا خوف کو نماز جمعہ کیلئے نہ آنے کا عذر قرار دیا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے ایک دن جب بارش ہورہی تھی، موذن کو حکم دیا کہ اذان میں’ اشھد اَن محمد الرّسول اللہ‘ کہنے کے بعدیہ کہو’ صلوافی بیوتکم‘ (اپنے گھروں میں نماز پڑھ لو)۔ لوگوں کو اس سے تعجب ہوا تو حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا۔ ایسا ہی اس ذات مقدس نے فرمایا ہے جو مجھ سے بہتر تھی۔(یعنی نبی ﷺ) جمعہ فرض ہے اور مجھے یہ بات پسند نہ آئی کہ تمہیں گھروں سے بلالوںاور تم کیچڑ اور پھسلنے کی جگہوں سے گزر کر مسجد پہنچو۔
وبائوں کے بارے میں مورخین نے جو تفصیلات اپنی تاریخوں میں دی ہیں۔ ان سے بھی بہت کچھ اخذ کیا جاسکتا ہے بعض علماء نے طاعون کے موضوع پر مستقل کتابیں اور رسالے تحریر کئے ہیں۔ ایک تصنیف شارح بخاری حافظ ابن حجر عسقلانیؒنے تحریر کی ہے جس میں انہوں نے اس ’طاعون ‘کے بارے میں جو مصر میں749 ھ میں پھوٹا تھا اور پھر832ھ میں بھی نمودار ہوا تھا، لکھا ہے کہ قاہرہ میں جب وبا پھوٹی تو چالیس سے کم افراد فوت ہوئے۔ پھر لوگوں نے اجتماعی دعا اور تین دن روزہ رکھنے کا اِرادہ کیا چنانچہ وہ صحرا کی طرف نکلے اور اجتماعی دعا کی۔ اجتماعی دعا کرنے کے بعد جب لوگو شہر کی طرف واپس آئے تو ہلاکتوں میں اضافہ ہوگیا اور روزانہ ہلاکتوں کی تعداد ایک ہزار سے بڑھ گئی۔ اضافہ کی وجہ یہ تھی کہ اجتماعی دعا میں جب لوگ جمع ہوئے تو تندرست اور بیمار لوگوں کا اختلاط ہوا جس سے بیماری دوسرے لوگوں کو بھی لگ گئی تھی۔ مصر کی وبا کا تذکرہ ابن کثیرؒ نے بھی کیا ہے۔
اوپر جس طاعون کا ذکر کیا گیا،یہ وہی طاعون ہے جو یورپ میں1348ء میں پھوٹا تھا اور جس نے نہ صرف پورے یورپ کو بلکہ مشرق وسطیٰ کو بھی اپنی لپیٹ میں لیا تھا۔ مورخین کے بیان کے مطابق یورپ کی نصف آبادی اسی طاعون میں ہلاک ہوئی تھی۔1350ء تک وبا کا زور رہا ۔ یورپ میں اسے Black Death کا نام دیا گیا ۔ مشرق وسطیٰ میں اس کے پھوٹنے کا تذکرہ حافظ ابن حجر عسقلانی اور دوسرے مورخین نے کیا ہے۔ دمشق میں اس کی ہولناکیوں کے بارے میں حافظ ابن کثیر نے تفصیل دی ہے۔ یورپ کی ’’کالی وبا‘‘ نے مشرق وسطیٰ میں جو تباہی مچائی تھی اس کا ذکر ابن بطوطہ نے بھی اپنے سفر نامہ میں کیا ہے۔ ان کا بیان ہے کہ اس وبا سے دمشق میں روزانہ دو ہزار لوگ موت کے منہ میں چلے جاتے تھے اور قاہرہ اور مصر میں روزانہ چوبیس چوبیس ہزار لوگ دنیا سے رخصت ہوتے تھے۔
کالی وبا کے زمانے1348۔1350 ء میں طاعون کے موضوع پر یورپ میں جو کچھ لکھا گیا ہے اس میں دو بہترین شاہکار مسلمان حکمانے تحریر کئے ہیں۔ اہل یونان نے طاعون کو بالکل نظر انداز کردیا تھا مگر حکمائے اسلام نے چیچک ، خسرہ اور طاعون کے بارے میں اپنی نادر اختراعات اور گراں قدر خیالات سے بنی نوع انسان کی رہنمائی کا کارنامہ انجام دیا۔ شیخ الرئیس حکیم ابو علی سینا کو پہلی دفعہ سوجھا کہ بعض بیماریاں ایک بیمار سے دوسرے شخص کو لگتی ہیں۔ انہوں نے اس کیلئے ایک تجربہ کیا اور ایک شخص کو چالیس دنوں کیلئے دوسرے لوگوں سے علیحدہ (Isolation) رکھا۔ یہ تجربہ کامیاب رہا۔ بیماری قابو میں رہی۔ اسے انہوں نے ’’اربعینہ ‘‘ کا نام دیا۔ بعد میں یہ طریقہ مسلمانوں میں عام ہوگیا۔ اٹلی کے وینس سے کچھ تاجر جب مسلمان ملکوں میں آئے تو وہ اربعینہ سے واقف ہوگئے۔ انہوں نے متعدی بیماری کو قابو کرنے کیلئے یہی اربعینہ (چالیس) اپنے ملک میں آزمایا اور اسے ’’قرنطینہ‘‘ کا نام دیا جو اربعینہ کا ترجمہ ہے ۔ شیخ الرئیس کا یہی اربعینہ آج’ قرنطینہ ‘کے نام سے پوری دنیا میں معروف اور رائج ہے۔
اوپر جن دو مسلمان حکما ء کے شاہکاروں کا ذکر آیا تھا ۔ ان میں غرناطہ کے نامور حکیم اور مورخ لسان الدین ابن الخطیب (المتوفی776ھ ؍ 1374ء) ہیں جنہوں نے ان لوگوں کو جویہ ماننے کو تیار نہ تھے کہ بیماریاں اڑکر لگتی ہیں جواب دیتے ہوئے لکھا ہے کہ وبائی امراض کے تعدیہ کا وجود تجربے ، مطالعہ، حواسِ خمسہ کی شہادتوںاور معتبر اطلاعات سے ثابت ہے۔ وبا کی حقیقت اس وقت واضح ہوجاتی ہے جب کوئی محقق یہ دیکھتا ہے کہ مریض کو چھونے والا خود بھی اسی مرض میں مبتلا ہوجاتا ہے جبکہ دور رہنے والا شخص اس سے محفوظ رہتا ہے۔ نیز یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ یہ مرض بیماروں کے کپڑوں ، برتنوں اور زیوروں ؍ کان کے آویزوں کے استعمال اور ایک گھر کے آدمیوں سے دوسرے لوگوں کو لگ گیا۔ مزید برآں طاعون زدہ علاقے سے آئے لوگ جب غیر متاثرہ بندرگاہ پر پہنچے تو وہاں بھی یہ بیماری پھیل گئی۔
وبا کے بارے میں دوسری اہم تحریر اسپین کے ابن خائمہ (المتوفی771ھ ؍1369ء) کی ہے۔ انہوں نے طاعون کے موضوع پر ایک رسالہ لکھا ہے جسے میکس میر ہافؔ نے ان تمام رسالوں سے حددرجہ فائق قرار دیا ہے جو چودھویں اور سولھویں صدی کے درمیان یورپ میں تحریر کئے گئے۔ ابن خائمہؔ نے رسالے میں لکھا ہے کہ میرے طویل تجربے کا نتیجہ ہے کہ اگر کوئی کسی طاعون زدہ مریض کے ساتھ ربط رکھتا ہے تو اسے فورََا طاعون لاحق ہوجاتا ہے اور اس میں بھی وہی علامات ظاہر ہوتی ہیں جو پہلے مریض میں ہیں۔ اگر پہلے مریض کے تھوک میں خون آتا ہے تو دوسرے کو بھی تھوک میں خون آئے گا۔ اگر پہلے مریض کو پھوڑے نکل آئے ہوں تو دوسرے مریض کو بھی انہیں جگہوں پر پھوڑے نکل آئیں گے۔ اگر پہلے مریض کو ناسور نکل آیا ہے تو دوسرے مریض کو بھی ناسور ہوگا اور اسی طرح دوسرا مریض بھی اس بیماری کو دوسروں تک منتقل کرے گا۔
مضمون کے خاتمے پر ایک سو سترہ سالہ پرانا واقعہ سامنے آیا ہے۔ 1903 ء میں ڈوگرہ راج کے دوران ایک شخص راولپنڈی سے کوہالہ اور اوڑی میں تعینات اہلکاروں کو چکمہ دے کر وادی کشمیر میں داخل ہوا۔ یہ شخص بیماری سے متاثر تھا۔ اس کے ورود سے یہ بیماری وادی میں بھی پھیل گئی۔
خلاصہ تحریرہے کہ کورونا وائرس کی وبا کے بارے میں آج جو احتیاطی تدابیر اختیار کی جارہی ہیں، وہ اسلام ہی کی دین ہیں۔ طہارت و نظافت ، بدن کی صفائی ، چھینکتے وقت منہ کو کپڑے یا ہاتھ سے ڈھکنا, ہاتھوں کو بار بار دھونا، ملاقاتی سے کم از کم ایک میٹر دور رہنا، متاثرہ افراد سے ربط نہ رکھنا، دوسرے لوگوں سے سماجی دوری بنائے رکھنا ، قرنطینہ سازی ، میل جول کم کرکے گھروں میں رہنا,متاثر افراد کا دوسری جگہوں پر نہ جانا اور لوگوں سے نہ ملنا, گھروں میں توبہ و استغفار اور ذکر و ازکار اور عبادات میں مشغول رہنا اسلام ہی کی تعلیمات ہیں جن پر عمل کرکے پوری انسانیت اس بیماری سے نجات پاسکتی ہے۔
رابطہ : حدی پورہ،رفیع آباد
موبائل نمبر: 9797944035