رحم کرنا ایک ایسی اعلیٰ درجہ کی صفت ہے جس سے زندگی میں بہارآتی ہے،تعلقات خوش گوار ہوتے ہیں، رشتے مضبوط ہوتے ہیں،گھرجنت بن جاتا ہے او ر انسان لوگوں کی آنکھوں کا تارابن جاتا ہے۔رسول اللہﷺ کی بہت مشہور حدیث ہے جس کو امام بخاریؒ نے اپنی کتاب میں نقل کیاہے’’اللہ اُس پر رحم نہیں فرماتا جو لوگوں پر رحم نہیں کرتا۔‘‘ (بخاری ) دنیا دار لوگ اگر رحم دل ہوتے ہیں تو اس کا فائدہ اُن کو دنیا میں مل جاتا ہے لیکن آخرت کے فائدے سے وہ محروم رہتے ہیں۔ دوسری بات یہ ہوتی ہے کہ دنیا دار لوگ جب دیکھتے ہیں کہ یہاں رحم دل ہونے سے نقصان ہوگا تو وہ سنگ دل بھی بن جاتے ہیں۔لیکن دین پسند انسان جو شریعت کے احکام کی پابندی کرتے ہوئے زندگی گزارتا ہے اور اوپر لکھی ہوئی حدیث کو جانتا ہے وہ رحم دلی کو عبادت کے طور پر برتتا ہے اور ہر حال میں رحم دلی کرتا ہے۔وہ اپنی رحم دلی کو فائدے اور نقصان کی ترازو پر نہیں تولتا، بلکہ ہر حال میں رحم دل ہی رہتا ہے یہاں تک کہ دشمن کے برے وقت میں اُس کے لیے بھی رحم دل بن جاتا ہے۔
رحم کرنا کتنی بڑی نیکی ہے اس کا اندازہ اس حدیث سے لگائیے:’’رسول اللہ ﷺنے فرمایا :ایک آدمی راستہ میں جا رہا تھا۔ اُس کو بہت زیادہ پیاس لگی۔ اُس نے اِدھر اُدھر دیکھا۔ ایک کنواں نظرآیا، اُس نے اُس سے پانی نکالا اور پیا۔ پھر اُس نے ایک کتے کو دیکھا جو پیاس کی وجہ سے زبان نکالے ہوئے تھا۔ اُس نے سمجھ لیا کہ کتے کو بھی ویسی ہی پیاس لگی ہے جیسی اُس کو لگی ہوئی تھی۔ اُس نے پھر کنویں سے پانی نکالا اور کتے کو پلایا۔اُس کے اِس عمل کی بدولت اللہ تعالیٰ نے اُس کے سارے گناہ معاف کر دیے۔ لوگوں نے پوچھا کیا جانوروں پر رحم کرنے پر بھی ثوا ب ملتا ہے ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ہر جاندار پر رحم کرنے پر ثواب ملتا ہے۔ (بخاری، مسلم)جب کتے کو پانی پلانے پر سارے پچھلے گناہ معاف ہو گئے تو انسانوں کی مدد کرنے کا اللہ تعالیٰ کتنا بڑا اجر دے گا سوچئے۔
اس وقت پوری دنیا جس عذاب سے دوچار ہے ،وہ انسانوں کی نادانی، غفلت اور اللہ سے بغاوت کے نتیجے میں اُن پر آیا ہے اور جب تک اللہ تعالیٰ نہیں چاہے گا یہ عذاب ٹلنے والا نہیں ہے۔اس عذاب میں کتنے لوگوں کی جان جائے گی اور کتنے لوگوں کی دنیا اجڑ جائے گی یہ اللہ ہی جانتا ہے۔لگاتار یہ خبریں آ رہی ہیں کہ اللہ کے نیک بندے ضرورت مند، محتاج و مجبور اور پریشان حال لوگوں کی مدد کرر ہے ہیں۔اناج بھی تقسیم کر رہے ہیں، پکا ہوا کھانا بھی پہنچا رہے ہیں اور نقد رقم سے بھی لوگوں کی مدد کر رہے ہیں۔ایک غیر مسلم غلے کے دکاندار کا بیان ہے کہ اُس کی دکان سے مسلمانوں نے لاکھوں کا غلہ خریدا ہے اور یہ سارا غلہ گھر کے لیے نہیں بلکہ ضرورت مندوں کے لئے خریدا ہے۔اُس کا یہ بھی اعتراف ہے کہ ہماری قوم کے لوگوں نے اس دریا دلی کا ثبو ت نہیں دیا ہے۔اس وقت مسلمانوں کا یہ عمل سانپ کے کاٹے کا علاج بن گیا ہے۔ایک طرف جہاں فرقہ پرست لوگ مسلمانوں کے خلاف نفرت کی آگ بھڑکا رہے ہیں، مسلمانوں کا خدمت خلق کا یہ جذبہ اس جلتی ہوئی آگ کے شعلوں کو بجھانے کا کام کر رہا ہے۔اور تجربہ یہ بتاتا ہے کہ مسلمانوں کی اکثریت اس آفت کے ماحول میں آرام سے ہے۔جو محتاج و مجبور ہیں اُن کی دیکھ بھال بھی ہو جارہی ہے۔لیکن وہ غیر مسلم آبادی جہاں مسلمان نہیں ہیں اس نعمت سے محروم ہے۔اللہ کے عذاب کی یہ بھی ایک شکل ہے۔
اس موقع پر مجھ سے لوگوں نے پوچھا کہ کیا اس وقت زکوٰۃ کی رقم خرچ کی جاسکتی ہے ؟ میں نے جواب دیا کہ زکوٰۃ کی رقم اس وقت ہی صحیح حقدار تک پہنچائی جاسکتی ہے۔ اس سے پہلے زکوٰۃ کی رقم عام طور پر حقداروں تک نہیں پہنچائی جاتی رہی ہے۔ اور زکوٰۃ کی رقم اگر حقدار تک نہیں پہنچے گی تو وہ ادا بھی نہیں ہوگی۔
یہ بھی سوال کیا گیا کہ کیا رمضان سے پہلے زکوٰۃ کی رقم خرچ کی جاسکتی ہے ؟ میں نے بتایا کہ زکوٰۃ کی رقم رمضان میں نکالنے کا حکم نہیں ہے۔جب کسی کے پاس ضرورت سے زیادہ دولت جمع ہو گئی(نقد، سونے چاندی ، جواہرات یا زمین کی شکل میں) تو جیسے ہی اس خزانے پر ایک سال گزر گیا زکوٰۃ اس پر فرض ہو گئی۔ضروری نہیں ہے کہ ہر آدمی کی دولت کا سال رمضان میں ہی پورا ہو۔چونکہ رمضان میں ہر نیکی کا ثواب بہت زیادہ ملتا ہے اس لیے زکوٰۃ نکالنے والے وقت سے پہلے آنے والے رمضان میں زکوٰۃ نکال دیتے ہیں اور پھر ہر سال رمضان میں زکوٰۃ نکالتے رہتے ہیں۔ضرورت پڑنے پر رمضان سے پہلے بھی زکوٰۃ کی رقم خرچ کی جاسکتی ہے۔
سوال یہ بھی ہوا کہ کیا گیاکہ زکوٰۃ غیر مسلموں کو دی جاسکتی ہے ؟ میں نے بتایا کہ سورہ توبہ کی آیت نمبر ساٹھ(۶۰) میں آٹھ(۸) طرح کے لوگوں کو زکوٰۃ کا حقدار بتایا گیا ہے۔ اُس میں ایک مد تالیف قلب کی ہے جو غیر مسلموں کے لیے ہی ہے۔اس پر فقہی نقطہ نظر سے بہت سی باتیں کی جاسکتی ہیں، لیکن فی الحال اس مد میں آپ محتاج غیر مسلم کی بھی زکوٰۃ کی رقم سے مدد کرسکتے ہیں۔ جن کو اس کی تفصیل جاننی ہو وہ مجھ سے موبائل پر بات کر یں۔
سوال یہ بھی ہوا کہ کیا کہ ایسے لوگ جو صاحب حیثیت تھے، لیکن فی الحال چونکہ اُن کا کام بند ہے اور اُن کے پاس جو جمع پونجی تھی وہ بھی ختم ہو چکی ہے تو کیا ایسے لوگوں کو زکوٰۃ دی جاسکتی ہے ؟ میں نے جواب دیا کہ قرآن میں مسکین کو زکوٰۃ دینے کا حکم موجود ہے۔مسکین ایسے ہی آدمی کو کہتے ہیں جو زکوٰۃ کا حقدار تو نہیں تھا لیکن حالات کی تبدیلی اور پریشانی نے اُس کو ایسا معذور بنا دیا کہ وہ محتاج ہو گیا۔ ایسا آدمی بھی وقتی طور پرزکوٰۃ کا حقدار بن گیاہے۔
سوال یہ بھی کیا گیا کہ جو زکوٰۃ نکالی جاتی تھی وہ خرچ ہو چکی لیکن لوگ اب بھی مانگ رہے ہیں کیا کیا جائے ؟ لوگوں کی مدد صرف زکوٰۃ کی رقم سے ہی نہیں بلکہ اپنی بچت سے بھی کرنی ہے۔کہا گیا کہ ہماری آمدنی کم ہے ۔ ہماری بیگم کے پاس جو زیور ہے اُس کی وجہ سے زکوٰۃ نکالنی پڑتی ہے،اور یہ بھی ہم مشکل سے نکال پاتے ہیں۔ زکوۃ ایک فرض صدقہ ہے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا ہے کہ غنا(مالداری) کے بغیر کوئی صدقہ نہیں ہے۔ایسے انسان کو بھی صدقہ نہیں کرنا چاہئے کہ جوش میں مال خرچ تو کر دیا اور پھر خود بھیک مانگنے لگے۔قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’’ہم کسی پر اُس کی بساط سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتے۔‘‘(البقرہ) چنانچہ زکوٰۃ کے علاوہ صدقہ اور ضروت مند کی مدد اُسی حد تک کرنے کا حکم ہے جہاں تک آدمی کر سکتاہو۔صدقہ کر کے خود فقیر بن جانے کی اجازت نہیں ہے۔
رابطہ:6287880551,8298104514