مہاراشٹر کے شہراور بھارت کی اقتصادی راجدھانی کہلانے والی ممبئی کے رہنے والے ماں بیٹے کو صرف یہ فکر دامن گیر ہے کہ وہ اپنے قریبی رشتہ داروں کو اس بات کا یقین دلاسکیں کہ وہ جنوبی کشمیر کے پانپور قصبہ میں ایک شہری کے گھر بحفاظت لاک ڈائون کے ختم ہونے کا انتظار کررہے ہیں۔اعلیٰ قسم کے زعفران کی پیداوار کیلئے مشہور ،پانپور قصبہ شہر سرینگر سے زیادہ دور واقع نہیں ہے۔یہاں کے ایک شہری نذیر احمد نے ماہ مارچ کے وسط میں گھر جاتے ہوئے ایک غیر مقامی اوسط عمر کی خاتون اور اُس کے بیٹے کو پریشانی کی حالت میں پایا۔نذیر احمد نے دونوں کی اضطرابی حالت جاننے کے بعد اُنہیں سڑک پر چھوڑنے کے بجائے اپنے گھر لایا ۔35سالہ جاوید شیخ اپنی والدہ کے ہمراہ وادی کی سیاحت پر آیا تھا کہ اچانک کورونا وائرس کی وجہ سے بحرانی کیفیت پیدا ہوگئی اور وہ وقت پر واپس نہیں جاسکے ۔ دونوںاب گذشتہ ایک ماہ کے زیادہ عرصہ سے نذیر کے ہاں مہمان بنے ہیں۔ نذیر کے بیٹے پرنس نے راقم کو فون پر بتایا کہ جاویداور اُس کی والدہ گذشتہ ایک ماہ کے زیادہ عرصہ سے اُن کے ساتھ رہتے ہوئے اُن کے افراد خانہ جیسے ہی بن گئے ہیں۔انہوں نے مزید تفصیلات فراہم کرتے ہوئے کہا کہ جاوید اپنی والدہ کے ہمراہ کشمیر آئے تھے جب مارچ کے وسط میں کورونا وائرس سے بحرانی صورتحال پیدا ہوگئی۔ پانپور پہنچنے سے قبل دونوں کو سکریننگ کے عمل سے گذارا گیا جس کے بعد سے اُن کے سبھی اہل خانہ بشمول ہمسایہ اُنہیں ہر طرح سے خوش رکھنے کیلئے کوشاں ہیں۔
وادی کشمیر کو بھی دنیا کے دوسرے خطوں کی طرح مسلسل لاک دائون کے نتیجے میں بہت مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، لیکن یہ انتہائی حوصلہ افزا بات ہے کہ یہاں کے باشندے دوسروں کی مدد کی روایت ، جسے وہ اپنا کلچر کہتے ہیں، کو نہیں بھولے ہیں۔کشمیری عوام مصیبت کے ماروں کی مدد کیلئے ہمیشہ تیار رہنے کیلئے جانے جاتے ہیں اور اس کیلئے اُن کا طرز عمل بھی منفرد ہے۔ آج بھی جب پوری دنیا بحرانی کیفیت میں مبتلاء ہے، یہاں کے لوگ اپنے تو اپنے، غیر مقامی درماندہ لوگوں کو بھی راحت پہنچانے میں پیش پیش ہیں۔
ماہ اپریل کے ابتدائی ایام تھے کہ جنوبی ضلع شوپیان میں حکام نے ضلع بھر سے غیر مقامی مزدوروں کی بڑی تعداد کو جمع کرکے آرمباغ نامی گائوں میں قائم سرکاری سکول کی عمارت میں پہنچایا۔اُس وقت طبی ایمرجنسی کے ساتھ ساتھ انتظامیہ کو خدشہ تھا کہ مرکزی سرکار کی طرف سے جموں کشمیر کے اقامتی قانون سے متعلق نوٹفکیشن جاری ہونے کے خلاف کہیں سے کوئی رد عمل سامنے نہ آئے۔آرمباغ کے لوگوں نے دیکھا کہ اُن کے ہاں سرکاری سکول کی عمارت میں جن غیر مقامی مزدوروں کو بیسیوں کی تعداد میں لاکر رکھا گیا ہے، اُن کی حالت انتہائی ناگفتہ بہ ہے۔ظہور احمد ڈار نامی ایک مقامی شہری نے نامہ نگاروں کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا ’’ بھوک ان غیر ریاستی مزدوروں کے چہروں پر نمایاں تھی‘‘۔اُن کا کہنا تھا کہ گائوں کے بزرگوں نے نوجوانوں پر مشتمل ایک گروہ منتخب کرکے اُسے مجبور غیر ریاستی ،مزدوروں کے کھانے کا انتظام کرنے پر مامور کیا۔شاہد احمد نامی ایک اور مقامی شہری کے مطابق’’پھر کیا تھا ،بزرگوں کا حکم ملتے ہی سب کچھ آناً فاناً ہوگیا،البتہ ہمیں کام کرتے ہوئے کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ، ایک طرف ہمارے پاس مزدوروں کی بھوک مٹانے کیلئے وقت کافی کم تھااور دوسری طرف ایسا کرتے ہوئے ہمیں فاصلے برقرار رکھ کر اپنی حفاظت کا بھی خیال رکھنا تھا‘‘۔ آرمباغ گائوں کے نوجوان اپنے گھروں کی خواتین خانہ کے مشکور ہیں جن کے تعاون سے غیر مقامی مزدوروں کو اُس وقت تک کھانا فراہم کرنا ممکن ہوا جب تک حکام نے آکر اُنہیں منتقل نہیں کیا۔
گذشتہ تین دہائیوں سے جاری شورش زدہ حالات نے کشمیری عوام کو لاک ڈائون اور بندشوں کے دوران زندگی بسر کرنے کا اتنا تجربہ حاصل ہوا ہے کہ وہ موجودہ بحرانی حالت میں بھی سماج کے کمزور طبقوں، خاص کر دہاڑی مزدوروں کے بچوں کو بھوکے پیٹ سونے نہیں دیتے ہیں۔حالانکہ دنیا کے بڑے بڑے ممالک کے میٹرو پالٹین شہروں میں بھی سرکاری انتظامات کے باوجود مخصوص طبقے کے لوگ انتہائی کسمپرسی کی حالت کا شکار ہیں، لیکن چھوٹی سی وادی کشمیر کے عوام موجودہ آزمائش کی گھڑی میں بھی اپنی روایات پر مضبوطی سے قائم ہیں اور ہمت سے حالات کا مقابلہ کرتے ہوئے ضرورت مندوں کا خیال رکھے ہوئے ہیں۔
مبصرین کا ماننا ہے کہ اصل میں اہل وادی کو بندشوں کے بیچ زندگی جینے کا کافی تجربہ حاصل ہے۔پہلے نوے کی دہائی کے ابتدائی سال،بعد ازاں2008،2010،2016،2019اور اب2020نے اُنہیں اس حد تک غیر معمولی حالات میں جینے کا طریقہ سکھایا ہے کہ وہ جانتے ہیں کہ سپلائی لائنز کو کیسے کامیابی کے ساتھ کھلا رکھا جاسکتا ہے اور سماج کے کمزور طبقے تک کیسے پہنچا جاسکتا ہے۔ حالانکہ اس بار طبی ایمرجنسی کی وجہ سے حکومت کی طرف سے بھی عوام کی راحت رسانی کیلئے کافی کچھ کیا جارہا ہے لیکن اس کے باوجود ہزاروں لوگ مجبوری کی حالت کا شکار ہیں اور اُن کا علم مقامی لوگوں کو ہی ہے۔
پائین شہر میں حول علاقے کے رہنے والے ایک شہری کے مطابق اُن کے ہاں محلہ کمیٹیاں پہلے ہی قائم ہیں۔ غیر معمولی صورتحال کے دوران اُنہیں صرف ان کمیٹیوں کو متحرک کرنا پڑتا ہے اور باقی ماندہ کام خود بخودہوجاتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ محلہ کمیٹیوں کو اپنے آس پاس مالی لحاظ سے کمزور گھرانوں کے بارے میں معلومات ہوتی ہیں اس لئے اُن تک پہنچنے میں زیادہ مشکل درپیش نہیں آتی ہے۔
وادی کے جنوبی و شمالی علاقوں میں ان محلہ کمیٹیوں کے زیر اہتمام بیت المال بھی کام کرتے ہیں جو عام ایام میں بھی لوگوں سے چندہ وغیرہ وصول کرتے رہتے ہیں۔وہاں کے لوگ اکثر اپنی خیراتیں انہی کمیٹیوں اور بیوت المال کو دیتے ہیں تاکہ بوقت ضرورت اُن کا صحیح استعمال عمل میں لایا جاسکے۔ اننت ناگ ضلع میں ایک ایسی ہی کمیٹی ممبر کے مطابق’’ مسلسل شورش نے ہمیں ہر دم تیار رہنے کا سبق سکھایا ہے، اسی لئے بیوت المال اور ریلیف کمیٹیوں کو مستحکم بنایا گیا ہے تاکہ سخت ایام میں سماجی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے مستحق لوگوں کی مشکلات کو کسی حد تک کم کیا جاسکے‘‘۔ انہوں نے مزید کہا’’کسی بھی قسم کے حالات کے متاثرین تک تو حکومت بعد میں پہنچ جاتی ہے،لیکن مقامی کمیٹیاں اولین وقت ہی سے متاثرین اور مستحقین کا ہاتھ تھامنے کا کام کرتی ہیں‘‘۔
عوامی سطح کے بیوت المال وادی کے کم و بیش ہر علاقے میں قائم ہیں جو آزادانہ طور پر کام کرتے ہیں۔یہ تصور کوئی نیا نہیں ہے بلکہ ایسی کمیٹیوں سے متعلق ہر مہذب انسانی سماج کی تاریخ میں ذکر ملتا ہے۔لیکن مقامی ذرائع کے مطابق وادی کے حالات گذشتہ برس یعنی2019 سے کافی حد تک تبدیل ہوگئے ہیں اور ایسی کمیٹیاں چلانا اب بہت مشکل بنتا جارہا ہے۔ضلع شوپیان کے ایک شہری کا کہنا تھا’’یہاں کے حالات میں اب خیرات کرنا اور سماجی خدمت انجام دینا بھی ایک جرم گردانا جاتاہے،ہمارے سامنے ایسی درجنوں مثالیں ہیں جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ سماجی سطح پر محض انسانی خدمات انجام دینے کیلئے متحرک افراد کو سلاخوں کے پیچھے پہنچایا گیاہے‘‘۔
ایک خاتون سماجی کارکن کے مطابق کشمیریوں کیلئے سخت ایام چل رہے ہیں،ایک طرف طبی بحران سے نمٹنے کیلئے مسلسل لاک ڈائون نے اُن کی مالی حالت خراب کر رکھی ہے اور دوسری طرف مخصوص حالات میں مستحقین تک پہنچنے کو جرم گردانا جارہاہے۔اُن کا یہ بھی کہنا تھا کہ اہل وادی کے محدود ذرائع اور وسائل میں بھی ہر گذرنے والے سال کے ساتھ کمی آرہی ہے اور اگر یہی سلسلہ جاری رہا تو آنے والے وقت میں سماجی خدمت انجام دینا ناممکن حد تک مشکل ہوجائے گا۔مذکورہ خاتون نے کہا’’آخر کتنے وقت تک کشمیری لوگ ذرائع اور وسائل کی کمی کے باوجود اپنے سماج میں موجود مسائل کا مقابلہ کرتے رہیں گے،یہاں کے عوام گذشتہ تیس برس سے مسلسل ایسا کررہے ہیں لیکن اب مالی حالت کی شدیدخرابی کی وجہ سے سماجی خدمت کی انجام دہی انتہائی کٹھن ہونے کا خدشہ ہے‘‘۔سماجی ماہرین کا ماننا ہے کہ وادی کشمیر میں یتیموں، بیوائوں اور ایسے ہی محتاجوں کی بھاری تعداد موجود ہے،جاری شورش ایسے افراد میں مسلسل اضافے کا سبب ہے، ایسے میں سماجی خدمتگاروں کا قافیہ تنگ کرنا سماجی مسائل پیدا کرنے کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔ماہرین کہتے ہیں کہ محلہ کمیٹیوں کو مضبوط کرکے اُنہیں ادارہ جاتی بنانا وقت کا تقاضا ہے تاکہ سماجی ذمہ داریوں کی انجام دہی میں آسانیاں پیدا ہوں۔