رمضان المبارک کی آمد ایک ایسے وقت میں ہوئی جب کہ صرف ہمارا ملک ہی نہیں بلکہ دنیا کے بیشتر ممالک میں کورونا وائرس کا قہر جاری ہے اور قہر کے نتیجے میں دنیا کے بیشتر ممالک میں لاک ڈاؤن ہے۔ ہمارے ملک میں بھی کورونا وائرس کے بڑھتے خطرات کے پیش نظر لاک ڈاؤن کی مدت میں توسیع کردی گئی ہے، ممکن ہے کہ لاک ڈاؤن ابھی اور آگے بڑھے لیکن اکثر لوگوں کو یہ تذکرہ کرتے ہوئے دیکھا گیا ہے کہ اس مرتبہ رمضان میں کیا ہوگا ۔یاد رکھیں یہ سب صرف کہنے کی باتیں ہیں دین اسلام کی یہی خوبی ہے کہ مشکل حالات میں بہت سے مسائل میں نرمی کا معاملہ کیا گیا ہے سرکاری فرمان کو بجا لائیں اپنے گھروں ہی میں نماز تراویح کے ساتھ ساتھ تلاوت قرآن پاک کا بھی اہتمام کریں۔لاک ڈاؤن میں بھی بہت سی چیزوں کا تالا کھلا ہوا ہے ۔سوچنے سے لاک ڈائون کا تالا کْھل سکتا ہے۔
اسلام کی تعلیمات ہر دور،ہر زمانے اور ہر حالات کے لئے ہیں۔للہ کی ذات جس طرح اس کی عبادت گاہوں میں موجود ہے ٹھیک اسی طرح وہ زمین کے ہر خطے میں ہر گوشے میں بھی موجود ہے یہی وجہ ہے کہ اسلام نے عبادت کے لئے صرف مسجدوں کو مخصوص نہیں کیا ہے جیسا دنیا میں دوسرے مذاہب میں یہ تصور پایا جاتا ہے کہ عبادت صرف ان کے معبدوں میں ہی ادا ہو سکتی ہے بلکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق پوری زمین مسلمانوں کے لیے عبادت گاہ کی حیثیت رکھتی ہے ۔اس لئے مخصوص حالات میں اگر عبادتیں گھروں میں یا دوسری جگہوں پر ادا کی جائیں تو ثواب میں ذرہ برابر کمی نہیں ہوگی۔
اور اگر غور وفکر کے دائرے کو مزید وسعت دیں تو اس بات سے پردہ اٹھنے میں دیر نہیں لگے گی کہ لاک ڈاون کے ان دنوں میں بھی ہر چیز لاک ڈاؤن نہیں ہے۔یاد رکھیں قدرت جب ایک دروازہ بند کرتی ہے تو سو دروازے کھول بھی دیتی ہے۔بے شک مشکل کے ساتھ آسانی ہے ، غم نہ ہوں تو خوشی کی قدر کون کرے،، رات نہ ہو تو دن کا انتظار کون کرئے ، قید اور بندش نہ ہو تو آزادی کا مفہوم کون سمجھے ، لاک ڈاؤن ضرور ہے ، مگر ذرا غور سے دیکھو صاحب ، ہر چیز لاک ڈاون نہیں ہے۔آسمان کی طرف دیکھو سورج چاند ستارے لاک ڈاؤن نہیں ہیں۔اپنے اندر موجود خوبیوں پر نظر ڈالو تخلیق سے جڑی کوئی صلاحیت لاک ڈاؤن نہیں ہے۔اس کائنات کے سب سے بڑے تخلیق کار اپنے پروردگار سے اپنے ٹوٹے ہوئے تعلق کو جوڑو،ر روحانی فیض حاصل کرنے اور خدا سے ملاقات اور دعاؤں پر کوئی لاک ڈاؤن نہیں ہے۔اپنی سوچ اور فکر کی پرواز کو بلندیوں پر لیکر جائو ، تمہارے سوچنے اور بڑے خواب دیکھنے کا کوئی ارادہ لاک ڈاؤن نہیں ہے ۔اپنے من میں ڈوب کر اپنی ذات کے ذروں کی تلاش کرو ، تمہارا خود کو پہچاننے اور کھوجنے والا کوئی راستہ بند نہیں ہے۔اپنا نام لیکر اپنی ہستی کو آواز دو ، تمہاری آواز کے راستے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔رو رو کر اپنے گناہوں کی توبہ کریں، توبہ کے راستے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے ۔جو تم نہیں جانتے اُن علوم و فنون کو سیکھنے کی کوشش کرو ، تمہارے کچھ نیا سیکھنے کی راہ میں کوئی بندش نہیں ہے۔کوشش کریں لاک ڈاؤن میں ہی نہیں بلکہ ہمیشہ ان تمام باتوں پر عمل کریں-
خداوند کریم نے اپنے بندوں کے لئے عبادات کے جتنے بھی طریقے بتائے ہیں، ان میں کوئی نہ کوئی حکمت ضرور پوشیدہ ہے۔ نماز خدا کے وصال کا ذریعہ ہے۔ اس میں بندہ اپنے معبودِ حقیقی سے گفتگو کرتا ہے بعینہ روزہ بھی خدا تعالیٰ سے لَو لگانے کا ایک ذریعہ ہے۔
حدیث مبارک میں ہے کہ رمضا ن اللہ تعالیٰ کا مہینہ ہے، جس سے پتہ چلتا ہے کہ اس مبارک مہینے سے رب ذوالجلال کا خصوصی تعلق ہے جس کی وجہ سے یہ مبارک مہینہ دوسرے مہینوں سے ممتاز اور جدا ہے۔حدیث مبارک میں ہے کہ رمضان ایسا مہینہ ہے کہ اس کے اول حصہ میں حق تعالیٰ کی رحمت برستی ہے، جس کی وجہ سے انوار و اسرار کے ظاہر ہونے کی قابلیت و استعداد پیدا ہوکر گناہوں کے ظلمات اور معصیت کی کثافتوں سے نکلنا میسر ہوتا ہے اور اس مبارک ماہ کا درمیانی حصہ گناہوں کی مغفرت کا سبب ہے اور اس ماہ کے آخری حصہ میں دوزخ کی آگ سے آزادی حاصل ہوتی ہے۔
اللہ کی رحمتوں'برکتوں' اور نعمتوں والا مہینہ جاری ہے ۔اللہ تعالیٰ کا قرب اور خوشنودی حاصل کرنے کیلئے ،اللہ تعالیٰ کی رحمتوں و برکتوں سے فائدہ اْٹھانے کے لئے،اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگنے اور مغفرت طلب کرنے کے لیے، جہنم سے نجات پانے کے لئے،جنت کے وارث بننے کیلئے اورہزار مہینوں کی عبادات اپنے نامہ اعمال میں لکھوانے کیلئے رمضان کے اس نیکیوں کے موسم بہار سے فائدہ اٹھائیں۔ اللہ جل مجدہ ہمیں رمضان المبارک کے مہینے کے ساتھ ساتھ ان تمام احکام الہیہ کو ،جو ہمارے اوپر فرض کیے گئے ہیں، کو مکمل طور پر ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین
رابطہ: 7860601011
asimtahirazmi786.blogspot.com