کل جو آثار تھے مبہم انہیں معنی دے دو
اپنے لفظوں کو حقیقت کی روانی دے دو
سیل طاقت کا نگل جائے گا یک لخت تمہیں
کیوں نہ ہر ردِ عمل کو نیا پانی دے دو
ہرمحب وطن کواس بات پر بڑاتعجب ہورہاہے کہ ’ہندتوا‘ کے نام پر مخصوص سوچ کے حامل لوگ کس طرح نفرت کازہر پھیلا رہے ہیں اورملک کوبانٹنے کے لیے کیسی کیسی حرکتیں کررہے ہیں۔ اب توہسپتال میں کورونا سے متاثرلوگوں کو ’ہندووارڈ‘اور’مسلم وارڈ‘میں بھی بانٹ دیاگیاہے۔ اپوزیشن کے ہنگامے اورسخت مخالفت کے بعدہسپتال کے ڈاکٹروں نے صاف لفظوں میں اعتراف کیا کہ ایساکرنے کے لیے حکومت نے انھیں ہدایت دی تھی۔ تبلیغی جماعت کا مسئلہ ابھی ٹھنڈا بھی نہیں ہوا تھا کہ ایک اورمتنازعہ قدم اٹھالیاگیاجب کہ بیماری کاکوئی دھرم نہیں ہوتا۔ہم ڈاکٹروں کو میڈیکل کی تعلیم کے دوران یہ باربار بتایا جاتاہے کہ بیماری کی نہ ذات ہوتی ہے، نہ رنگ اورنہ ہی کوئی نسل بلکہ ڈاکٹرکاکام تمام سماج کے لوگوں کے ساتھ بغیرکسی بھیدبھاؤ کے انھیں اچھی طرح دیکھ بھال کرناہوتاہے۔مگر ہندوستان کی تاریخ میں ایسا پہلی باردیکھاجارہاہے کہ نفرت کازہر شفاخانوں میںبھی داخل ہوچکاہے اور اس سے متاثرہوکر کچھ ڈاکٹر بھی مسلم مریضوں کے ساتھ امتیازی سلوک اختیارکررہے ہیں۔یہ باتیں ڈھکی چھپی نہیں ہیں بلکہ اخباروں کے حوالے سے عوام تک پہنچ رہی ہیں۔ حد تو تب ہوگئی جب تبلیغی جماعت کے کارکنوں یا جس نے کبھی تبلیغی اجتماع میں شرکت کی تھی، اس کی خبرپولیس(حکومت) کودینے کیلئے 5ہزار روپے کاانعام تک مقررکر دیاگیا۔ ابھی تک توکچھ محلوں،شہروں اورگاؤ ں سے مسلمان سبزی فروشوںودکان داروں کے بائیکاٹ کی خبرآرہی تھیںلیکن اب یہ اطلاع بھی عام ہورہی ہے کہ کچھ غیر مسلم علاقوں میں تومسلمانوں کے داخلے پربھی پابندی لگائی گئی ہے اور جگہ جگہ اس پرعمل درآمد کرنے کیلئے پوسٹربھی لگائے گئے ہیں۔اب تو عالم یہ ہے کہ کسی داڑھی والے شخص کوراستہ سے گزرتے ہوئے دیکھ کر کچھ شریر یہ کہہ کراشارہ کرتے ہیں کہ ’یہ دیکھوکورونا جارہاہے، اس سے دور ہی رہنا‘۔ ایسی خبروں کو دیکھ اور پڑھ کرہر محب وطن شہری کا مضطرب ہونافطری ہے۔
نفرت آمیزخبریں ابھی تک صرف کچھ اخباروں تک محدود تھیں مگراب توتقریباً تمام روزناموںمیں جلی سرخیوں کے ساتھ ایسی خبریں شائع ہورہی ہیں۔ یہ دیکھ کرسخت حیرانی ہوتی ہے کہ ہمارااَپراور مڈل کلاس طبقہ کتناڈرپورک ہوگیاہے کہ سچ بات کہنے سے بھی ڈرتا ہے، جس کی بہت سی مثالیں ہیں۔ ان میں کچھ لوگ ہیں جو انگلی کٹاکرشہیدوں میں شامل ہونے کیلئے سمینار، مذاکرے، افطار پارٹیاں منعقد کراکر مسلمانوںسے قربت کااظہار کرکے شہرت بٹورنے میں ضرورلگے ہیں۔ شمالی ہندوستان میں اس طرح کی سینکڑوں انجمنیں ہیں جن کاکام صرف نام ونمود حاصل کرنا ہے۔ابھی ایک اخبار کے ذریعہ یہ معلوم ہواکہ کچھ بڑے مالدار اور اثرورسوخ والے لوگوں نے ملک کے مسلمانوں کاایک تھنک ٹینک بنانے کااعلان کیاہے۔ ان لوگوںکی حالت یہ ہے کہ ان میں سے اکثر لوگوںنے مسلمانوں کیلئے کوئی قابل ذکر کام نہیں کیا ہے،جس کی تعریف کی جاسکے۔البتہ یہ سب تحریروتقریر کے بادشاہ ہیں اوران میں سے اکثر نے حکومتی مراعات بھی حاصل کررکھی ہیں۔
سب سے زیادہ براحال ہماری سیاسی قیادت کاہے۔ سوائے چندلیڈروں کے کسی نے قوم کیلئے کچھ نہیںکیاہے۔ ان قابل قدرلوگوںمیں حیدرآباد کے بیرسٹراسدالدین اویسی، آسام کے مولانابدرالدین اجمل اوررام پور کے اعظم خاں وغیرہ کے نام لیے جاسکتے ہیں۔آزادی کے بعد اگرمسلم قوم کا بھلاکسی نے کیا ہے، تو وہ ہے ہماری مذہبی قیادت، جس میں سبھی مکتبہ فکر کے صالح لیڈرشامل ہیں۔ان میںمولانا ارشدمدنی کانام کافی اہم ہے۔ میں انھیں سلام پیش کرتا ہوں کہ انھوںنے اپنے چندساتھیوں کے ہمراہ تبلیغی جماعت کوانصاف دلانے کے لیے سپریم کورٹ کادروازہ کھٹکھٹایا۔ اس وقت تمام مسلم جماعتوں نے جس طرح اکٹھے ہوکر حکومت کویہ واضح پیغام دیا کہ’ مسلمانوں میں اتحاد کی داغ بیل پڑچکی ہے‘ یہ نہایت خوش آئند بات ہے۔ حالانکہ انہی مذہبی لیڈروں میں سے بعض ایسے بھی ہیں جنھوں نے مسجدیں، قبرستان تک بانٹ رکھے ہیں۔ منووادی قوتوں کویہ بات اچھی طرح معلوم ہے کہ اگر اقلیت اکٹھا ہوجاتی ہے تواس کی طاقت اتنی ہوجائے گی کہ وہ زمین اورحکومت دونوں کوہلاسکتی ہے اورویسے بھی ہندوستانی مسلمان موم کی ناک نہیں ہیں جو گرمی سے پگھل جائے گی۔ یہ وطن ان کی جان اور ایمان کاحصہ ہے۔ اس کی جمہوریت اورآئین کوبچانے کیلئے وہ کچھ بھی کرسکتے ہیں۔ اسی لیے اب وہ کورونا کی بیماری سے اپنی بساط کے مطابق لڑرہے ہیںاوراس میں بڑھ چڑھ کر عطیہ بھی دے رہے ہیں۔ایک جگہ ایسا بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ دومسلم بھائی اپنی زمین بیچ کر اس مہاماری میںغریبوں کے لیے کھانے پینے کاسامان دے رہے ہیں۔ اس طرح مسلمان ملک کو بچانے کے لیے کسی بھی حدتک جانے کا واضح پیغام بھی دے رہے ہیں۔حالانکہ ملک میں اس کے باوجود مسلمانوں کے خلاف نفرت کا ماحول روزبروزبڑھتاجارہاہے اوراگریہی سب آگے بھی چلتارہے گاتویہ وائرس ہمارے ملک کو تباہ کردے گاجیسے مغربی ممالک کو پست کرچکاہے۔لہٰذانفرت کے اس سیلاب سے لڑنے کیلئے ملک کے تمام لوگوںکومتحد ہوناچاہیے۔خاص طور سے مسلمانوں کو اپنے اندر اتحادپیداکرکے ایک موؤمنٹ چلانی چاہیے جس سے گاؤوں،قصبوں اورشہروں کی سطح پراس نفرت کا مقابلہ کیاجاسکے،کیوں کہ اگر مسلمان اس بار بھی اکٹھے نہیں ہوئے توہماری تباہی یقینی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ خدائی مدد ہمیں ان برے حالات سے بچالے۔
حالانکہ کورونا اللہ کاعذاب بن کر ان تمام مغربی طاقتوںکوپست کرچکاتھاجواپنے آپ کو ناقابل تسخیرہونے کادعویٰ کرتے تھے۔مگرہمارے یہاں کی فسطائی طاقتیں نہ جانے کس خمارمیںہیں، انھوں نے اس وبا سے ذرا بھی سبق نہیں لیا ہے ، بلکہ ظلم وستم کا اپنادائرہ مزیدبڑھادیاہے۔
دوستو!معاف کرنامیں اس موقع پر اپنے جذبات کو نہیں روک سکا۔ درحقیقت میںایک شاعرہوں جس کی دودرجن سے زائدکتابیں ہیں اور جو1982سے مسلم مسائل پرلکھ رہاہے۔ ان خیالات کوآپ تک پہنچانے کے لیے میں اخباراورقاری دونوںکاشکرگزارہوں :
ہم بہت دن جئے ہیں دنیا میں
ہم سے پوچھو کہ خودکشی کیا ہے
صدر’مرکزعالمی اردومجلس‘بٹلہ ہاؤس،جامعہ نگر،نئی دہلی25-
# : 9971730422