جموں //25مارچ سے اب تک طلاب اور مزدوروں سمیت 26ہزار افراد لکھنپور سے جموں وکشمیر میں داخل ہوئے ہیں۔جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے یہ وہ افرادہیں جو لاک ڈائون نافذ ہونے پر ملک کے مختلف علاقوں میں درماندہ ہوکر رہ گئے تھے ۔ڈپٹی کمشنر کٹھوعہ اوپی بھگت نے کشمیرعظمیٰ کو بتایا’’25مارچ کو لاک ڈائون کانفاذ کئے جانے کے بعد اب تک 26ہزار سے زائد افراد لکھنپور سے داخل ہوچکے ہیں جو مختلف جگہوں پر درماندہ ہوگئے تھے ‘‘۔انہوں نے بتایاکہ ان دنوں روزانہ ڈھائی سے 3ہزا رکٹھوعہ پہنچ رہے ہیں جنہیں سکریننگ اور مناسب طبی جانچ کے بعد اپنے اپنے اضلاع بھیجاجارہاہے ۔ان کاکہناتھا’’جو لوگ بیرون جموں وکشمیر درماندہ ہیں اور واپس آناچاہتے ہیں، انہیںاپنے اپنے علاقوں کے ضلع مجسٹریٹس سے رابطہ کرناچاہئے ‘‘۔انہوں نے بتایاکہ مزدوروں سمیت کئی لوگ حکومت کی طرف سے دی گئی ویب پورٹل پربھی اپنا اندراج کروارہے ہیں اور وہ ضلع مجسٹریٹس سے بھی رابطہ کرسکتے ہیں تاکہ انہیں گھر واپس آنے میں سہولت فراہم کی جاسکے ۔انہوں نے بتایاکہ ان کی کوشش ہے کہ سبھی درماندہ افراد کو واپس لایاجائے۔دریں اثناء ضلع مجسٹریٹ جموں سشما چوہان نے ایک حکمنامہ جاری کرتے ہوئے واضح کیاہے کہ ضلع مجسٹریٹ دفتر سے پاس کے بناشام 7بجے سے صبح 7بجے تک کسی طرح کی سرگرمیوں کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔