اسلام آباد //پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے 9 مئی سے ملک میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے نافذ لاک ڈاؤن میں مرحلہ وار نرمی کا اعلان کیاہے۔قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ’ ہم نے 13 مارچ کو لاک ڈاؤن نافذ کیا اور عوامی مقامات کو بند کیا لیکن مجھے پہلے دن سے یہی خوف تھا کہ ہمارے حالات یورپ، چین سے مختلف ہیں اور ہم نے جو لاک ڈاؤن کرنا ہے وہ مختلف ہوگا کیونکہ یہاں یومیہ اجرت پر کام کرنے والا دار طبقہ ہے اور ہمیں خدشہ تھا کہ اگر سب بند کردیا تو ان لوگوں کا کیا بنے گا‘؟۔انہوں نے کہا کہ ہم 9 مئی سے مرحلہ وار لاک ڈاؤن میں نرمی کر رہے ہیں کیونکہ ہمارے ملک میں چھوٹے دکاندار، یومیہ اجرت پر کام کرنے والے افراد، رکشہ و ٹیکسی ڈرائیورز مشکل میں ہیں، ہمیں خدشہ ہے چھوٹی اور درمیانی درجے کی صنعت مکمل طور پر بند نہ ہوجائے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے احساس پروگرام کے ذریعے لوگوں کو رقم فراہم کی ہم آگے یہ کب تک کرسکتے ہیں؟ ہمارا ٹیکس 35 فیصد کم ہوگیا ہے، برآمدات اور ریونیو میں کمی آئی ہے، حکومت کے پاس پہلے ہی پیسہ نہیں ہے اور تمام شعبے ہی مشکلات کا شکار ہیں، ایسے میں تمام متاثرین کی مدد نہیں کرسکتے۔عمران خان نے کہا کہ ہم لاک ڈاؤن کھول رہے ہیں لیکن عقلمندی سے، اگلے مرحلے میں ہماری کامیابی میں پاکستانیوں کا بہت بڑا ہاتھ ہوگا، اگر اس وقت ہم ایک قوم بن کر خود احتیاط کریں اور منظم طریقے سے اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر (ایس او پیز) پر عمل کریں۔عمران خان نے کہاکہ ہم نے تمام صوبوں کی مشاورت سے لاک ڈاؤن میں نرمی کے فیصلے کیے، پاکستان میں کیسز اور اموات کی شرح آہستہ آہستہ بڑھ رہی ہے لیکن آج ہم یہ کہہ نہیں سکتے کہ اس وبا کا عروج ایک ماہ میں آئے گا یا 2 ماہ میں آئے گا۔وزیراعظم نے کہا کہ یہ قوم کی ذمہ داری ہے کہ ایس او پیز پر عمل کریں۔عمران خان نے کہا کہ اس وقت سوا لاکھ پاکستانی بیرون ملک پھنسے ہوئے ہیں اور وہ وطن واپس آنا چاہتے ہیں اور بیرون ملک سے جو پاکستانی واپس آرہے ہیں انہیں بہت سے مسائل درپیش ہیں کہ ٹیسٹ کے لیے قرنطینہ کیا جاتا ہے لیکن وہ گھر جانا چاہتے ہیں۔