جموں //کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا(مارکسسٹ) کے رہنمایوسف تاریگامی نے کہا ہے کہ عدالت عظمیٰ کی طرف سے جموں کشمیرانتظامیہ کو جموں کشمیرمیں 4جی انٹرنیٹ سروس کی بحالی کے لئے حکم دینے سے انکار نے لوگوں کو مایوس کیا ہے کیونکہ انہیں عدالت عظمیٰ سے کافی توقعات وابستہ تھے۔انہوں نے کہا کہ اس وقت جب پوری دنیا کوروناوائرس کی وباء کاشکار ہے اور لوگوں کاانٹرنیٹ پر بھاری دارومدار ہے،اسی سہولت سے جموں کشمیر کے لوگوں کو محروم رکھاجارہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ لوگ کوروناوائرس سے متعلق معلومات کیلئے جستجو کررہے ہیں لیکن انٹرنیٹ کی2جی رفتار سے وہ یہ معلومات حاصل نہیں کرپارہے ہیں ۔ تاریگامی نے کہا کہ انٹرنیٹ کی دھیمی رفتارسے پیشہ ورگھروں میں کام کرنے سے قاصر ہیں جن میں ڈاکٹر اور طلبہ بھی شامل ہیں جو آن لائن کلاسوں میں شامل نہیں ہوسکتے۔انہوں نے کہا کہ تیزرفتارانٹرنیٹ پر پابندی کی وجہ سے کشمیریوں کیلئے گھروں میں بیٹھ کرکام کرکے اپنا روزگار کمانا مشکل ہوگیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ برس کشمیری طلاب کے کئی ماہ 5اگست کے بعد عائد کی گئی پابندیوں کی وجہ سے ضائع ہوگئے اور اس سال جب ابھی اسکول کھل ہی گئے تھے کہ کروناوائرس کی وباء کی وجہ سے ملک گیر لاک ڈائون نافذ کیاگیا۔ انہوں نے کہا کہ اسی حکومت نے آن لائن کلاسز متعارف کرائی اور یہی طلاب کو تیزرفتار انٹرنیٹ سروس روک رہی ہے جو بدقسمتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ طلاب آن لائن کلاسوں میں ناقص انٹر نیٹ رابطے کی وجہ سے شامل نہیں ہوپارہے ہیں ۔انہوں نے مزیدکہا کہ کم رفتار کے انٹرنیٹ کی وجہ سے مریض آن لائن ڈاکٹری مشورہ بھی حاصل نہیں کرپارہے ہیں جس کی وجہ سے صحت عامہ کا شعبہ بھی بری طرح متاثر ہورہا ہے۔تاریگامی نے کہا کہ اگرحکومت کے ان دعوئوں میں کوئی سچائی ہے کہ انٹر نیٹ کاغلط استعمال ہورہا ہے تو وہ اس کے تدارک کیلئے کوئی قدم کیوں نہیں اُٹھارہی ہے ،بلکہ پوری آبادی کو اس کی سز دی جارہی ہے ۔